جمہوری حکومتوں کی بلدیات دشمنی

سندھ ہائی کورٹ نے حکومتی ترامیم کو غیر قانونی قرار دیا تو سندھ حکومت سپریم کورٹ چلی گئی


Muhammad Saeed Arain May 17, 2016

مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی اورسابق قومی تعمیر نو بیورو کے چیئرمین دانیال عزیز نے کہا ہے کہ کے پی کے میں تحریک انصاف کی حکومت نے بلدیاتی نظام کا بیڑا غرق کردیا ہے جس کی وجہ سے بلدیات کے منتخب نمایندے بے اختیار، بلدیاتی ادارے مفلوج اور نچلی سطح کے لیے منتخب نمایندے سخت پریشان ہیں۔

سندھ میں اپوزیشن لیڈر اور متحدہ کے رکن اسمبلی خواجہ اظہار الحسن اورکراچی کے نامزد میئر وسیم اختر بھی کہہ چکے ہیں کہ سندھ حکومت نے منتخب بلدیاتی اداروں کو مذاق بناکر رکھ دیا ہے اور ملک کے سب سے بڑے شہر کی بلدیہ عظمیٰ سے اہم ادارے چھین کر اپنے کنٹرول میں لے لیے ہیں اور سندھ کے بلدیاتی اداروں کو اختیارات دینے کی بجائے چھینے جا رہے ہیں اور اہم ادارے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ، کے بی سی اے، صفائی کی ذمے داری اور تمام ترقیاتی اداروں بلدیہ عظمیٰ سے واپس لینے کے علاوہ بلدیاتی اداروں کی خود مختاری ختم کرکے انھیں اپنا مکمل محتاج بنا دیا ہے۔ متحدہ کے اپوزیشن لیڈر نے سندھ حکومت پر کراچی کی تباہی کے بھی الزامات عائد کیے ہیں۔

بلوچستان میں جمہوری حکومت نے تقریباً دو سال قبل سپریم کورٹ کی ہدایت پر بلدیاتی انتخابات کے بعد ایک سال تک بلدیاتی عہدیداروں کے انتخابات نہیں کرائے تھے اور تاخیرکا جواز عدالتوں میں بلدیاتی معاملات زیر سماعت ہونے کو قرار دیا تھا حالانکہ بلوچستان کی سابق حکومت نے بھی بلدیاتی اداروں ان کے چیئرمینوں اور کونسلروں کے اختیارات اور طریقہ انتخاب اپنی مرضی اور من مانی کے لیے محدود کردیے تھے جس کی وجہ سے بلدیاتی نمایندوں کو عدلیہ سے رجوع کرنا پڑا تھا جس سے ایک سال کی تاخیر ہوئی اور یہی کچھ پنجاب اور سندھ کی نام نہاد جمہوری حکومتوں نے کیا ہے۔

سندھ حکومت نے تو حد کردی ہے۔ مخصوص نشستوں اور بلدیاتی عہدیداروں کے انتخابات میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے سندھ اور پنجاب حکومت میں خفیہ طریقے سے انتخابات کرانے کی بجائے شو آف ہینڈ کی پابندی لگائی اور آزاد امیدواروں سے ان کی آزادی چھیننے کے لیے انھیں کوئی پارٹی جوائن کرنے کی پابندی عائد کی اور من مانے قوانین اور ترامیم اکثریت کے زور پر منظورکیے۔ کہیں متناسب نمایندگی پر نشستیں الاٹ ہونے کا ڈرامہ کرنے کی کوشش کی اور ایسی من مانیوں میں الیکشن کمیشن بھی سندھ و پنجاب حکومتوں کا حواری بنا رہا۔ الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات میں تاخیر پہ تاخیر ہونے میں صوبائی حکومتوں کا ساتھ دیا۔

سندھ ہائی کورٹ نے حکومتی ترامیم کو غیر قانونی قرار دیا تو سندھ حکومت سپریم کورٹ چلی گئی اور تاخیر خود جان بوجھ کرکراتی رہی اور الزام اپوزیشن پر عائد کرکے عوام کو گمراہ کرتی رہی۔ سپریم کورٹ میں بھی سندھ حکومت کی بددیانتی ثابت ہوگئی اور فیصلہ حکومت کے خلاف آیا جس پر سپریم کورٹ نے دو ماہ میں بلدیاتی انتخابات کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت کی تو الیکشن کمیشن نے تاخیر کرکے مخصوص نشستوں کے انتخابات پر عمل شروع کردیا اور سندھ حکومت پھر بھی باز نہیں آئی اور من مانی کرتی آرہی ہے۔

جس پر اپوزیشن حکومت پر سپریم کورٹ کے فیصلے سے انحراف کا الزام لگا کر پھر عدلیہ سے رجوع کرنے کی بات کر رہی ہے جس سے مزید تاخیر ہوگی اور حکومت ذمے دار پھر اپوزیشن کو قرار دے گی مگر اپنی بلدیات دشمن پالیسی ترک نہیں کرے گی اور بلدیاتی اداروں کو اختیارات نہیں دے گی۔عدالت عظمیٰ پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ اگر بلدیاتی اداروں کو جائز اختیارات بھی صوبائی حکومتوں نے نہیں دینے تھے تو بلدیاتی انتخابات کرانے کی ضرورت ہی کیا تھی۔

سابق پیپلز پارٹی کی سندھ، (ن) لیگ کی پنجاب، اے این پی کی کے پی کے اور بلوچستان کی مخلوط حکومتوں نے اپنے پانچ سال ضرور مکمل کرلیے تھے مگر بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے تھے اور بلدیاتی ادارے اپنے کنٹرول میں رکھ کر پانچ سال مکمل من مانیاں کیں اور سرکاری ایڈمنسٹریٹروں کے ذریعے ہر بلدیاتی ادارے میں ضرورت سے کہیں زیادہ اپنے کارکن بھرتی کرائے کرپشن کے ریکارڈ قائم کیے گئے بلدیاتی اداروں کے فنڈز اپنی مرضی سے خرچ کرائے جس کا سب سے بڑا ثبوت بلوچستان کے سیکریٹری خزانہ کی گرفتاری اور کروڑوں روپے کی برآمدگی ہے جو بلدیاتی اداروں کی رقم تھی جو انھیں نہیں دی تھی۔

سندھ میں بلدیاتی عہدیداروں میں مزید تاخیر کے لیے سندھ کے ریٹرننگ افسروں نے حکومت کے کہنے پر سیکڑوں آزاد طور پر منتخب ہونے والے چیئرمینوں اور کونسلروں کو مخصوص نشستوں کے انتخاب میں حصہ لینے سے محروم کردیا ہے اور سندھ کی اپوزیشن پھر عدلیہ کے پاس جانے پر مجبور کردی گئی ہے۔سندھ اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا آخری مرحلہ پانچ دسمبر کو مکمل ہوگیا تھا اور دو ماہ بعد ان کی حلف برداری بھی ہوگئی تھی بلدیاتی انتخابات مکمل ہوئے 5 ماہ گزر چکے ہیں مگر سندھ اور پنجاب کی بلدیات دشمن حکومتیں اب بھی نچلی سطح پر عوام کے منتخب نمایندوں کو اختیارات دینے میں مخلص نہیں ہیں اور دونوں حکومتوں نے جان بوجھ کر ایسے متنازعہ بلدیاتی قوانین اپنی اسمبلیوں سے منظور کراتی ہیں جو کسی طرح بھی منتخب بلدیاتی نمایندوں کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتے کیونکہ ملک بھر میں چاروں صوبائی حکومتوں نے بلدیات دشمنی میں بلدیاتی اداروں اور نو منتخب چیئرمینوں اور کونسلروں کے اختیارات انتہائی محدود کردیے ہیں۔

جس کی نشاندہی راقم کے ایکسپریس میں شایع ہونے والے کالموں میں کی جاچکی ہے اور چار ماہ قبل یہ بھی لکھا جاچکا ہے کہ سندھ و پنجاب کی حکومتیں جولائی سے پہلے بلدیاتی اداروں کو اختیارات دیں گی نہ ہمارا الیکشن کمیشن انتخاب کرائے گا کیونکہ الیکشن کمیشن بھی بلدیاتی الیکشن کے خلاف ہے اور اس نے اپنی ذمے داری پوری نہیں کی بلکہ وقت پر بلدیاتی انتخابات نہ کراکر الیکشن کمیشن بھی چاروں صوبائی حکومتوں کی طرح آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوچکا ہے اور سپریم کورٹ کو آئین کی کھلی خلاف ورزی پر ایکشن لینا چاہیے تھا جو نہیں لیا گیا اور سپریم کورٹ کی ڈھیل کے باوجود الیکشن کمیشن اور سندھ و پنجاب کی حکومتیں بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنا رہی ہیں نہ بلدیاتی اداروں کو کام کرنے کا موقع دے رہی ہیں۔5 ماہ قبل منتخب بلدیاتی نمایندوں کو اپنے اداروں کا سال 2016-17 کا بجٹ بنانے کا اختیار ملنا چاہیے تھا مگر نام نہاد جمہوری حکومتوں نے ایسا نہیں کیا۔

نئے بجٹ بھی سرکاری ایڈمنسٹریٹروں سے بنوا کر پاس کرائے جائیں گے اور رواں سال کا بجٹ خرچ کرکے اور قرضے چڑھانے کے بعد ممکن ہے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق جولائی میں بلدیاتی سربراہوں کو بے اختیار اور محدود چارج دے دیا جائے جس کے بعد نو منتخب سرکاری طور پر بنائے گئے بجٹ اور قرضے دیکھ کر سر پکڑکر بیٹھ جائیں گے اور ان کے سردرد میں اضافہ ہوجائے گا اور وہ اپنے ووٹروں کی توقعات پر کبھی پورا اترنے جیسے نہیں رہیں گے، وہ بنیادی مسائل حل کرانا تو دور کی بات اپنے اداروں کے ملازمین کو تنخواہیں بھی نہیں دے سکیں گے اور بری طرح ناکام ثابت ہوں گے اور بلدیات دشمن جمہوری صوبائی حکومتیں چاہتی بھی یہی ہیں تاکہ نچلی سطح پر منتخب عوام کے نمایندے وہ کچھ نہ کرسکیں جس کے لیے وہ منتخب ہوئے تھے۔

مقبول خبریں