ماحولیاتی آلودگی پر یواین او کی تشویش

ڈبلیو ایچ او کے مطابق ماحولیاتی آلودگی سے لاکھوں کی تعداد میں بچے بھی پیدائش کے بعد زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہ پاتے


Editorial May 14, 2016
شہری آبادیوں میں ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ تشویشناک سطح پر پہنچ گیا ہے فوٹو : فائل

WASHINGTON: عالمی سطح پر ماحولیات کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تواتر کے ساتھ عالمی کانفرنسیں منعقد ہوتی رہتی ہیں مگر زیادہ تر ''نشستند و گفتند و برخاستند'' والا معاملہ ہی ہوتا ہے (یعنی بیٹھے، باتیں کیں اور مجلس برخاست ہو گئی)۔ کانفرنس میں طے کیا جاتا ہے کہ کارخانوں سے زہریلی گیسوں کے اخراج میں مناسب کمی کی جائے گی مگر یہ خطرناک کارخانے انھی ممالک میں ہیں جو دنیا کی معیشت پر حاوی ہیں لہٰذا اس قسم کی عالمی کانفرنسوں میں زبانی جمع خرچ کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا، جو فیصلے کیے جاتے ہیں ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا لہٰذا ماحولیاتی صورتحال بدستور خراب ہوتی رہتی ہے۔

ماحولیاتی آلودگی کا ایک نتیجہ ''گلوبل وارمنگ'' کی شکل میں بھی ظاہر ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں ایشیائی اور افریقی ممالک میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے جنیوا میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کا ایک اہم اجلاس گزشتہ روز منعقد ہوا جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی سے 30 لاکھ سے زیادہ انسان ہر سال ہلاک ہو رہے ہیں جب کہ انسانی صحت کو مہلک بیماریاں بھی لاحق ہو رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کے اس ادارے کے مطابق بڑے شہروں میں رہنے والے ہر پانچ افراد میں سے چار افراد کو ڈبلیو ایچ او کے طے شدہ معیار کے مطابق ماحول میسر نہیں ہے جب کہ غریب ممالک میں 98 فیصد آبادی ماحولیاتی آلودگی کے مہلک اثرات کا شکار بنتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق ماحولیاتی آلودگی سے لاکھوں کی تعداد میں بچے بھی پیدائش کے بعد زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہ پاتے۔ ڈبلیو ایچ او نے دنیا کے 103 ممالک میں 3 ہزار سے زاید شہروں قصبوں اور دیہات میں آلودگی کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ ان ممالک کے شہروں ہوا زہر آلود ہو چکی ہے۔ اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 2008 کے بجائے 2013 میں فضائی آلودگی میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی طرف سے یہ خبر بھی جاری کی گئی ہے کہ عالمی سطح پر شہروں کی فضائی آلودگی کی سطح میں 8 فیصد کے حساب سے اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔

شہری آبادیوں میں ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ تشویشناک سطح پر پہنچ گیا ہے اگرچہ بڑے صنعتی ممالک کے مقابلے میں پاکستان جیسے تیسری دنیا سے تعلق رکھنے والے ممالک کی طرف سے فضائی آلودگی میں اضافہ کی شرح بہت کم ہے مگر پھر بھی بعض علاقوں میں فیکٹریوں کے زہریلے مواد کو لاپرواہی سے ندی نالوں اور دریاؤں میں بہا دیا جاتا ہے جس کے نہایت مضر رساں اثرات برآمد ہوتے ہیں جب کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے نگران ادارے بھی اتنی خطرناک حرکت سے چشم پوشی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ جینوا کانفرنس میں بھارت کے کئی شہروں کا بھی آلودگی کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے جن میں دارالحکومت نئی دہلی اور صنعتی شہر گوالیار، احمدآباد اور پٹنہ بھی شامل ہیں۔