ٹمبر مارکیٹ میں 26مقامات پر جدید کیمرے نصب کیے جاچکے

10حساس راستے بدستور غیرمحفوظ ہیں، شرجیل گوپلانی،صرف کراچی نہیں پورے ملک کو اسلحےسے پاک کرنیکی ضرورت ہے،ایس ایم منیر۔


Kashif Hussain November 21, 2012
ایڈیشنل آئی جی اقبال محمودتاجروںکے ہمراہ ٹمبر مارکیٹ کے دورے کے موقع پر میڈیاسے گفتگو کررہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

ملک کی سب سے بڑی اور قدیم ٹمبرمارکیٹ کو بھتامافیا سے نجات دلانے کے لیے مجوزہ ماڈل سیکیورٹی پلان مارکیٹ سے متصل بھتا مافیا کی محفوظ پناہ گاہوں کے باعث مکمل نہیں ہوسکا۔

مارکیٹ میں بھتا مافیا اور جرائم پیشہ عناصر کی آمدورفت کے لیے استعمال ہونے والے 10اہم راستوں پر بیریئرز لگانے میں بھتا مافیا کی سخت مزاحمت کا سامنا ہے جس کی وجہ سے سیکیورٹی پلان میں شامل 10حساس راستے بدستور غیرمحفوظ ہیں، کراچی ٹمبر مرچنٹس گروپ اور کراچی تاجر اتحاد کے جنرل سیکریٹری شرجیل گوپلانی نے ایکسپریس کو بتایا کہ ٹمبر مارکیٹ کے سیکیورٹی پلان میں 35کیمرے، 20واچ ٹاورز اور 36اہم مقامات پر بیریئر کی تعمیر شامل ہے جس میں سے26مقامات پر جدید کیمرے نصب کیے جاچکے ہیں۔

تاجروں نے اپنی مدد آپ کے تحت 35لاکھ روپے کے اخراجات کیے ہیں ایک موبائل وین اور دو موٹرسائیکلیں بھی پولیس کو مہیا کی گئی ہیں، مزید 9کیمروں کی تنصیب کے لیے حکومت سے معاونت کی درخواست کی گئی ہے انھوں نے بتایا کہ ٹمبر مارکیٹ میں 10حساس مقامات پر بھتا مافیا کی سخت مزاحمت کا سامنا ہے اور ان میں سے ایک مقام پر پولیس فورس کے ساتھ جاکر لگایا جانے والا بیریئر رات میں توڑ دیا گیا ،ٹمبر مارکیٹ میں پولیس اور ایف سی کی 76اہلکاروں کی نفری تعینات کردی گئی ہے۔

علاوہ ازیں ٹمبر مارکیٹ میں تاجروں کے ظہرانے سے خطاب میںکراچی پولیس کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی سندھ اقبال محمود نے اعتراف کیا ہے کہ بھتا مافیا اور دہشت گردوں کا کمیونی کیشن اور انٹیلی جنس نظام پولیس کے نظام سے زیادہ مضبوط اور موثر ہے، اقبال محمود نے کہا کہ پولیس کو نفری اور ہتھیاروں سمیت وسائل کی کمی کا مسئلہ تو درپیش ہے ہی ساتھ ہی دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے منظم نیٹ ورک کا بھی سامنا ہے جس کے ذریعے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف فورس حرکت میں آتے ہی انھیں اطلاع مل جاتی ہے اور وہ علاقے سے نکل جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ غیرقانونی اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف نئے قانون کے نفاذ کے بعد غیرقانونی اسلحے میں 70فیصد تک کمی واقع ہوگی کیونکہ اس قانون کے تحت غیرقانونی اسلحہ برآمد ہونے پر کڑی سزا کا سامنا ہوگا، ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر ایس ایم منیر نے خطاب میں کہا صرف کراچی نہیں پورے ملک کو اسلحے سے پاک کرنے کی ضرورت ہے، دہشت گردی اور بھتا مافیا کا مقابلہ عوام اور تاجروں کو مل کر کرنا ہے، عتیق میر نے کہا کہ گورنر سندھ روزانہ کی بنیادوں پر تاجر رہنمائوں سے فون پر تمام تفصیلات طلب کررہے ہیں جس سے اب امید ہوچکی ہے کہ کراچی امن کا گہوارہ بن جائے گا۔

مقبول خبریں