انگور اڈا چیک پوسٹ حوالگی کا مسئلہ

انگور اڈا در حقیقت پاک افغان سرحد پر قائم ایک حساس چیک پوسٹ تصور کی جاتی ہے


Editorial May 24, 2016
امید کی جانی چاہیے کہ آئی ایس پی آر اور وفاقی حکومت کی طرف سے اس مسئلہ کی وضاحت جلد سامنے آئے گی، فوٹو؛ آئی ایس پی آر

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے وزیرستان کی انگور اڈا چیک پوسٹ افغانستان کے حوالے کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انگور اڈا در حقیقت پاک افغان سرحد پر قائم ایک حساس چیک پوسٹ تصور کی جاتی ہے جہاں گزشتہ چند برسوں میں افغانستان سے کئی بار شدید حملے ہوئے، 2فروری2013 ء کو افغانستان کی طرف سے انگور اڈا پر حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوئے تھے اور مارٹر گولے جنوبی وزیرستان میں جا گرے، اس کے بعد بھی وقفے وقفے سے انگور اڈا چیک پوسٹ افغان فورسز کے حملوں کی زد میں رہا، میڈیا کے مطابق وزیر داخلہ نے وزیراعظم نوازشریف کو اس ضمن میں باضابطہ طو پر ایک مراسلہ بھجوایا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ انگور اڈا چیک پوسٹ کی افغانستان حوالگی کے حوالے سے ان کے ذہن میں اہم سوالات ہیں اور وہ ان کے وطن لوٹنے تک انتظار کریں گے۔

مراسلے میں وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ایک ایک انچ زمین ہمارے پاس قومی امانت ہے، اگر اس میں سے کچھ کسی کے حوالے کرنا ہے تو اس کا آئینی و قانونی راستہ موجود ہے جو انگور اڈا چیک پوسٹ افغانستان کے حوالے کرتے وقت نہیں اپنایا گیا۔ امید کی جانی چاہیے کہ آئی ایس پی آر اور وفاقی حکومت کی طرف سے اس مسئلہ کی وضاحت جلد سامنے آئے گی، بعض ذرایع کا کہنا ہے کہ یہ ٹرانسپورٹیشن سہولت اور پاک افغان سرحد پر امن و استحکام کے تناظر میں خیر سگالی کے نقطہ نظر سے ہینڈنگ اوور ہوئی ہے ، جب کہ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ بارڈر مینجمنٹ، بارڈر کنٹرول اور سرحدی دفاع کے حوالے سے بڑی اسٹیک ہولڈر ہے لیکن انگور اڈا چیک پوسٹ افغانستان کے حوالے کرتے وقت ہمیں اعتماد میں لینا تو درکنار کوئی اطلاع تک نہیں دی گئی جب کہ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ کی لاعلمی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

ادھر گزشتہ روز پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ پاکستان نے افغانستان سے برادرانہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے وزیرستان میں واقع انگور اڈا چیک پوسٹ افغان سیکیورٹی فورسز کے حوالے کردی ہے۔ یاد رہے اس سے قبل طورخم بارڈر پر بے ہنگم آمدو رفت پر پابندی کی وجہ سے باڑ لگانے کے معاملہ پر پاک افغان فورسز میں تنازعہ ہوگیا تھا جس کے بعد افغان سفیر نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے جی ایچ کیو میں ملاقات کی تھی۔

ایک اطلاع کے مطابق افغان حکام کو دی جانے والی چیک پوسٹ پاک فوج نے خود تعمیر کی تھی، اور قیاس کیا جارہا ہے کہ یہ چیک پوسٹ اسٹرٹیجک ڈیپتھ حکمت عملی کے تحت بنائی گئی تھی جو افغان فورسز کو حوالے کی گئی ، پاکستان اپنی اصلی پوزیشن پر موجود ہے۔ آئی ایس پی آر ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ کے مطابق سرحد ی مینجمنٹ کے تحت ایشوز باہمی اتفاق رائے سے طے پانے کے پروسس کی روشنی میں یہ اقدام عمل میں لایا گیا ہے۔