افغان دہشت گردوں کی گرفتاری

ہمارے سیکیورٹی ادارے اور ایجنسیاں بلوچستان میں امن و امان قائم کرنے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔


Editorial May 27, 2016
ہمارے سیکیورٹی ادارے اور ایجنسیاں بلوچستان میں امن و امان قائم کرنے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ فوٹو؛ ایکسپریس

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے جمعرات کو کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حساس اداروں اور سیکیورٹی فورسز نے افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس(نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی) کے 6دہشتگردوں کو گرفتارکرلیا جنہوں نے 40 سے زائد پاکستانی شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں کا اعتراف کیا ہے، جنھیں افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس ٹارگٹ کلنگ کے لیے80ہزار اور بم دھماکے کے لیے ڈھائی لاکھ روپے دیتی تھی، دہشتگردوں نے پاکستانی شناختی کارڈ بنوا رکھے تھے، این ڈی ایس، را کے ساتھ مل کر ملک کو غیر مستحکم کرنا چاہتی ہے، ان حالات میں ہم مزید افغان مہاجرین کی مہمان نوازی نہیں کرسکتے عالمی ادارے انھیں باعزت واپس بھجوائیں بصورت دیگر بلوچ پشتون عوام انھیں دھکے دیکر واپس بھجوا دیں گے، ہم صوبے میں کسی کو امن وامان خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

بلوچستان کے حالات ایک طویل عرصے سے خراب چلے آ رہے ہیں۔ ہمارے سیکیورٹی ادارے اور ایجنسیاں یہاں امن و امان قائم کرنے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں لیکن حالات ہیں کہ قابو میں نہیں آ رہے' آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے اب اس کی وجہ سامنے آگئی ہے کہ بھارتی اور افغان خفیہ ایجنسیاں مشترکہ طور پر بلوچستان کے حالات خراب کرنے کے لیے یہاں دہشت گردوں کو بھیج رہی ہیں۔ جب کسی علاقے میں غیرملکی ایجنسیاں اور حکومتیں افراتفری پھیلانے میں ملوث ہو جائیں تو اس علاقے میں امن و امان کی صورت حال کا بگڑنا یقینی امر ہوتا ہے۔

بلوچستان میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت تو ایک عرصے سے سامنے آ چکے ہیں اور پاکستان انھیں امریکا کو پیش بھی کر چکا ہے۔ گزشتہ دنوں بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو کے پکڑے جانے کے بعد یہ صورت حال کھل کر سامنے آ گئی کہ بھارت بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنے اور دہشت گردی کو فروغ دینے کے لیے بڑے پیمانے پر کام کر رہا ہے۔ اب چھ افغان دہشت گردوں کی گرفتاری کے بعد تشویشناک صورتحال سامنے آئی ہے کہ یہاں بھارت اکیلا نہیں بلکہ اس کے ساتھ افغان حکومت بھی شریک ہے۔پاکستان نے افغانستان کا ہر مشکل موقع پر ساتھ دیا اور اب بھی وہ وہاں قیام امن کے لیے اپنی بھرپور کوششیں کر رہا ہے لیکن اس کے جواب میں افغان حکومت کا پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دینا تشویشناک امر ہے۔

میڈیا کی اطلاع کے مطابق افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے گرفتار ہونیوالے دہشت گردوں محبوب علی، عصمت اللہ، عبداللہ شاہ، احمد اللہ،نوراحمد اور محمد شفیع نے اپنے ویڈیوبیانات میں بتایا کہ انھیں بم دھماکے کرنے اور عام شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ کروا کر لوگوں میں خوف وہراس پھیلانے کی ترغیب دی جاتی تھی جس کے بدلے میں این ڈی ایس ہیڈکوارٹر افغانستان میں انھیں رقم کی ادائیگی کی جاتی تھی ، انھوں نے کہا ہے کہ ہمیں افغانستان کے علاقے قندھار میں موجود کیمپ میں تربیت دی گئی تھی ۔ یہ انکشاف کہ افغانستان کے علاقے میں دہشت گردی کے تربیتی کیمپ موجود ہیں نیا نہیں جہاں سے دہشت گردوں کو پاکستان میں گڑ بڑ پھیلانے کے لیے بھیجا جاتا ہے۔

پاکستان کے خلاف بھارتی اور افغان خفیہ ایجنسیوں کا یہ اتحاد ایرانی علاقوں کو بھی اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔افغان دہشت گرد خود کو بچانے کے لیے افغان مہاجرین کے کیمپوں میں پناہ لے لیتے ہیں لہٰذا ملکی سلامتی اور بقا کے لیے یہ لازم ہو گیا ہے کہ افغان مہاجرین کو فی الفور ملک سے نکالنے کے علاوہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنانے کے عمل کو بھی بہتر بنایا جائے۔ وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی کا یہ کہنا بالکل صائب ہے کہ پاکستان نے افغانیوں کی مہمان نوازی کی لیکن انھوں نے ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپا' اب افغان پناہ گزینوں کوواپس جانا ہو گا۔ وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے بھی یہ کہا ہے کہ افغان مہاجرین سیکیورٹی رسک ہے' عالمی برادری ان کی واپسی کے لیے اقدامات کرے۔

اب جب افغانستان میں ایک منتخب حکومت قائم ہے تو افغان مہاجرین کی واپسی میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کی جانی چاہیے۔ بھارتی اور افغان خفیہ ایجنسیوں کے اس گٹھ جوڑ کے خلاف پاکستان کو اب خاموش نہیں رہنا چاہیے اور اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں اٹھانا چاہیے یہ ملک کی سلامتی کا مسئلہ ہے اس پر خاموشی یا روایتی تساہل پسندی مستقبل میں ملک کی سلامتی اور بقا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان اپنی سرحدوں خاص طور پر ایران اور افغانستان کے ساتھ نگرانی کا نظام بھی مضبوط اور موثر بنائے کیونکہ یہ سرحدی علاقے دہشت گردوں کی آسان آمدورفت کا راستہ ہونے کے باعث ملکی سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔