بنگلہ دیشی حکومت ہوش کے ناخن لے

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ بھی کہہ چکی ہےکہ اس عدالت کاطریق کاربین الاقوامی معیارکےمطابق نہیں


Editorial May 07, 2016
انتقام کی سیاست کا نتیجہ سوائے فساد اور انارکی کے کچھ نہیں نکلے گا۔ فوٹو: فائل

NOWSHERA: بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے 73 سالہ امیر مطیع الرحمن نظامی کی سزائے موت کے خلاف اپیل مسترد کر دی۔انھیں اس سال جنوری میں 1971ء کی پاکستان سے علیحدگی کی جنگ کے دوران مبینہ جنگی جرائم پر سزائے موت سنائی گئی تھی 'انھوں نے اس فیصلے پر نظرِثانی کی اپیل کی جسے مسترد کر دیا گیا۔ اب ان کے پاس صرف صدر سے رحم کی اپیل کی آپشن باقی بچی ہے۔ جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش نے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ جمعے کو یومِ دعا منایا گیا جب کہ ہفتے کو احتجاجی مظاہرے اور اتوار کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیاگیا ہے۔

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی بھی احتجاج کرے گی۔بنگلہ دیش میں مطیع الرحمان نظامی کے علاوہ جماعت اسلامی کے کئی اہم رہنماؤں کو بھی پھانسی دی جا چکی ہیں۔ وزیراعظم حسینہ واجد کی حکومت جنگی جرائم کے ٹرائبیونل کو اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم 'ہیومن رائٹس واچ' بھی کہہ چکی ہے کہ اس عدالت کا طریق کار بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہے۔

متنازعہ معاملات پر سیاسی قائدین کو سزائے موت سنانا انصاف کے اصولوں کے مطابق ہے نہ ہی سیاسی اخلاقیات اس کی اجازت دیتی ہے' بنگلہ دیشن کی وزیراعظم حسینہ واجد ملک کو مسلسل محاذ آرائی اور فساد کی طرف لے جا رہی ہیں' عوامی لیگ کی قیادت کو ہوش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ماضی کو دفن کر کے خوشگوار مستقبل کی طرف سفر کرنا چاہیے کیونکہ اسی میں ملک کی بھلائی ہے۔ انتقام کی سیاست کا نتیجہ سوائے فساد اور انارکی کے کچھ نہیں نکلے گا۔