سرکاری اسکولوں کا معیار مزید گرگیا میٹرک کے امتحانات میں 45فیصد طلبا ناکام

19555طلبہ وطالبات میں سے 299طلباا ے ون گریڈ، 1883طلبا اے گریڈ لے سکے، نجی اسکولوں کے76فیصد طلباکامیاب ہوئے.


Staff Reporter November 22, 2012
19555طلبہ وطالبات میں سے 299طلباا ے ون گریڈ، 1883طلبا اے گریڈ لے سکے، نجی اسکولوں کے76فیصد طلباکامیاب ہوئے۔ فوٹو: فائل

میٹرک کے نتائج نے کراچی کے سرکاری اسکولوں میں معیار تعلیم کی قلعی کھول دی ہے اور صوبائی محکمہ تعلیم کے دعوئوں کے برعکس نتائج کے اعدادوشمارکے مطابق کراچی کے سرکاری اسکولوں میں معیار تعلیم تباہی کے دہانے پرپہنچ گیا ہے۔

کراچی کے سرکاری اسکولوں سے میٹرک کرنے والے کل 19555طلبا وطالبات میں سے صرف 299طلبہ اے ون گریڈ حاصل کرسکیں گے جبکہ صرف 1883طلبہ اے گریڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، سرکاری اسکولوں سے میٹرک کرنے والے طلبہ کی اکثریت سی گریڈ میں پاس ہوئی ہے جن کی تعداد 7627ہے ،سرکاری اسکولوں سے میٹرک کے امتحان میں شریک ہونے والوں میں سے مجموعی طور پر صرف 55 فیصد طلبہ امتحان پاس کرسکیں ہیں اور45فیصد طلبہ فیل ہوگئے۔

اس کے برعکس کراچی کے نجی اسکولوں سے امتحان میں شریک ہونے والے طلبہ میں سے 76فیصد سے زائد طلبہ امتحان میں کامیاب ہوئے ہیں ''ایکسپریس'' کو میٹرک کے سالانہ امتحانات سال 2012 کے نتائج کے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق کراچی کے سرکاری اسکولوں سے کل 35366 طلبہ امتحان میں شریک ہوئے تھے جن میں سے 15811طلبہ امتحان میں فیل ہوگئے، امتحان میں ناکام ہونے والے طلبہ میں 7456لڑکے اور8541 لڑکیاں شامل ہیں،اپنی مجموعی تعداد کاکل 47فیصد لڑکے اور60 فیصد لڑکیاں میٹرک کا امتحان پاس کرسکیں۔

نتائج کے اعدادو شمار کے مطابق میٹرک کے امتحانات میں سرکاری اسکولوں کے 331 لڑکوں نے اے، 1045نے بی،2804نے سی ،2464نے ڈی اور116لڑکوں نے ای گریڈ میں امتحان پاس کیا جبکہ سرکاری اسکول سے میٹرک کرنے والی لڑکیوں میں 1552نے اے ، 4001نے بی ،4823نے سی ،2039نے ڈی اور81نے ای گریڈ میں امتحان پاس کیا،اس کے برعکس نجی اسکولوںسے شریک ہونے والے طلبہ میں سے اپنی مجموعی تعدادکا77فیصد سے زائد لڑکے اور76فیصد سے زائد لڑکیوں نے امتحان میں کامیاب حاصل کی ہے۔

نجی اسکولوں کے 5407لڑکوں اور 9018لڑکیوں نے اے ون گریڈ حاصل کیا ہے جبکہ 11154لڑکے اور12830لڑکیاں اے گریڈ میں کامیاب ہوئیں ہیں، واضح رہے کہ صوبائی محکمہ تعلیم کی تمام ترتوجہ کراچی سمیت سندھ کے سرکاری اسکولوں میں خلاف ضابطہ سفارشی بھرتیوں پرمرکوز ہے اورکراچی میں میرٹ کے برعکس بغیرٹیسٹ پاس کیے ڈرائنگ ٹیچر،سندھ لینگویج ٹیچراور عربی ٹیچرزکی سفارشی بھرتیوں کاسلسلہ مسلسل جاری ہے جس کے لیے آئے دن شہرمیں ایک نئے افسرکوڈائریکٹراسکولز کا چارج دے دیا جاتاہے،کراچی کے سرکاری اسکولوں میں مانیٹرنگ کا نظام ختم ہوچکا ہے، حکام کی جانب سے سرکاری اسکولوں کامعائنہ نہ کیے جانے کے سبب بیشتراسکولوں میں تدریسی عمل نہ ہونے کے برابر ہے اور مانیٹرنگ اتھارٹی کی غیرفعالیت کے سبب ان اسکولوں کی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہوچکی ہے۔