دفاعی ضروریات کے لیے امریکا پر انحصار نہ کیا جائے

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے فیصلہ کرنے میں خود مختار ہے۔


Editorial May 05, 2016
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے فیصلہ کرنے میں خود مختار ہے۔ فوٹو؛ فائل

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے فیصلہ کرنے میں خود مختار ہے' ایف 16طیاروں کی خریداری سے متعلق پاکستان نے خود فیصلہ کرنا ہے۔ امریکا پاکستان کے ساتھ تعلقات کسی صورت خراب یا کمزور ہوتے بالکل نہیں دیکھنا چاہتا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ دنیا میں تمام ممالک اپنی دفاعی ضروریات کے مطابق خود فیصلے کرتے ہیں۔

یہ پاکستان پر منحصر ہے کہ وہ اپنی دفاعی ضروریات کیسے پوری کرے گا۔ یقیناً پاکستان کو ایف 16کی خریداری سے متعلق خود فیصلہ کرنا ہے۔ جان کربی نے کہا کہ خطے میں پاکستان کے ساتھ تعلقات انتہائی اہم اور ضروری ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کا بیان سفارتی چابکدستی اور ہوشیاری کی بہترین اور عمدہ مثال ہے۔

ایک جانب امریکا کہتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات انتہائی ضروری ہیں اور وہ باہمی تعلقات کو خراب یا کمزور ہوتا نہیں دیکھنا چاہتا اور دوسرے ہی لمحے وہ فرماتا ہے کہ ایف 16طیاروں کی خریداری سے متعلق فیصلہ پاکستان نے خود کرنا ہے' اس بیان کا واضح مطلب ہے کہ ایف 16طیاروں کے بارے میں امریکی کانگریس نے جو فیصلہ کیا ہے' وہ برقرار رہے گا یعنی پاکستان طیاروں کی پوری قیمت ادا کرے اور طیارے لے جائے۔

اگر ایسا ہی ہے تو پھر پاکستان امریکا کا اتحادی بننے کی کیا ضرورت ہے۔بدلتے ہوئے عالمی حالات کا تقاضا یہ ہے کہ پاکستان اپنی دفاعی ضروریات کے لیے دیگر ممالک سے رابطہ کرے' روس' چین' فرانس' اٹلی وغیرہ اسلحہ فروخت کرنے والے ممالک ہیں' اگر نقد ادائیگی کر کے ہی سودا کرناہے تو پھر ان میں سے کسی بھی ملک کے ساتھ ڈیل کی جا سکتی ہے بلکہ چین اور روس تو امریکا سے سستا اسلحہ دیں گے اور شاید ادھار وغیرہ بھی کر لیں۔