ملاقات کے لیے بے چین کیوں
پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں نے بھی بیانات دیے تھے کہ سابق صدرکو جو پہلے سے لندن میں تھے
گزشتہ ماہ پانامہ لیکس کے انکشافات منظر عام پر آنے کے بعد جب وزیراعظم نواز شریف کے اچانک اپنے طبعی معائنے کے لیے لندن جانے کی خبر منظر عام پر آئی تھی تو پیپلز پارٹی کے سینیٹر چوہدری اعتزاز احسن نے ایک بیان دیا تھا کہ وزیراعظم علاج کے لیے نہیں بلکہ سابق صدر آصف علی زرداری کے گھٹنوں کو ہاتھ لگانے لندن جا رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں نے بھی بیانات دیے تھے کہ سابق صدرکو جو پہلے سے لندن میں تھے، وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات نہیں کرنی چاہیے کیونکہ وزیراعظم پیپلز پارٹی کو ٹھنڈا کرنے اور پانامہ لیکس پر سابق صدرکی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ پانامہ لیکس کے بعد بری طرح پھنس چکے ہیں اور اپنی وزارت عظمیٰ بچانے کے لیے خوشامد کرنے کے لیے آصف زرداری سے ملنا چاہتے ہیں اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اس ملاقات کے خلاف ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ لندن میں ایسی کوئی ملاقات ہو۔
ایسی خبریں آنے کے بعد وزیراعظم کا کوئی تردیدی بیان تو نہیں آیا بس ایوان وزیراعظم سے یہ بیان آیا کہ وزیر اعظم لندن اپنے معائنے کے لیے جارہے ہیں اور آصف زرداری سے ملاقات وزیراعظم کے پروگرام میں شامل نہیں اور ملنے نہ ملنے کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔ وزیراعظم کے اچانک دورہ لندن سے عوام میں بھی یہ شکوک پیدا ہوئے کہ وزیراعظم کو آخر اپنے معائنے کی ضرورت کیوں آن پڑی۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار اور عمران خان بھی ایک ہی جہاز سے لندن روانہ ہوئے اوردونوں کی لندن جاتے ہوئے جہاز میں ملاقات بھی ہوئی۔ چوہدری نثار اپنی اہلیہ کے علاج کے لیے لندن کے راستے جرمنی جا رہے تھے مگر لندن میں انھوں نے قیام بڑھا دیا اور وزیراعظم سے ان کی ملاقات بھی ہوئی۔ ملک میں وزیر اعظم کی واپسی کے لیے وزیروں نے مختلف بیانات دیے اور وزیراعظم کے مخالفین نے یہاں تک کہا کہ وزیر اعظم واپس نہیں آئیں گے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے آصف زرداری کی سیاسی اہمیت بڑھانے کے لیے مختلف بیانات دیے اور ظاہر یہ کیا کہ نواز شریف سابق صدر سے ملنا چاہتے تھے مگر آصف زرداری راضی نہیں ہورہے تھے جس کی وجہ سے وزیر اعظم کو بغیر ملے واپس آنا پڑا۔
پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے آف شورکمپنیوں کے معاملے پر اپوزیشن کے اتحاد کی کوششیں شروع کیں اور اسلام آباد میں چوہدری اعتزاز کے گھر نواز شریف کے مخالفین کے دو اجلاس بھی ہوئے اور پیپلز پارٹی نے اس موقعے پر پی ٹی آئی کو اپنی اطاعت پر مجبور کردیا اور عمران خان نے پیپلز پارٹی کے ساتھ ملنے کے لیے حیرت ناک یوٹرن لیا اور پیپلز پارٹی کی خوشنودی کے لیے اپنا طے شدہ وہ دورہ بھی منسوخ کردیا جس میں سکھر میں عمران خان نے شریک ہونا تھا اور پی ٹی آئی نے سندھ میں پیپلز پارٹی کی کرپشن کے خلاف کراچی سے یہ ریلی شروع کی تھی جو شاہ محمود قریشی کی قیادت میں شروع ہوئی مگر ریلی کا مقصد نظرانداز کردیا گیا تاکہ پیپلز پارٹی ناراض نہ ہوجائے اور عمران خان نواز شریف کے استعفیٰ کے لیے پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل کرلیں مگر پیپلز پارٹی نے ایسا پتہ کھیلا کہ عمران خان کامیاب نہ ہوسکے اور پیپلز پارٹی کے بعض رہنما وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ اور بعد میں اس کی تردید بھی کرتے رہے۔
وزیر اعظم کے لندن کے دوسرے دورے کے موقعے پر بھی پیپلز پارٹی یہ تاثر دینے میں کامیاب رہی کہ نواز شریف علاج کے لیے نہیں بلکہ آصف زرداری کو رام کرنے پھر لندن جا رہے ہیں۔ پہلے خبر تھی کہ نواز شریف کے ساتھ مولانا فضل الرحمن بھی جائیں گے اور وزیر اعظم اور آصف زرداری کے درمیان ملاقات کی راہ ہموارکریں گے۔ مولانا اکیلے لندن گئے مگر آصف زرداری سے نہیں ملے جب کہ ہر چینل پر دونوں کی نہ ہونے والی ملاقات کی خبر چلوائی گئی جب کہ مولانا نے اس کی تردید بھی کی کہ وہ آصف زرداری سے نہیں ملے۔
ملک میں پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما یہ تاثر دیتے رہے تھے کہ وزیر اعظم نواز شریف آصف زرداری سے ملنے کے لیے بہت بے چین ہیں اور مولانا فضل الرحمن کے ذریعے یہ ملاقات چاہتے ہیں۔ جب کہ نواز شریف کے بائی پاس آپریشن کی خبریں میڈیا کی زینت بنی ہوئی تھیں، پی پی رہنما اس مجوزہ ملاقات کی مخالفت میں بیان بازی کر کے سابق صدر کا سیاسی قد بڑھانے کی کوشش کرتے رہے کہ نواز شریف کا دوسرا لندن کا دورہ بھی آصف زرداری سے ملاقات کے لیے ہے مگر آصف زرداری نواز شریف سے ملنا نہیں چاہتے۔ اس سلسلے میں (ن) لیگ کے رہنما بھی کنفیوز رہے اورکسی نے بھی مجوزہ ملاقات پرکوئی بھی بیان نہیں دیا اور ایک وزیر نے یہ بے تکا اور تکلیف دہ بیان دیا کہ ہوسکتا ہے کہ دونوں کی ملاقات کسی شاپنگ سینٹر پر ہوجائے۔
وزیر اعظم کے دورہ لندن کے سلسلے میں کوئی سرکاری بیان نہیں آیا کہ وزیراعظم لندن کے شیڈول میں آصف زرداری سے ملیں گے یا نہیں اس سلسلے میں حکومتی خاموشی ثابت کر رہی تھی کہ نواز شریف بھی آصف زرداری سے ملنا چاہتے ہیں مگر آصف زرداری آمادہ نہیں ہورہے اور ملاقات ناممکن ہے اور بعد میں آصف زرداری دبئی لوٹ گئے۔
اپوزیشن لیڈرخورشید شاہ نے کہا ہے کہ اگر پی پی حکومت کی فرینڈلی اپوزیشن ہوتی تو آصف زرداری کی نواز شریف سے ملاقات ہوجاتی دوسری طرف انھوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ سیاستدانوں کو ایک دوسرے سے ملنے کے لیے اپنے دروازے بند نہیں کرنے چاہئیں۔ پی پی کے رہنماؤں نے یہ بیان بھی دیے کہ آصف زرداری اگر نواز شریف سے ملے تو پیپلز پارٹی کی موجودہ پوزیشن متاثر ہوگی جو نواز شریف سے نہ ملنے کی وجہ سے بنی ہے اور اس وقت ملک میں حکومت کی اصل اپوزیشن پیپلز پارٹی ہے پی ٹی آئی نہیں ہے جو اصل اپوزیشن ہونے کا دعویٰ کرتی آئی ہے۔
حکومتی خاموشی نے وزیر اعظم نواز شریف کی پوزیشن خراب کی ہے اور لوگ بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ نواز شریف سابق صدر سے کیوں ملنا چاہ رہے ہیں اور پارلیمنٹ میں واضح اکثریت ہونے کے باوجود کیا خوف ہے جو انھیں آصف زرداری سے ملنے پر مجبورکر رہا ہے۔ آصف زرداری کا تو خود یہ حال ہے کہ وہ کئی ماہ سے ملک سے باہر ہیں اور کبھی بیان جاری کردیتے ہیں۔
جو شخص خود ملک واپس نہیں آرہا وہ وزیراعظم کی کیا مدد کرے گا۔ نواز شریف سے سابق صدر کو شکایات یقینی طور پر ہوں گی کہ سندھ میں رینجرز، نیب اور ایف آئی اے کی کارروائیاں رکوانے میں وزیر اعظم نے پی پی کا ساتھ نہیں دیا۔آصف زرداری اس سلسلے میں وزیر اعظم کی مجبوری کو بھی سمجھتے ہوں گے اور شاید وہ بھی اپنی اہمیت بڑھانے کے لیے اپنے رہنماؤں سے دونوں کی ملاقات کی مخالفت میں بیان دلوا رہے ہیں۔
آصف زرداری کا نام نواز شریف اور عمران خان کی طرح آف شور کمپنیوں میں نہیں آیا مگر وہ پھر بھی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں مگر وطن واپس نہیں آرہے۔ سندھ حکومت کو وفاق سے کوئی خطرہ نہیں تو فائدہ بھی نہیں ہے اور وزیر اعظم کے پی کے حکومت پر برسنے میں مجبور ہیں اور وہ عمران خان کی وجہ سے پیپلز پارٹی سے ہر حالت میں تعلقات برقرار اور بہتر رکھنے کے خواہاں نظر آتے ہیں۔