پارلیمانی کمیٹی ڈیڈ لاک ختم کرے

تحریک انصاف نے پانامہ لیکس کے معاملے پر ملک گیر تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے


Editorial June 02, 2016
اسی جمہوری جذبہ اور ٹیم اسپرٹ سے پانامہ لیکس بحران کے خاتمہ کے لیے حکومت اور اپوزیشن کو ڈیڈ لاک ختم کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ فوٹو:فائل

پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لیے ٹی او آرز تشکیل دینے سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے گزشتہ روز چوتھے اجلاس میں بھی ڈیڈ لاک کا برقرار رہنا اس اعتبار سے نیک شگون نہیں ہے کہ ملک جب کثیرجہتی چیلنجز سے نبرد آزما ہو اور داخلی سلامتی سے لے کر عالمی صورتحال، ملکی امیج اور دہشتگردی سے اٹھنے والے تشویش ناک معاملات پیچیدگیوں سے لپٹے ہوئے ہوں تو حکومت اور اپوزیشن کو کرپشن کی روک تھام اور پانامہ لیکس کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچانے کی ہر ممکن کوششیں کرنی چاہیے۔اس اندوہ ناک ڈیڈ لاک کی اطلاع گزشتہ روز کے اجلاس سے ملی جو کسی پیشرفت کے بغیر ختم ہوگیا۔ میڈیا کے مطابق اجلاس میں ٹی او آرز پر حکومت اور اپوزیشن کی تجاویز پر غورکیا گیا تاہم کوئی فریق اپنے موقف میں نرمی پر رضامند نہیں ہوا ۔

اجلاس میں شاہ محمود قریشی نے وفاقی وزیر سعد رفیق کے بیان پر احتجاج کیا، تاہم آیندہ اجلاس ہفتے کی شام 4 بجے ہوگا۔ معلوم نہیں وہ اجلاس کیسا ہوگا ، ممکنہ مضمرخطرات اور خدشات سے کتنا پاک ہوگا ۔ تاہم سیاست میں جمہوری لچک ہی سے قابل اعتبار بریک تھرو طلوع ہوتا ہے، لہٰذا اپوزیشن اور حکومتی ارکان کو اپنی قومی ذمے داری کو ذہن میں رکھتے ہوئے ضوابط کار کی حتمی تکمیل کے امتحان میں سرخروئی کا سوچنا چاہیے ۔دنیا بھر کے مفکرین اور سیاسی مورخ اس بات کی تصدیق کرچکے ہیں کہ حکمران اگر اپوزیشن کی آواز کو دبانے کے حربے ہی استعمال کرتے رہیں گے تو ریاستی بد انتظامی کا نتیجہ تشدد، انتشار، مزاحمت، بغاوت اور جلسے جلوسوں کی شکل میں برآمد ہوتا ہے اور پھر باقی ہر چیز تاریخ کا حصہ بن جاتی ہے۔

چنانچہ ٹی او آرز پر جلد سے جلد اتفاق رائے ہونے کی سعی کامل ہونی چاہیے اور اس ضمن میں چیف جسٹس سپریم کورٹ جناب ظہیر احمد جمالی کے اس استدلال پر توجہ دینی چاہیے جو انھوں نے وزیراعظم نواز شریف کے خط کے جواب میں حکومتی ٹی او آرز پر کمیشن بنانے سے انکار کر کے دیا تھا اور اپنے جواب میں یہ تحریر کیا کہ پانامہ لیکس کی انکوائری کے لیے ضوابط کار اتنے لامحدود ہیں کہ تحقیقات میں کئی برس لگ جائیں گے، ٹی او آرز تبدیل کیے جائیں۔ انھوں نے مزید لکھا کہ ایکٹ 1956 ء کے تحت کمیشن تشکیل دیا گیا تو مقاصد حاصل نہیں ہونگے اور نام خراب ہوگا،اس لیے مناسب قانون سازی کی چیف جسٹس نے تلقین کی۔

وزیراعظم کے خط کے جواب میں عدالت عظمیٰ کا واضح جواب حکومتی اور اپوزیشن ارکان پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی کے لیے چشم کشا ہے ، اور اس میں یہ پیغام بھی ہے کہ حکومتی ٹی او آرز جب واپس کیے جا سکتے ہیں تو دوطرفہ ٹی او آرز کی تیاری ایک بڑی آزمائش کا کام ہے ، اسے سیاسی مصلحتوں اور لاحاصل مشق بازی سے ضایع نہ کیا جائے، اگر کمیٹی مشترکہ ٹی او آرز پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوششوں میں کامیاب نہ ہوئی اور ڈیڈ لاک برقرار رہا تو تاریخ اس کوتاہی اور ناکامی پرکسی کو بھی معاف نہیں کریگی۔ اس لیے اتفاق رائے لازم ہے۔ ادھرکمیٹی کے اعلامیے میں کہا گیا کہ وزیراعظم نواز شریف کی اوپن ہارٹ سرجری کے سلسلے میں حکومت کی درخواست پر پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ملتوی کیا گیا ہے۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن نے کہا حکومت ہمارے 15 ٹی او آرز کے علاوہ اپنے ٹی او آرز بھی پیش کرسکتی ہے۔کمیٹی کا ڈیڈلاک ختم ہوتا دکھائی نہیں دے رہا، وزراء جان بوجھ کر حالات خراب کر رہے ہیں، حکومت مفلوج ہو چکی ہے، کمیٹی کے چار اجلاس ہو چکے ہیں لیکن ہمارے ٹی او آرز پرحکومت نے کوئی دستاویز تیار نہیں کی جس پر ہمیں تشویش ہے، تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی نے کہا حکومت بتائے وہ معاملات سنوارنا چاہتی ہے یا بگاڑنا، ڈیڈ لاک کے خاتمے کے لیے حکومتی رویہ مثبت نہیں۔

یاد رہے 22 مئی کو وکلا برادری نے ملک گیر کنونشن میں 13نکاتی ٹی او آرز تسلیم کرنے کے لیے پارلیمانی کمیٹی کو دو ہفتہ کا الٹی میٹم بھی دیا ہے، سپریم کورٹ بار کے صدر علی ظفر نے کہا کہ پانامہ لیکس سے کرپشن کے خلاف امید کی ایک کرن پھوٹی ہے، امید کی جا رہی تھی کہ حکومت اور اپوزیشن اس مسئلہ کا کوئی حل نکالیں گی مگر حکومت نے ہمارے اور چیف جسٹس نے حکومتی ٹی اوآرز مسترد کردیے۔ان کا موقف یہ تھا کہ جب تک کرپشن کے خلاف قانون کی عمل داری نہیں ہوگی کرپشن ختم نہیں ہوگی۔

پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ان کا مفاہمتی پالیسی کے تحت پانامہ لیکس پر وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں ہوا، پانامہ لیکس کے مسئلے کو ہر فورم پر اٹھایا جائے گا اور اسے اس کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی مشاورت نہ کیے جانے پر برہمی کا اظہار کرچکے ہیں۔ ادھر تحریک انصاف نے پانامہ لیکس کے معاملے پر ملک گیر تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ اسی قومی اسمبلی نے 20 مئی کو الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کی آئینی ترمیم منظور کی، اور وقت یہی ہے کہ اسی جمہوری جذبہ اور ٹیم اسپرٹ سے پانامہ لیکس بحران کے خاتمہ کے لیے حکومت اور اپوزیشن کو ڈیڈ لاک ختم کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔