پشاور میں دہشت گردی کی واردات

ایف سولہ کے ہمارے سودے میں رخنہ اندازی بھارتی مداخلت کے بغیر ممکن ہی نہیں تھی


Editorial May 27, 2016
پشاور میں دہشت گردوں کے دوبارہ متحرک ہو جانے سے اس بات کا احساس بھی ہوتا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کی تکمیل میں ابھی بہت سا کام باقی رہتا ہے، فوٹو : فائل

پشاور میں ایک بار پھر ٹارگٹ کلر متحرک ہو گئے، تھانہ فقیر آباد کی حدود میں موٹرسائیکل سوار حملہ آوروں کی فائرنگ سے فرنٹیر کانسٹیبلری کے ڈسٹرکٹ آفیسر امیر بادشاہ اپنے سرکاری ڈرائیور اور گن مین سمیت شہید ہو گئے جب کہ ملزم اس بہیمانہ واردات کے بعد فرار ہو گئے۔

بدھ کی صبح ڈسٹرکٹ آفیسر ایف سی امیر بادشاہ اپنی سرکاری پک اپ گاڑی میں حوالدار اور لانس نائیک کے ہمراہ دفتر جانے کے لیے گھر سے نکلے کہ رنگ روڈ پر چوک کے قریب گھات لگائے موٹرسائیکل سوار تین افراد نے ان پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں تینوں شہید ہو گئے۔ وزیراعظم نواز شریف اور وزیر داخلہ چوہدری نثار نے شہید ہونیوالے سیکیورٹی اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں ہمارے پاس قربانیاں دینے کے سوا اور کوئی آپشن نہیں ہے۔

پشاور میں دہشت گردوں کے دوبارہ متحرک ہو جانے سے اس بات کا احساس بھی ہوتا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کی تکمیل میں ابھی بہت سا کام باقی رہتا ہے جب کہ امریکا کی طرف سے وہ طیارے دینے سے انکار کر دیا گیا ہے جو کہ اس آپریشن میں استعمال کرنے کے لیے آرمی کو درکار ہیں۔

یہ ساری صورتحال ہماری سفارتکاری کی خامیوں کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اس میدان میں ہمیں ہر گام پر نیچا دکھانے کی عجلت میں مبتلا ہمارا مشرقی پڑوسی بہت فعال ہے جس نے بیرون ملک بطور خاص انتہائی مضبوط لابیاں بنا رکھی ہیں بالخصوص امریکا اور برطانیہ میں تو بھارتی نیٹ ورک غیر معمولی طور پر بہت متحرک ہے جو مسلسل پاکستان کی بیخ کنی کی سازشوں میں مصروف رہتا ہے اور ایف سولہ کے ہمارے سودے میں رخنہ اندازی بھارتی مداخلت کے بغیر ممکن ہی نہیں تھی کیونکہ امریکی کانگریس میں بھارتی سفارتکاری کا خصوصی اثر رسوخ ہے۔