سب سے بڑا مسئلہ

گزشتہ ماہ سے قوم حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری ڈراموں کو دیکھ رہی ہے


Muhammad Saeed Arain May 27, 2016

گزشتہ ماہ سے ملک پانامہ لیکس کے سیاسی بحران میں مبتلا کیا گیا ہے اور لگتا ہے کہ ملک و قوم کے سیاسی مسائل حل ہوگئے ہیں اور ملک و قوم کا سب سے بڑا مسئلہ اب پانامہ لیکس رہ گیا ہے اور وزیر اعظم نواز شریف کے مستعفی ہوجانے سے ملک کو درپیش یہ مسئلہ بھی حل ہوجائے گا اور ملک میں مکمل سکون ہوجائے گا۔

پانامہ لیکس کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بنانے کے موجد پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان ہیں جو پیپلزپارٹی کی اس سلسلے میں حمایت حاصل کرکے سیاسی مات کھا گئے اور پانامہ لیکس کا علم پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی سے اپنے ہاتھ میں لے کر عمران خان کو پیچھے کردیا اور اپوزیشن کی باقی جماعتوں کو ایک ایسا اہم ایشو ہاتھ آگیا جس نے حکومت مخالف جماعتوں کو بظاہر متحد کردیا مگر اپوزیشن اتحاد کا پول بھی کھول کر رکھ دیا کیونکہ عمران خان نے وزیر اعظم کو دباؤ میں لانے کے لیے پانامہ لیکس کو بنیاد بناکر میاں نواز شریف سے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔

اس مطالبے سے اب خود عمران خان بھی پیچھے ہٹ گئے ہیں اور اب کہہ رہے ہیں کہ میں نے وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ تو نہیں کیا مگر پانامہ لیکس کی تحقیقات میں کلیئر ہونے تک نواز شریف کے وزیر اعظم رہنے کا اخلاقی جواز باقی نہیں رہا ہے ۔ یوٹرن لینے میں پیپلز پارٹی بھی کیسے پیچھے رہتی۔ اس نے بھی دہرے پن کا ثبوت دے دیا اور پارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول زرداری بھی نواز شریف سے مستعفیٰ ہونے کے متعدد مطالبات کے بعد نہ جانے کیوں خاموش ہوکر بیٹھ گئے ہیں۔

گزشتہ ماہ سے قوم حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری ڈراموں کو دیکھ رہی ہے اور لگتا ہے کہ اپوزیشن اور حکومت کے پاس پانامہ لیکس کے علاوہ بڑا مسئلہ کوئی ہے ہی نہیں اور دونوں اپنی اپنی توانائی پانامہ لیکس پر لگائے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک اورکوئی اہم مسئلہ ہے ہی نہیں۔ پانامہ لیکس پر صفائی پیش کرنے کے لیے وزیر اعظم کو نہ صرف ٹی وی پر آکر قوم سے خطاب کرنا پڑا بلکہ قومی اسمبلی میں بھی آکر خطاب کرنا پڑا۔ پانامہ لیکس کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بنانے والے عمران خان نے سخت گرمی میں اپنے جلسوں کا سلسلہ شروع کیا تو جواب دینے کے لیے وزیر اعظم نے بھی جے یو آئی کے زیر اہتمام بنوں اور ڈیرہ اسمٰعیل خان کے سیاسی جلسوں کے علاوہ سرکاری تقاریب میں بھی اپنے کارنامے، حکومت کی کارکردگی بتاتے بتاتے اپنے خاص مخالف عمران خان کا نام لیے بغیر انھیں تنقید کا نشانہ بنانے سے گریز نہیں کیا۔ پانامہ لیکس کے بعد پی پی چیئرمین بلاول زرداری نے آزاد کشمیر میں انتخابی جلسوں میں پانامہ لیکس کے سلسلے میں وزیر اعظم نواز شریف پر تنقید توکی مگر ان کے خطاب میں سنجیدگی کہیں نظر نہیں آئی۔

میاں نواز شریف شروع سے کہتے آرہے ہیں کہ پانامہ لیکس میں میرا نام نہیں ہے اور لندن میں فلیٹ کی خریداری کے سلسلے میں عمران خان کا نام ظاہر ہونے کے بعد عمران خان نے ٹیکس بچانے کے لیے آف شورکمپنی کا بھی اعتراف کیا اور خود کو درست اور نواز شریف کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلیٹ فروخت کرکے میں سرمایہ پاکستان لایا اور نواز شریف سرمایہ باہر لے گئے۔

پانامہ لیکس میں نہ نواز شریف کا نام ہے نہ عمران خان کا مگر پی ٹی آئی نے اس سلسلے میں اپنی سیاست کو فروغ دے رکھا ہے تو حکومتی وزیر اور (ن) لیگی رہنما ہی نہیں بلکہ مولانا فضل الرحمن نے بھی عمران خان کو ٹارگٹ بنانا شروع کر رکھا ہے کہ دوسروں کی آف شور کمپنی پر شور مچانے والے عمران خان خود آف شور کمپنی کے پرانے مالک نکل آئے ہیں۔

پانامہ لیکس نے اپوزیشن جماعتوں کو جہاں متحد ہونے کا موقع دیا، وہاں اپوزیشن پارٹیوں کے باہمی اختلافات کو بھی ظاہر کردیا ہے۔ متحدہ نے پہلے اس سلسلے میں اپوزیشن سے علیحدہ رہنے کا اعلان کیا تو اپوزیشن نے پارلیمنٹ اور سندھ اسمبلی میں نمایاں نشستیں رکھنے والی متحدہ کو اپوزیشن کی پارلیمانی کمیٹی میں شامل نہیں کیا اور بعد میں حکومت کے اعتراض کے بعد متحدہ کی صفائی سن کر متحدہ کو آخر اپنی پارلیمانی کمیٹی میں شامل کر ہی لیا۔

اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی نے بھی اس سلسلے میں عمران خان کا ساتھ دینے کی بجائے ان کی مخالفت میں پریس کانفرنس کر ڈالی جب کہ اپوزیشن کی کوئی بھی جماعت عمران خان کے ساتھ کھڑی نہیں ہوئی ہے البتہ نواز شریف دشمنی میں شیخ رشید ضرور عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں اور روزانہ نواز حکومت جانے کی خبریں سنا رہے ہیں جب کہ حقیقت میں پانامہ لیکس کے باعث نواز شریف کے جانے کے کوئی آثار نہیں ہیں جس کے بعد نواز شریف سے جس اخلاقی استعفیٰ کی توقع رکھی جا رہی ہے ایسا اخلاق تو کسی حکمران نے نہیں دکھایا۔

وفاقی وزیر محمد زبیر کا کہنا ہے کہ پانامہ لیکس کے باعث ملکی معیشت پر منفی اثرات پڑے ہیں۔ معیشت پر منفی اثرات پڑے ہوں یا نہ پڑے ہوں مگر عوام جمہوریت اور اپنے حکمرانوں سے ضرور مایوس ہوئے ہیں اور یہ ثابت ہوگیا کہ کرپشن کے حمام میں سب ننگے ہیں اور مال کمانے کے چکر میں کسی نے بھی نہیں بخشا اور ہر ممکن طریقے سے مال بنایا اور کرپشن کی انتہا کردی۔ عمران خان کو تو نواز شریف کے علاوہ ملک میں کوئی کرپٹ نظر نہیں آرہا اور وہ نواز شریف کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور ملک کے تمام میگا منصوبوں میں انھیں نواز شریف کی کرپشن اورکمیشن نظر آتا ہے۔ نواز شریف کے اگر واقعی ہاتھ صاف ہوتے تو وہ عدالت عظمیٰ سے عمران خان کی زبان روکنے کے لیے رجوع کرتے مگر وہ عمران خان کے الزامات کا جواب صرف سیاسی طور پر ہی دینے میں مصروف ہیں اور عمران خان کے خلاف ہتک عزت کا کیس کرنے سے بھی گریز کر رہے ہیں۔

پانامہ لیکس سے قبل عمران خان کے پاس انتخابات میں دھاندلی کا ایشو تھا اور اب پانامہ کے بعد اب ان کے پاس اب صرف شریف خاندان کی کرپشن کا ایشو ہاتھ آگیا ہے اور لگتا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کو بھی وہ کام کرنے نہیں دیں گے اور جوڈیشل کمیشن اگر بنا تو وہ بھی تحقیقات اپنی مرضی سے تفصیلی کرے گا مگر عمران خان کے الزامات جاری رہیں گے۔ پانامہ لیکس پر وزیر اعظم کی حمایت کرکے مولانا فضل الرحمن نے بنوں اور اپنے حلقے ڈی آئی جی خان کے لیے وفاق سے وہ کچھ لے لیا جس کا تصور بھی نہ تھا اور حاصل بزنجو بھی وزیر اعظم کا جلسہ کرائے بغیر وفاقی وزیر بن گئے۔

عمران خان بھی چاہتے تو جارحانہ رویہ چھوڑ کر وزیر اعظم سے کے پی کے کے لیے بہت کچھ لے سکتے تھے مگر جلد وزیر اعظم بننے کی خواہش میں انھوں نے جو رویہ اختیار کر رکھا ہے اس سے کے پی کے کے میں پی ٹی آئی حکومت کو تین سالوں میں نقصان ہی پہنچا ہے اور باقی دو سال بھی یہی سلسلہ جاری رہا تو نواز شریف کو نہیں عمران خان ہی کو نقصان ہوگا۔

پانامہ لیکس نواز حکومت کے خلاف سازش ہو یا نہ ہو مگر نواز شریف کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے اور وہ کے پی کے پر توجہ دے کر سندھ، بلوچستان بلکہ پنجاب کو نظرانداز کر رہے ہیں اور سندھ میں خاص کر احساس کمتری بڑھ رہا ہے جہاں پی پی حکومت کو صرف اپنی مدت پوری کرنے اور حکومتی لوگوں کو زیادہ سے زیادہ مال سمیٹنے سے غرض ہے۔ رہے ملک کے بے بس عوام تو ان کا تو کسی کو بھی خیال نہیں ہے جنھیں درپیش مسائل ملک کا اصل مسئلہ ہیں۔

مقبول خبریں