عالمی ادارہ صحت کی چشم کشا رپورٹ

رپورٹ میں محکمہ صحت کے عملے کو نشانہ بنانے کی بطور خاص مذمت کی گئی ہے۔


Editorial May 27, 2016
رپورٹ میں محکمہ صحت کے عملے کو نشانہ بنانے کی بطور خاص مذمت کی گئی ہے۔ فوٹو؛ فائل

اقوام متحدہ کے صحت کے بین الاقوامی ادارے ڈبلیو ایچ او نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ دو سال کے دوران خانہ جنگی' بدامنی اور دہشت گردی کا شکار ممالک میں اسپتالوں اور دیگر مراکز صحت پر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں تقریباً 960 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اسپتالوں اور مراکز صحت کے تحفظ کے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں مگر یہ افسوس کی بات ہے کہ ان مقامات پر زیرعلاج مریض بھی محفوظ نہیں رہتے اور مخالف حکومتیں یا مسلح گروہ ان عمارات کے تقدس کا خیال نہیں رکھتے۔ رپورٹ کے مطابق 2014-15ء میں مشرق وسطیٰ' افریقہ اور دیگر مقامات پر اسپتالوں اور کلینکوں پر 594 حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں 959 افراد ہلاک ہو گئے جن میں مریضوں کے ساتھ اسپتالوں کے عملے کے اراکین اور مریضوں کی عیادت کے لیے آنے والے لوگ بھی شامل تھے۔

رپورٹ میں محکمہ صحت کے عملے کو نشانہ بنانے کی بطور خاص مذمت کی گئی ہے۔ یہاں ہمیں وطن عزیز میں انسداد پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر حملوں کا خیال آ رہا ہے جن میں ان کی حفاظت پر مامور سیکیورٹی والوں کو بھی نشانہ بنا دیا گیا۔ افغانستان' عراق' شام اور لیبیا میں بھی اسپتالوں پر بمباری ہوئی ہے' ان ممالک میں جہاں باہمی برسرپیکار جنگجو گروپ بھی ایسا کرتے ہیں وہاں امریکا' برطانیہ اور فرانس کے طیاروں یا ڈرونز نے بھی بعض اوقات اسپتالوں کو نشانہ بنایا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ایمرجنسی رسپانس شعبے کے سربراہ ڈاکٹر بروس ایلوارڈ نے جنیوا میں اخباری نمایندوں کو بتایا کہ ان حملوں میں جن ممالک کی حکومتیں خود شامل ہوتی ہیں وہ زبانی طور پر مذمتی بیانات جاری کرنے کے سوا اور کچھ نہیں کرتیں جب کہ حملہ آوروں کو اسپتالوں کو نشانہ بنانے کی باقاعدہ ٹاسک دیے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر بروس ایلوارڈ نے کہا جب تک ان حملہ آوروں کو سخت سزائیں نہیں دی جاتیں مراکز صحت پر حملے بند نہیں ہو سکتے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر ایمرجنسی رسک مینجمنٹ ڈاکٹر رک برینان نے بھی اس بات پر زور دیا کہ اسپتالوں پر حملے کرنے والوں کے ناموں کا اعلان کیا جائے اور انھیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے تا کہ اس روش کی صحیح معنوں میں حوصلہ شکنی ہو سکے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ عالمی صحت کا ادارہ اس حوالے سے کچھ قانونی پابندیاں عاید کرنے پر غور کر رہا ہے تا کہ ان شرمناک اقدامات کا تدارک کیا جا سکے۔