سمز کی ریٹیل فروخت پر پابندی سے 25 لاکھ افراد کے بیروزگار ہونے کا خدشہ

3.5 لاکھ ریٹیلرز اور 1500 فرنچائز بند، حکومت کو ریونیو کی مد میں 11 ارب روپے کے نقصان کا سامنا ہوگا۔


Kashif Hussain November 22, 2012
سیکیورٹی خدشات کے باعث پابندیوں سے ٹیلی کام انڈسٹری بحرانی کیفیت سے دوچار، تھری جی لائسنس کیلیے سرمایہ کاروں کی دلچسپی بھی متاثر ہونے کا خدشہ۔ فوٹو: فائل

حکومت کی جانب سے موبائل سموں کی ریٹیل فروخت پر پابندی سے ملک بھر میں 3.5 لاکھ سے زائد ریٹیلرز اور 1500 سے زائد فرنچائز بند ہوجائیں گی جس سے 3 لاکھ 65 ہزار گھرانے اور ان گھرانوں کے 25 لاکھ افراد بیروزگاری کا شکار ہوں گے۔

ٹیلی کام انڈسٹری پر پہ در پہ پابندیوں سے ایک جانب صارفین اور انڈسٹری دونوں بری طرح متاثر ہورہے ہیں جس سے ملک بھر میں سرمایہ کاری میں کمی اور بے روزگاری میں اضافے کا نیا طوفان جنم لینے والا ہے۔ انڈسٹری ذرائع کے مطابق ایک جانب ٹیلی کام انڈسٹری کو مختلف قسم کی پابندیوں کا سامنا ہے تودوسری جانب تھری جی لائسنس کے اجرا کیلیے جنوری 2013میں نیلامی کا فیصلہ کیا ہے جس کیلیے بھاری معاوضے پر کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کرلی گئی ہے۔

ٹیلی کام انڈسٹری اضطراب کی حالت کا شکار ہے، ایسی صورت میں تھری جی لائسنس کیلیے سرمایہ کاروں کی دلچسپی بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، حکومت کی جانب سے موبائل کمپنیوں کو 30نومبر تک تمام ریٹیل، سیلز اینڈ سروس سینٹر اور فرنچائز سے سم کی فروخت بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، اسی طرح غیرتصدیق شدہ تمام سمیں بھی یکم دسمبر تک بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ یکم دسمبر سے نئے پری پیڈ کنکشن دو شناختی دستاویزات کی فراہمی سے مشروط کرکے گھروں پر ڈیلیور کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ سم کی ریٹیل بند ہونے سے حکومت کو ریونیو کی مد میں 11ارب روپے کے نقصان کا سامنا ہوگا۔

سم کے اجرا اور گھر پر ڈیلیوری کے لیے شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس اور یوٹیلٹی بلز میں سے دو دستاویزات فراہم کرنا ہوں گی، اس شرط سے سب سے زیادہ کرائے کے گھروں یا روزگار کیلیے دیگر شہروں میں مقیم صارفین کو پریشانی کا سامنا ہوگا، گھر کے پتے اور شناختی کارڈ پر درج پتے میں فرق ہونے کی صورت میں صارفین موبائل فون کنکشن حاصل نہیں کرسکیں گے، ایسے صارفین کو موبائل کنکشن کے حصول کیلیے شناختی کارڈ پر اپنا موجودہ پتہ درج کرانا ہوگا، ساتھ ہی یوٹیلٹی بل یا ڈرائیونگ لائسنس پر بھی موجودہ پتہ درج کرانا ہوگا۔

اس تمام عمل میں ایک ماہ سے زائد کا عرصہ درکار ہے جس کے بعد نئے کنکشن کی درخواست دینے پر تین دن میں کنکشن کی سم گھر پر پہنچے گی اور درخواست دہندہ کی عدم موجودگی پر ڈیلیور کیے بغیر واپس چلی جائیگی جس کو دوبارہ منگوانے کیلیے ایک ہفتے سے 10روز کے عمل سے گزرنا ہوگا، حکومت کی جانب سے سیکیورٹی خدشات کو جواز بناکر ٹیلی کام سروس پر عائد کی جانیوالی پہ در پہ پابندیوں نے موبائل کمپنیوں کو بوکھلاہٹ میں مبتلا کردیا ہے اور انڈسٹری کی جانب سے صارفین کو مستقبل میں سروس کی فراہمی کے حوالے سے کوئی ٹھوس معلومات فراہم نہیں کی جارہیں۔

اس ضمن میں رابطہ کرنے پر موبائل کمپنیوں کے نمائندوں نے کسی بھی قسم کے مشترکہ یا انفرادی لائحہ عمل کی موجودگی سے انکار کردیا، موبائل کمپنیوں کے مطابق بیک وقت ریٹیل فروخت بند کرنے، موبائل نمبر پورٹیبلیٹی کی سروس کے خاتمے اور نئے کنکشنز کی گھروں پر ڈیلیوری کے احکامات نے انڈسٹری کو بحرانی کیفیت سے دوچار کردیا ہے، تمام کمپنیاں ان احکامات پر عمل درآمد کیلیے دی گئی مدت کو بھی انتہائی مختصر قرار دے رہی ہیں۔

مقبول خبریں