سنجیدہ کوئی بھی نہیں
قومی اسمبلی میں وزیراعظم نواز شریف کے خطاب کے بعد اپوزیشن نے تقریر سے مایوس ہوکر بائیکاٹ کردیا
قومی اسمبلی میں وزیراعظم نواز شریف کے خطاب کے بعد اپوزیشن نے تقریر سے مایوس ہوکر بائیکاٹ کردیا اور پریس کانفرنس کی، جس کے جواب میں وفاقی وزیروں نے بھی پریس کانفرنس میں اپوزیشن کو جواب دے دیا اور وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ وہ پانامہ لیکس کے معاملے میں تحقیقات کے لیے سنجیدہ نہیں ہے اور وہ صرف اپنی پسند کی تحقیقات چاہتی ہے اور اگر وہ اس سلسلے میں سنجیدہ ہے تو وزیراعظم کی پیشکش کے مطابق مشترکہ پارلیمانی کمیٹی پر راضی ہوکر تمام معاملات پر تحقیقات پر آجائیں اور تحقیقات کا طریقہ کار طے کر لے۔
اپوزیشن وزیراعظم سے قومی اسمبلی میں آکر پانامہ لیکس کے معاملے اور اپنے سات سوالات کا جواب چاہتی تھی جس پر پہلے وزیراعظم راضی نہ تھے مگر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے جواب کے بعد وزیراعظم قومی اسمبلی میں آئے اور اپنی لکھی ہوئی تقریر ایوان میں سنا گئے، جس کا تفصیلی جواب فرینڈلی اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے دے کر ایوان کا قیمتی وقت ضایع کرنا مناسب نہ سمجھا اور یہ کہہ کر چلتے بنے کہ وزیراعظم نے اپوزیشن کے کسی ایک سوال کا جواب نہیں دیا اور سات سوالات کے جواب میں ستر دیگر سوالات چھوڑ گئے اور اپنی تقریر میں وہ بھی کہہ گئے جس کا افسانے میں ذکر بھی نہ تھا۔ خورشید شاہ کے بعد اسپیکر نے عمران خان کو خطاب کی دعوت دی مگر اپوزیشن جماعتیں ایوان سے واک آؤٹ کرگئیں اور باہر آکر میڈیا سے پہلے خورشید شاہ، پھر عمران خان اور بعد میں شاہ محمود قریشی نے خطاب کیا۔ درمیان میں شیخ رشید نے بھی آنا ضروری سمجھا اور ایوان میں موجود تعداد ہی بتا پائے۔
قوم نے پہلی بار یہ بھی دیکھا کہ میڈیا ٹاک میں عمران خان، خورشید شاہ اور شاہ محمود قریشی کے پیچھے اپنے کاغذات لیے کھڑے رہے اور شاہ محمود قریشی نے بھی خود پیچھے ہوکر اپنے لیڈر کو خورشید شاہ کے برابر لانا ضروری نہ سمجھا اور خورشید شاہ کے بعد عمران خان آگے آئے اور لندن میں اپنے ذاتی فلیٹ کی تفصیل پیش کرکے چلتے بنے۔ جب کہ اپنے فلیٹ کی صفائی میں وہ اجلاس سے پہلے بھی میڈیا سے دو بار بات کرچکے تھے پھر بھی انھوں نے ایوان کے بجائے باہر آکر اپنے معاملے کی دستاویزات میڈیا میں پیش کیں۔
شاید حکومت بھی یہی چاہتی تھی کہ وزیراعظم کی تقریر کے بعد کارروائی نہ چلیاور یہ کہا جا رہا ہے کہ خورشید شاہ نے بھی جان بوجھ کر مختصر خطاب کیا اور اگر وہ چاہتے تو اسمبلی کے فلور پر وزیراعظم کی تقریر کا موثر جواب دے سکتے تھے جس سے قوم کو اپوزیشن کا موقف سننے کا موقف ملتا۔ مگر لگتا ہے کہ خورشید شاہ نے حکومت سے دوستی نبھائی اور باہر آکر میڈیا بریفنگ میں عمران خان کے آگے کھڑے ہوکر قوم کو دکھا دیا کہ عمران خان لاکھ ملک میں بڑے بڑے جلسے کرلیں مگر پیپلز پارٹی ان سے آگے ہے۔
پانامہ لیکس کے معاملے میں واقعی پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی کے ہاتھوں مات کھا چکی ہے اور اس سارے معاملے میں پیپلز پارٹی پی ٹی آئی سے آگے نظر آئی اور یہ بھی نوبت آگئی کہ عمران خان پیچھے اور شاہ محمود قریشی اور اعتزاز احسن اور یہاں تک کہ شیخ رشید بھی خورشید شاہ کے برابر اور عمران خان سے آگے نظر آئے۔
حکومتی پلاننگ کے تحت وزیراعظم کو سکون سے دل کی بھڑاس نکالنے کا موقع ملا۔ اپوزیشن نے خاموشی سے وزیراعظم کو سنا اور درمیان میں صرف جمشید دستی نے چھانگا مانگا سے تحقیقات کی بات کی، مگر اسپیکر نے انھیں جھاڑ دیا۔ وزیراعظم ایک گھنٹہ تاخیر سے 'شیر آیا شیر آیا' کے اپنے حامیوں کے نعروں میں آئے اور اسپیکر نے اپنے ارکان کو نعرے لگانے سے روک دیا اور وزیراعظم کو دوران تقریر کسی بھی قسم کی مخالفانہ نعرے بازی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
قوم نے قومی اسمبلی کی براہ راست کارروائی میں یہ بھی دیکھا کہ وزیراعظم کے آنے سے قبل ایوان کافی خالی تھا اور کچھ لوگ وزیراعظم کے ہمراہ نعرے لگاتے ہوئے آئے اور حکومتی ہدایات اور اپوزیشن کی دلچسپی کے باوجود نصف ایوان بھی بھرا نہ جا سکا اور ارکان کی خالی نشستوں کی بہت بڑی تعداد جمہوریت کے دعویداروں کا منہ چڑاتی رہی اور ایک بار پھر ارکان کی عدم دلچسپی کا نظارہ دیکھنے میں آیا اور جس اجلاس کے انعقاد کا بہت شور تھا۔
اس اجلاس کا ایوان اپوزیشن سمیت حکومتی حامیوں سے خالی نظر آیا اور ارکان نے غیر حاضر رہنا ضروری سمجھا۔ اور ارکان قومی اسمبلی کی سنجیدگی کا یہ عالم تھا کہ اس اہم اجلاس میں صرف 141 ممبران قومی اسمبلی نے شرکت کی۔ سینیٹر رحمن ملک نے اس بات پر حیرت ظاہر کی ہے کہ عمران خان تقریر کیے بغیر ایوان سے باہر کیوں چلے گئے۔ عمران خان کی سنجیدگی یہ تھی کہ جس اجلاس کی طلبی کا وہ ہفتوں سے مطالبہ کر رہے تھے اس اجلاس میں اسپیکر کے اعلان کے باوجود نہیں بولے اور باہر جاکر انھوں نے اپنی پوزیشن نمبر 2 ہونے کا ثبوت دے دیا۔
وزیر اعظم نے اپوزیشن کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں دیا اور اپنی تقریر میں زیادہ تر وہی باتیں کیں جو وہ دو بار اپنے قوم سے خطاب میں کرچکے ہیں۔ وزیراعظم نے لندن میں فلیٹ خریداری اور دبئی میں اپنی ملز کی افتتاحی تقریب کی وہ تصویر دکھائی جو ان کے اقتدار میں آنے سے پہلے کی تھی جب کہ ان پر جو الزامات لگائے جا رہے ہیں وہ ان کے اقتدار کے دور کی مبینہ کرپشن سے متعلق ہیں۔ لندن فلیٹوں کی خریداری کا معاملہ اسمبلی میں صفائی پیش ہونے کے بعد مزید متنازع ہوگیا ہے، کیونکہ اس سلسلے میں وزیراعظم کا موقف اپنے صاحبزادوں کے اعتراف سے مختلف ہے، جس کی اپوزیشن نشاندہی کر رہی ہے۔
متحدہ اپوزیشن کے پانامہ لیکس کے موقف پر معترض ہوکر متحدہ نے غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا تو اپوزیشن نے بھی سنجیدگی دکھائی اور پارلیمنٹ کے اجلاسوں کے بائیکاٹ کا فیصلہ واپس لے لیا جو ایک دور اندیش سیاسی فیصلہ ہے اور اپوزیشن پیر کے دن پرامن رہنے کے بعد منگل کو کیے گئے فیصلے کے مطابق پارلیمنٹ میں حکومت کو ٹف ٹائم دے سکے گی اور پارلیمنٹ میں اپنا موثر کردار ادا کرکے عوام کو اپنی حمایت پر راغب کرسکے گی۔
پانامہ لیکس کی بنیاد پر بلاول زرداری متعدد بار وزیر اعظم سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کرچکے ہیں جس پر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی سنجیدگی یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ بلاول نے ایسا مطالبہ نہیں کیا۔
اپوزیشن کے باہمی اختلافات سے وزیراعظم کو حوصلہ ملا ہے اور ان کے متضاد موقف سے قوم کو بھی مایوسی ہوئی ہے۔ ضرورت اب اس امر کی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن واقعی سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور اسپیکر قومی اسمبلی کے ذریعے ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی پر رضا مند ہوجائیں اور ہٹ دھرمی کی بجائے دور اندیشی سے قابل عمل ٹی او آرز تیار کرلیں تاکہ معاملہ آگے بڑھ سکے۔ دونوں کی سنجیدگی ہی ملک کے لیے سودمند ہوسکتی ہے۔