قابلیت کا بحران

ہمارا روایتی اور نئی سوچ سے دور تعلیمی نصاب بھی جوہر قابل پیدا کرنے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے


Editorial May 10, 2016
ملک میں آج جو مسائل درپیش ہیں ان کے ذمے دار حکمران‘ ارکان اسمبلی‘ بیوروکریٹ اور اساتذہ بھی ہیں۔ فوٹو: فائل

چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس انور ظہیر جمالی نے اتوار کو کراچی میں قومی گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنا تعلیمی معیار بلند کرنا ہو گا' ججز کی تقرری میں بڑی رکاوٹ قابلیت ہے' مطلوبہ معیار پر پورا نہ اترنے کے باعث ججز کی تقرریوں میں مشکلات کا سامنا ہے' ملک میں قابل ججز کی تعداد کم ہے' تعلیمی معیار کی بہتری اور جدید ٹیکنالوجی کے بغیر انصاف کی فراہمی کے تقاضے پورے نہیں کیے جا سکتے، انصاف سب کا حق ہے اپنے حقوق کے حصول کے لیے عوام میں شعور پیدا کرنا ہو گا' ججز کو نہایت ایمانداری' جذبے اور نئی سوچ کے ساتھ کام کرنا ہو گا' بنیادی تعلیم کی اہمیت اور ضرورت ہمیشہ رہے گی۔

محترم چیف جسٹس صاحب نے جن مسائل کی نشاندہی کی ہے وہ نئے نہیں بلکہ عشروں سے دانشور اور ماہرین ان مسائل کی نشاندہی اور ان کا حل تجویز کرتے چلے آ رہے ہیں لیکن مسائل ہیں کہ کم ہونے کے بجائے روز بروز بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں' تمام تر ادارے اور وسائل ہونے کے باوجود ان مسائل کے حل نہ ہونے کا سبب وہی وجہ ہے جس کی جانب محترم چیف جسٹس' جسٹس انور ظہیر جمالی نے اشارہ کیا ہے کہ ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ قابلیت ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ملک بھر کے تمام اداروں کا یہی حال ہے' اعلیٰ عہدوں پر فائز افسران کا امتحان لیا جائے تو انتہائی مایوس کن صورتحال سامنے آئے گی کہ ان میں ایک بڑی تعداد ان عہدوں کے قابل ہی نہیں۔ اس تناظر میں مسائل کے حل نہ ہونے کی جو وجہ سمجھ میں آتی ہے وہ اعلیٰ عہدوں پر نااہل اور میرٹ سے ہٹ کر پسندیدہ افراد کی تعیناتی ہے۔

سفارش اور رشوت کے کلچر نے بھی بہت سے مسائل کو جنم دیا ہے۔ ایسے معاملات بھی منظر عام پر آ چکے ہیں کہ اعلیٰ عہدوں پر فائز یہ افراد ملک میں موجود مسائل کو حل ہی نہیں کرنا چاہتے کیونکہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ان مسائل کی موجودگی ہی ان کی بقا کی ضمانت ہے اگر قابلیت کو معیار بنا دیا گیا اور میرٹ پر تعیناتیاں کی جانے لگیں تو اعلیٰ عہدوں پر تعینات یہ شخصیات اپنے عہدوں پر فائز نہیں رہیں گی۔ تعلیمی اداروں میں تربیت دینے والے اساتذہ کے معیار کو بھی پرکھا جائے تو وہاں بھی صورت حال مختلف نظر نہیں آتی۔

ہمارا روایتی اور نئی سوچ سے دور تعلیمی نصاب بھی جوہر قابل پیدا کرنے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ ملک میں کئی قسم کی تعلیم دی جا رہی ہے اور آج تک یہ فیصلہ ہی نہیں ہو سکا کہ قوم کو ترقی سے ہمکنار کرنے کے لیے کون سی تعلیم دی جائے۔ جدید تعلیم کے نام پر قائم بڑے بڑے اداروں سے فارغ التحصیل طلبا کی اکثریت اپنی زبان' تہذیب اور ثقافت سے آشنا ہی نہیں جس کی بنا پر وہ جانتے ہی نہیں کہ ملکی مسائل کو کس انداز سے حل کیا جائے۔جب کہ سرکاری اداروں میں طلبہ کو نصاب پڑھایا جاتا ہے' اسے پڑھ کر میدان عمل میں آنے والوں کا کلچر اور تہذیب کے بارے میں سوچ الگ ہوتی ہے۔

پالیسی ساز اداروں کی جانب سے ملکی مسائل کو ان کے مطلوبہ ملکی معیار اور ضروریات کے مطابق حل کرنے کے بجائے غیرملکی پالیسیاں نافذ کرنے کا آسان سا راستہ ڈھونڈ لیا گیا اور کبھی یہ تحقیق ہی نہیں کی گئی کہ ہمیں اپنے ملکی مسائل اپنے ماحول' تہذیب اور ثقافت کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے کس طرح حل کرنا ہے۔ جو تعلیم دی جا رہی ہے اس کا سارا دارومدار رٹا سسٹم پر منحصر ہے۔

طلباء میں نئی سوچ اور تحقیق کا رجحان پیدا کرنے کے لیے حوصلہ شکنی تعلیمی اداروں میں عام نظر آتی ہے' تشویشناک امر یہ ہے کہ اس حوصلہ شکنی کے ذمے دار اساتذہ ہی ہیں۔ تعلیمی نصاب میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی قابلیت کا معیار بھی بلند کرنے کی جانب توجہ دینی چاہیے۔ حیرت انگیز امر ہے کہ ملک میں جب بھی کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ یا اقتصادی اور معاشی پالیسی تشکیل دینی ہو تو اس کے لیے بیرون ملک سے ماہرین کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ ان ملکی تعلیمی اداروں کا کیا فائدہ جہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے کے بعد ملکی ترقی کی پالیسیاں تشکیل دینے کے قابل ہی نہ ہوں۔

چیف جسٹس' جسٹس انور ظہیر جمالی نے بالکل صائب کہا کہ اداروں کو آج نئے خون' نئی سوچ اور نئی ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے' معاشرے میں بہتری کے لیے ایک دوسرے کے حقوق جاننے کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنا تعلیمی معیار بلند کرنا ہو گا۔ مسائل کے حل کی تجاویز تو سبھی پیش کرتے ہیں مگر انھیں حل کرنے کی جانب کوئی توجہ نہیں دی جاتی اور نہ کوئی ادارہ ہی انھیں حل کرنے کی ذمے داری اٹھاتا ہے۔ ملک میں آج جو مسائل درپیش ہیں ان کے ذمے دار حکمران' ارکان اسمبلی' بیوروکریٹ اور اساتذہ بھی ہیں۔ حکمران طبقے نے کبھی یہ کوشش ہی نہیں کی کہ ایسی پالیسیاں تشکیل دی جائیں جس میں عوام کے ہر طبقے کو ترقی کی دوڑ میں شامل کیا جا سکے۔ غیرملکی درآمد شدہ پالیسیوں سے صرف ایک مخصوص طبقے ہی کو مستفیض کیا جاتا ہے۔

جب تک معیار تعلیم کو بلند کرنے کے ساتھ ساتھ روایتی سوچ میں تبدیلی لا کر نئی سوچ اور ٹیکنالوجی کو فروغ نہیں دیا جائے گا ملکی مسائل حل نہیں ہوں گے۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے پالیسیاں کون تشکیل دے گا کیونکہ پالیسی ساز اداروں کی جو کارکردگی اب تک سامنے آئی ہے اس نے پوری قوم کو مایوس کیا ہے۔