آیندہ بجٹ اور ٹیکسوں کی بھرمار

بجٹ اعدادوشمار کا ایسا گورکھ دھندہ ہے جسے عام آدمی کے لیے سمجھنا ایک مشکل امر ہے


Editorial May 30, 2016
حکومت عام آدمی کے حالات بہتر بنانے کی جانب توجہ دے تو ترقی اور خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے، فوٹو : فائل

3جون کو قومی اسمبلی میں قومی بجٹ پیش کرنے کے لیے حکومتی سطح پر تیاریاں زور وشور سے جاری ہیں، آیندہ مالی سال 2016-17 کے وفاقی بجٹ کا حجم 4500ارب روپے کے لگ بھگ رکھے جانے کا امکان ہے۔

بجٹ اعدادوشمار کا ایسا گورکھ دھندہ ہے جسے عام آدمی کے لیے سمجھنا ایک مشکل امر ہے لیکن اس سب کے باوجود اس کی تمام تر توجہ اور دلچسپی بجٹ پر مرکوز ہوتی ہے کیونکہ اس کی سال بھر کی آمدن، اخراجات، ضروریات اور چھوٹی موٹی خواہشات کی تکمیل کا انحصار بجٹ میں پیش کیے گئے اعدادوشمار پر منحصر ہوتا ہے۔

ہر حکومت بجٹ پیش کرتے ہوئے یہ بلند بانگ دعوے کرتی ہے کہ یہ عوامی بجٹ ہے اور عام آدمی پر اس کا کوئی بوجھ نہیں پڑے گا بلکہ اس سے ملکی ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں کھلیں گی۔ اس بار بھی وفاقی وزیر خزانہ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ آمدہ بجٹ میں ٹیکس گزاروں پر مزید بوجھ نہیں ڈالیں گے مگر ٹیکس نہ دینے والوں کی زندگی اجیرن بنا دیں گے، ترقیاتی اور دفاعی بجٹ میں اضافہ اور اخراجات کم کر کے ترقی کی شرح میں اضافہ کریں گے۔

اگر روز مرہ کی اشیا سستی ہوتی اور عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں ملتی ہیں تو حقیقت میں یہ ایک عوامی بجٹ کہلاتا ہے اگر روز مرہ کی اشیا پہلے سے بھی زیادہ مہنگی ہو کر عام آدمی کے مسائل میں اضافے کا موجب بن جائیں تو بہتری کی صورت حال حکومتی دعوؤں تک ہی محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔ نئے بجٹ میں مجموعی طورپر 150ارب کے نئے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے، حکومت ٹیکس ضرور وصول کرے لازم ہے کہ ٹیکس کا شکنجہ اربوں روپے مالیت کے شاپنگ پلازوں، ہاؤسنگ سوسائٹیز، محلات، فارم ہاؤسز اور جائیدادوں کے مالکوں پر کسا جائے تو یقیناً حکومت کے ریونیو میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا لیکن اگر ٹیکس کا سارا بوجھ تنخواہ دار طبقے اور عوام پر ڈال دیا گیا اور اس سے مہنگائی کا نیا طوفان آ گیا تو پھر شاید یہ ''عوامی بجٹ'' ہی ہو گا جس میں عام آدمی پستا چلا جائے گا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق حکومت پرچون فروش تاجروں کو بھی ٹیکس کے نئے نظام میں لا رہی ہے ۔

جس سے بھاری ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے، مختلف اقسام کے پینٹس، وارنش، انجن آئل، گیئر آئل سمیت دیگر لبریکینٹس، ایئرکنڈیشنرز، نیل پالش، سرخی، پاؤڈر، کریموں سمیت میک اپ کے لیے استعمال ہونے والی تمام دیگر اشیا پر 16فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کیے جانے کا امکان ہے۔ زرعی اشیا کی درآمدات پر کسٹم ڈیوٹی کی شرح بڑھانے، سیمنٹ پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 5فیصد سے بڑھا کر 10فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اسٹیشنری پر حاصل زیرو ریٹنگ کی سہولت واپس لے کر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

اسٹیشنری پہلے ہی مہنگی ہو چکی اور عام آدمی کے لیے اپنے بچوں کے تعلیمی اخراجات پورا کرنا مشکل تر ہو چکا ہے اگر حکومت اسٹیشنری پر ٹیکس عائد کر دیتی ہے تو اس سے اسٹیشنری کا سامان مزید مہنگا ہو جائے گا جو کسی بھی طور درست فیصلہ نہیں۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ برسوں کی طرح آیندہ مالی سال میں بھی صحت اور تعلیم کے منصوبوں کے لیے دوسرے شعبوں کی نسبت کم فنڈز رکھے گئے ہیں۔ یہ صورت حال دیکھ کر اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں کی بہتری حکومت کے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں یوں معلوم ہوتا ہے کہ حکومت ان شعبوں کو بوجھ سمجھ کر مجبوراً چلا رہی ہے۔ برآمدات کا ہدف 24ارب 70کروڑ اور درآمدات کا ہدف 45ارب 20کروڑ ڈالر مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔

اس طرح تجارتی خسارہ 20ارب ڈالر تک رہنے کی توقع ہے۔ اگرچہ حکومتی اقدامات کے باعث امن و امان کی صورت حال میں بہتری آئی ہے مگر حالات کو اس حد تک تسلی بخش قرار نہیں دیا جا سکتا جو بڑے پیمانے پر ملکی اور غیرملکی سرمایہ کاری کو اپنی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہو سکے۔ توانائی کا بحران بھی موجود ہے جس سے صنعتی ترقی کی رفتار متاثر ہو رہی ہے۔ اگر حکومت امن و امان کی صورت حال تسلی بخش بنانے کے ساتھ ساتھ توانائی کے بحران پر قابو پا لیتی ہے تو یہ اس کی بہت بڑی کامیابی تصور کی جائے گی۔ صنعتی ترقی کی رفتار تیز ہونے سے تجارتی خسارہ بھی کم ہوتا چلا جائے گا۔ سرمایہ کاری بڑھنے سے بیروز گاری پر قابو پانے میں بھی خاطر خواہ مدد ملے گی لیکن یہ اسی صورت میں ہو گا جب حکومت زرعی شعبے کے ساتھ صنعتی شعبے کی ترقی کے لیے بھرپور اقدامات کرے۔

اسٹیٹ بینک کی حالیہ مانیٹری پالیسی میں جو تشویشناک اشاریہ بیان کیا گیا ہے اس کے مطابق جی ڈی پی کی نمو مقررہ ہدف 5.5فیصد سے کم رہے گی۔ دیکھا یہ جاتا ہے کہ ٹیکس کے بدلے حکومت عوام کو کیا سہولتیں فراہم کر رہی ہے، اگر حکومت ان کے جان و مال کے تحفظ کے علاوہ تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم نہیں کر پاتی تو یہ اس کی ناکامی تصور کی جاتی ہے۔ حکومت عام آدمی کے حالات بہتر بنانے کی جانب توجہ دے تو ترقی اور خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے ورنہ سب دعوے ہی دعوے ہیں حقیقت کچھ اور ہے۔