ملا اختر منصور کی ہلاکت آگے بند گلی

ہماری خارجہ پالیسی بھی طالبان، افغانستان سمیت خطے کی تبدیل ہوتی صورتحال میں کسی تبدیلی کے لیے سچی تڑپ سے قاصر رہی


Editorial May 25, 2016
اب ممکنہ خطرات سے نمٹنے کی تدبیر ہونی چاہیے کہ کہیں امریکا پاکستان پر افغان طالبان کو بھڑانے پر زور نہ دے

KARACHI: امریکی صدر بارک اوباما نے طالبان رہنما ملا اختر منصور کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے پاکستان سمیت جہاں کہیں بھی امریکی مفادات کو خطرہ لاحق ہو گا تو کارروائی کریں گے۔ ہم پاکستان کے ساتھ مشترکہ مقاصد پر کام جاری رکھیں گے، پاکستان کو ان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دیں گے جو اقوام عالم کے لیے خطرہ ہیں۔ ویتنام کے دورے میں ایک بیان میں امریکی صدر نے کہا طالبان سربراہ ملا اختر منصور کی ڈرون حملے میں ہلاکت افغانستان میں امن کے لیے بڑا سنگ میل ہے۔

اوباما کے اس انتباہ نے وطن عزیز کی تزویراتی صورتحال کو دہکتے افغانستان کے حوالے سے ایک بار پھر آتشکدہ بنا دیا ہے، اس بار وار آف تھیٹر ایبٹ آباد سے ہٹ کر بلوچستان میں ضلع نوشکی کا علاقہ بن گیا ہے۔ ملا اختر منصور کے بارے میں بھی اطلاعات یہ تھیں کہ وہ ایران سے تفتان کی طرف آتے ہوئے ڈرون کا نشانہ بنے۔ ایران نے افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور کے حوالے سے ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ وہ ایران سے پاکستان میں داخل ہوا۔ پاکستانی امریکی صدر کے اس انتباہ کو بھی ذہن میں کریدنے کی ضرورت ہے جب انھوں نے کہا تھا کہ پاکستان آیندہ عشروں تک بدامنی اور عدم استحکام کا شکار رہیگا۔ صدر اوباما کے مطابق ملا منصور کی موت طالبان کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کا پیغام ہے۔

تاہم یہ بات پاکستان امریکا کو باور کراسکتا ہے کہ مذاکرات گن بوٹ ڈپلومیسی یا پاکستان کو مستقل مطعون کرتے ہوئے قطعی نہیں ہوسکتے، تاہم دشت افغانستان میں پاکستان کو پہلے سے زیادہ محتاط ہوکر امن و سلامتی کے چار رکنی عالمی کمیشن کے ساتھ کوئی بریک تھرو کا امکان پیدا کرنا ہوگا۔ ہماری خارجہ پالیسی بھی طالبان، افغانستان سمیت خطے کی تبدیل ہوتی صورتحال میں کسی تبدیلی کے لیے سچی تڑپ سے قاصر رہی ۔ ملکی سلامتی پر مامور حکام سب سے پہلے ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے ولی محمد کی تشخیص، اس کی کراچی کے گلزار ہجری میں سکونت، اور غیر ملکی دوروں کی چھان بین کریں، اور حقائق کی تہہ تک پہنچیں کہ اسے پاکستانی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کن بااثر شخصیات نے دلائے، عوام دل گرفتہ ہیں کہ افغان طالبان رہنما پاکستان کے حساس صوبہ بلوچستان میں اتنی آزادی سے کیسے سکونت پزیر رہے جب کہ حکومت سمیت سٹبلشمنٹ اس سے انکاری ہے کہ بلوچستان میں کسی افغان طالبان یا طالبان شوریٰ کا وجود ہے، اب جب کہ اسامہ کے بعد ملا اختر منصور کی ہلاکت کو امریکا سنگ میل قراردے رہا ہے تودعا ہے کہ اللہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی سمت درست رکھے یا ہمارے حکمرانوں کو صورتحال کی سنگینی کا ادراک ہو اور وہ ریت سے سر نکالیں ۔

اسامہ بن لادن کی پراسرار ہلاکت کے بعد اب ہائی پروفائل طالبان امیر المومنین ملا منصور کی بلوچستان میں ڈرون حملے میں ہلاکت ملک کے لیے بہت برا شگون ثابت ہوسکتا ہے ۔ تاہم اسے ٹارگٹ کر کے امریکا نے پاکستان کی خود مختاری کی سنگین خلاف ورزی کی ہے، پیر کو غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغانستان میں روس کے خصوصی ایلچی ضمیر کابولوف نے کہا کہ ملا اختر منصور کو ہلاک کرنے کے لیے حملہ مبینہ طور پر پاکستان کے اندر کیا گیا جو اسلام آباد کی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کی خلاف ورزی ہے ۔

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی علاقائی سالمیت کا احترام کرتے ہیں۔ ملا منصور کی ہلاکت تشدد نہ چھوڑنے والوں کے لیے سخت پیغام ہے۔ ملا منصور کے ایران جانے سے متعلق کوئی علم نہیں ہے۔ ایران نے افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور کے حوالے سے ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ وہ ایران سے پاکستان میں داخل ہوا اور اس کے بعد بلوچستان کے علاقے میں امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا۔بلاشبہ ملا اختر منصور کو نشانہ بنانے کے لیے امریکی ڈرون حملہ بلوچستان میں پہلا ڈرون حملہ تھا جو طویل عرصے سے پاکستان کے لیے 'ریڈ لائن'رہا۔ لانگ وار جرنل کے ڈیٹا بیس کے مطابق2004 سے اب تک امریکا نے پاکستانی حدود میں391 ڈرون حملے کیے، جن میں القاعدہ اور طالبان رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا۔

اب ممکنہ خطرات سے نمٹنے کی تدبیر ہونی چاہیے کہ کہیں امریکا پاکستان پر افغان طالبان کو بھڑانے پر زور نہ دے۔ ملا منصور کی ہلاکت ہمارا پیچھا نہ کرے۔اس لیے پاکستان استقامت اور جرات کے ساتھ اپنی خود مختاری کے دفاع و تحفظ پر امریکا سے بات کرے ، کوئی پاکستان کو اپنا ''وپنگ بوائے'' سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو۔ مگر یہ لیوریج بھی ہم نے انکل سام کو دیا، اور حکمراں بھی افغان پالیسی پر نظر ثانی کریں، افغان مسئلہ ہماری خارجہ پالیسی میں ایکلیس کی زخمی ایڑھی کا روگ بن چکا ہے۔ ''نیویارک ٹائمز'' نے اپنے اداریے میں ہرزہ سرائی کی ہے کہ پاکستان ہی افغانستان کے انتشار و بدامنی کا ذمے دار ہے۔ پاکستان کے امریکا میں مقیم سفیر نے اخبار ہٰذا کو سخت جواب دیا ہے ، تاہم حکمراں احساس کریں کہ ملک افغان حوالہ سے کسی بند گلی میں پھنسنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔