سیاسی بیان بازی
ملک کی سیاست میں چار پانچ سال قبل وہ تحقیر آمیز سیاسی بیانات سننے میں نہیں آتے تھے
FAISALABAD:
ملک کی سیاست میں چار پانچ سال قبل وہ تحقیر آمیز سیاسی بیانات سننے میں نہیں آتے تھے اور اسمبلیوں میں تقاریراور ریمارکس نہیں دیے جاتے تھے جنھیں بعد میں اسمبلیوں کی کارروائی سے حذف کرا دیا جاتا تھا۔ ہر اسمبلی میں یوں تو ایوان کا وقار برقرار رکھنے کی باتیں تو بہت کی جاتی ہیں مگر ملک میں وہ کون سی اسمبلی ہے جہاں خود ارکان اسمبلی نے اسے مچھلی بازار نہ بنایا ہو۔ یہ تو شکر ہے کہ ہر اسمبلی میں ایسے ارکان کی اکثریت ہے جہاں ارکان کو بولنا نہیں آتا یا وہ جان بوجھ کر بولنے سے گریزکرتے ہیں اور خاموش رہ کر وقت گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں، حالانکہ وہ گونگے بالکل نہیں ہیں مگر اکثریت نہ جانے کیوں ایوان میں بولنا، اپنے علاقوں کی نشاندہی کرنا پسند نہیں کرتی یا بہت ہی کم بولتی ہے، البتہ تالیاں بجانا ضرور جانتی ہے۔
سندھ اسمبلی کے اسپیکر نے توکہہ دیا ہے کہ اگر میڈیا نہ ہو تو اسمبلی ارکان خوامخواہ کا شور اور ہنگامہ نہ کریں مگر بعض ارکان میڈیا میں آنے اور بریکنگ نیوزکے لیے جان بوجھ کر ایسا کرتے ہیں۔ چار عشرے قبل سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کے بعض سیاست دانوں کا اسمبلی سے باہر ضرور مذاق اڑایا تھا اور ان کے مختلف نام رکھے تھے، مگر ایوان میں ہنگامہ آرائی اگر ہوتی بھی تھی تو تہذیب کے دائرے میں ہوتی تھی۔
ارکان اسمبلی ایک دوسرے پر ذاتی حملے کرتے تھے نہ سیاست دان اسمبلی سے باہر ایک دوسرے کی پگڑی اچھالتے تھے بلکہ کافی حد تک مہذب انداز میں سیاست اور مخالف سیاست دانوں کا احترام کیا جاتا تھا۔ پہلے سیاست میں جھوٹ بھی کم بولا جاتا تھا مگر اب تو لگتا ہے کہ جھوٹ کے بغیر سیاست ہوہی نہیں سکتی اس لیے ہر کوئی بڑھ چڑھ کر جھوٹ بولتا نظر آتا ہے۔ اس سلسلے میں حکمران اور ان کے وزرا ہوں یا پی ٹی آئی والے اور ان کے رہنما کوئی بھی سچ کی سیاست کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ آج کی سیاست میں تو سابق صدرآصف علی زرداری نے بھی کہہ دیا تھا کہ سیاسی وعدے اور اعلانات حدیث و قرآن نہیں ہوتے کہ ان پرضرورعمل کیا جائے۔
ملک کے سیاست دان جھوٹے دعوے کرنے میں تو پہلے ہی مشہور ہیں اور اقتدار میں آنے کے لیے تو ہر قسم کے وعدے کیے جاتے ہیں یہ الگ بات ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد انھیں اپنے وعدے یاد نہیں رہتے یا وہ جان بوجھ کر قوم سے کیے گئے وعدے بھول جاتے ہیں تاکہ ان پر عمل نہ کرنا پڑ جائے۔ وہ وقت گزر گیا جب سیاست دان اخبارات میں شایع کرائے گئے اپنے بیانات سے منحرف ہوکر تردید کردیا کرتے تھے اور ٹیپ ریکارڈ میں محفوظ اپنی بات سے بھی انکار کردیتے تھے اب الیکٹرونکس میڈیا کے دور میں اپنی زبان سے مکرنا ممکن نہیں رہا کیوں کہ میڈیا ثبوت میں فوراً ان کی اصلیت ظاہر کردیتا ہے مگر پھر بھیبعض سیاستدان جیسے سیاست دان اپنے جھوٹ پر اڑے رہتے ہیں اور حقیقت تسلیم نہیں کرتے۔
سیاست میں پی ٹی آئی کی مقبولیت بڑھنے کے بعد عمران خان کا لب و لہجہ مسلم لیگ ن کی قیادت کے لیے بدل گیا تھا اور 2013 کے الیکشن میںحکمرانوں کو ''او'' کہہ کا پکارنا ان کا پسندیدہ لفظ بن گیا تھا جو اعتراضات کے بعد بولنا بندکیا گیا مگر اب بھی وہ حکمرانوں شرم کرو اور ڈوب مرو کہنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ دھرنے کے بعد قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی والوں کو وزیر دفاع خواجہ آصف کے منہ سے ایوان میں یہ بھی سننا پڑا تھا کہ شرم بھی کوئی چیز ہوتی ہے حیا بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔
آج کے دور میں سیاست دان تو پھر سیاست دان ہے جو اپوزیشن میں ہو یا حکومت میں دونوں نے جھوٹ بولنے کو نہ صرف اپنا حق سمجھ رکھا ہے بلکہ وہ اپنے نمبر بڑھانے کے لیے اپنی پارٹی کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے یا سرکار سے ناراض ہوکر سیاسی مخالفت کی انتہا اور بے بنیاد الزام تراشیوں اور غلط بیانیوں پر اتر آتے ہیں جو کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے، ویسے بھی کہتے ہیں کہ سیاست میں مستقل دوستی اور دشمنی نہیں ہوتی اور مفادات کے لیے سب کچھ ممکن بنالیا جاتا ہے اور اصول تو کیا اخلاقیات کو بھی جھٹلادیا جاتا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ سیاست میں منشور اور نظریات کی نہیں بلکہ مفادات کی اہمیت ہوتی ہے۔
سیاست میں اپنے اعلانات وعدوں اور دعوؤں سے پھر جانا اب کوئی معیوب بات نہیں بلکہ یہ کچھ اب فخریہ کیا جاتا ہے جس کا ثبوت آج کل چوہدری اعتزاز احسن، شیخ رشید احمد اور دیگر دے رہے ہیں جن کے ماضی کے اور آج کے سیاسی بیانات ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں۔
گزشتہ دنوں عمران خان نے وزیراعظم کے لیے سخت الفاظ استعمال کیے جس کے بعد وزیراطلاعات نے عمران خان کو ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ مولانا فضل الرحمن بھی کہہ چکے ہیں کہ تحریک انصاف مذاق بن کر رہ گئی ہے۔
اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ بھی کہہ چکے ہیں کہ قومی اسمبلی میں فقیر بیٹھے ہیں، وزیرکہاں ہیں؟ وفاقی وزیر اکرم درانی وزیراعظم کو خوش کرنے کے لیے اپوزیشن کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا کہہ چکے ہیں۔ جب کہ پنجاب حکومت کے ترجمان زعیم قادری پی ٹی آئی والوں کی رائیونڈ جانے کی صورت میں سخت جواب دینے کا اعلان کرچکے ہیں۔ مسلم لیگ کے وزیر مملکت بھی کہاں چپ رہنے والے تھے وہ بھی ٹاک شوز میں عمران خان اور پی ٹی آئی کے لیے انتہائی سخت زبان استعمال کرچکے ہیں جب کہ عمران خان بھی اپنا اسٹیٹس نہیں دیکھتے اور وہ وزیر دفاع خواجہ آصف کو بھی لتاڑ چکے ہیں۔
پیپلزپارٹی کے سابق وزیرداخلہ سندھ ذوالفقار مرزا اپنے ہی وفاتی وزیر داخلہ رحمان ملک کو جھوٹوں کا آئی جی قرار دے چکے ہیں جب کہ وہ اپنے ماضی کے ہر دلعزیز دوست آصف علی زرداری پر متعدد الزام لگا چکے ہیں اور خود آصف علی زرداری بھی سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو بلا قرار دینے کے ساتھ ساتھ پی پی کے یا اپنے مخالفین کی اینٹ سے اینٹ بجادینے کا اعلان کرچکے ہیں۔ سیاست میں ایک دوسرے کی اور خاص کر قومی اسمبلی کے اجلاس میں ڈھاکہ جانے والوں کی ٹانگیں توڑ دینے کے اعلانات ماضی میں بھی ہوتے رہے اور پنجاب کے وزیراعلیٰ بھی اس وقت کے صدر آصف زرداری کو آڑے ہاتھوں لیچکے ہیں۔
ہمارے قومی رہنما یا مختلف پارٹیوں کے ذمے دار جب عوامی تقریبات میں اس قسم کی دھمکی آمیز اورتحقیر آمیز زبان استعمال کرتے ہیں تو ان کے کارکن بھی تالیاں بجاکر اور نعرے لگاکر حمایت کرتے ہیں، نچلی سطح پر بھی یہ اثر جارہا ہے اور سیاسی کارکن بھی اپنے رہنما کے خلاف باتیں سن کر ایک دوسرے سے لڑنے میں دیر نہیں کرتے ۔ ایک دوسرے کی تحقیرکا سیاسی کلچر فروغ پاچکا ہے اور ان کارکنوں کے قائدین جب خود ہی اپنی زبان قابو میں نہیں رکھتے تو ان کے کارکن کیسے پیچھے رہ سکتے ہیں اور آپس میں جھگڑتے ہیں۔
سیاست میں کبھی شرافت اور تہذیب کی بڑی اہمیت ہوتی تھی جو قائدین نے خود ختم کردی ہے جس سے سیاست میں تشدد فروغ پارہا ہے جو مستقبل میں بڑے پیمانے پر نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے، اسی لیے ابھی وقت ہے کہ سیاسی رہنما سیاست میں محتاط رہ کر تقریریں اور بیان بازی کیا کریں اور سیاست کو سیاست ہی رہنے دیں۔ دشمنی نہ بننے دیں۔