شمالی کوریا میں جمہوری عمل کا اشارہ

کم جونگ اْن نے کہا ہے کہ جنوبی کوریا سے اتفاق رائے اور اعتماد سازی کے لیے زیادہ بات چیت کی ضرورت ہے


Editorial May 10, 2016
یہ شمالی کوریا کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے جس میں خطے پر جنگ کے منڈلاتے سائے ہٹ جائیں تو جنوبی کوریا سے مفاہمت کا در بھی کھل سکتا ہے۔ فوٹو : فائل

FAISALABAD: شمالی کوریا کے ذرایع ابلاغ کے مطابق ملک کے رہنما کم جونگ اْن نے کہا ہے کہ ان کا ملک اس وقت تک جوہری ہتھیار استعمال نہیں کرے گا جب تک ملکی سلامتی کو خطرہ لاحق نہیں ہو گا۔ کم جونگ اْن نے اپنے ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے ایک وسیع البنیاد پلاننگ کا بھی اعلان کیا۔ شمالی کوریا میں 35 سال سے زائد عرصے کے بعد حکمراں جماعت کا گزشتہ روز اجلاس جاری رہا جو ایک طرح سے جمہوری عمل کی طرف جانے کا اشارہ ہے جس میں پارٹی کے قائد کم جونگ اْن نے کہا ہے کہ جنوبی کوریا سے اتفاق رائے اور اعتماد سازی کے لیے زیادہ بات چیت کی ضرورت ہے۔

کانگریس کے اجلاس میں کم جونگ اْن کے اہم خطاب کی تفصیلات اخبارات اور ریڈیو و ٹیلی ویژن سے جاری ہوئیں۔ مبصرین کے مطابق شمالی کوریا خطاب میں انھوں نے ملکی اقتصادیات کی بحالی کے ساتھ ساتھ لوگوں کے رہن سہن کے اندر تبدیلیاں لانے کا جو عندیہ دیا ہے وہ خوش آیند ہے ۔ 1980ء کے بعد پہلے اجلاس میں جماعت کے ہزاروں کارکن کم جونگ اْن کی حمایت کے اظہار کے لیے شرکت کر رہے ہیں، اس اجلاس میں نئی سینٹرل کمیٹی کا انتخاب کیا جائے گا جو اہم سیاسی عہدوں کا انتخاب کرے گی۔

کم جونگ اْن نے حکمران ورکرزپارٹی کی کانگریس میں شریک مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے جوہری و معاشی ترجیحات کو واضح کیا اور کہا کہ دنیا سے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی بھرپور کوشش کے ساتھ ساتھ حکومت عوامی جمہوریہ کی خودمختاری کا احترام کرنے والے ان ممالک سے تعلقات معمول پر لائے گی جو ماضی میں اس کے دشمن رہے ہیں ۔ یہ شمالی کوریا کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے جس میں خطے پر جنگ کے منڈلاتے سائے ہٹ جائیں تو جنوبی کوریا سے مفاہمت کا در بھی کھل سکتا ہے۔