بجٹ ڈرامہ

قومی اسمبلی میں پیش کردہ بجٹ پر اسمبلی کے چند ارکان نے اب تک باقاعدگی سے حصہ لیا


Muhammad Saeed Arain June 09, 2016

قومی اسمبلی میں پیش کردہ بجٹ پر اسمبلی کے چند ارکان نے اب تک باقاعدگی سے حصہ لیا جب کہ اس اہم موقعے پر ارکان قومی اسمبلی کی دلچسپی کا یہ حال ہے کہ پہلے روز ارکان کی کم تعداد کے باعث اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے بحث میں حصہ لینے سے گریز کیا اور اگلے روز قومی اسمبلی میں 28 ممبر موجود تھے جس پر آزاد رکن جمشید دستی نے کورم کی نشاندہی کی تو اجلاس کچھ دیر کے لیے ملتوی کرنا پڑا۔

یہ وہ اہم بجٹ اجلاس ہے جس پر اپوزیشن بجٹ کے گورکھ دھندے پر سخت برہم ہے مگر زیادہ برہمی ایوان سے باہرظاہرکی جارہی ہے اور پیپلزپارٹی کے لکھی تقریر پڑھنے والے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تو حد کردی اور نئے مجوزہ بجٹ کو پنجابستان کا بجٹ قرار دے دیا اور یہ نہیں سوچا کہ پنجابستان کا بجٹ قرار دینے کے کیا نتائج برآمد ہوں گے اور جس صوبے پنجاب میں پیپلزپارٹی اپنا صفایا خودکرچکی ہے وہاں بلاول زرداری کے بیان پرکیا اثرات پیدا ہوں گے بلاول کے بیان پر لگتا ہے کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار نے شاید درست ہی کہا ہے کہ بلاول ابھی سیاست سے ناواقف ہیں۔

بلاول زرداری کا یہ بھی کہناہے کہ موجودہ بجٹ ملک توڑنے کا منصوبہ اور ون یونٹ بنانے کی پلاننگ لگ رہا ہے جس میں صرف ایک صوبے کو نوازا گیا ہے۔ اے این پی کے رہنما کا بھی کہناہے کہ بجٹ میں پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں کو نظراندازکیا گیا ہے اور اقتصادی راہداری منصوبے میں کے پی کے اور بلوچستان کو وہ اہمیت نہیں دی گئی جو ملنی چاہیے تھی۔

اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ نئے بجٹ میں عام آدمی کے لیے کوئی خوش خبری نہیں ہے ۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں بھی بجٹ پر شدید تنقید کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ بجٹ آئی ایم ایف کے ایما پر بنایاگیا ہے۔ جس میں عام آدمی کے لیے کوئی خوش خبری ہے اور نہ ہی یہ کسان اور مزدور بجٹ ہے اور اسے الفاظ کا ہیر پھیر کہا گیا ہے اور حکومت نے بجٹ کے درست اعدادوشمار پیش نہیں کیے اور یہ محض الفاظ کا گورکھ دھندا ہے۔ سینیٹ کے ارکان کا کہناہے کہ بجٹ میں ساٹھ فیصد ان ڈائریکٹ ٹیکس لگادیے گئے ہیں۔

اور 25 فیصد بجٹ سود اور قرضوں کی ادائیگی میں چلا جائے گا۔ فاٹا کے ارکان نے بھی بجٹ میں فاٹا کے لیے مختص کیے گئے ایک سو ارب روپے کو اونٹ کے منہ میں زیرہ قرار دیا اور بجٹ پر اپنے عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ قبل ازیں متحدہ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار بھی کہہ چکے ہیں کہ وفاق بھی کراچی کو نظراندازکررہاہے حالانکہ کراچی کی آمدنی سے ملک چل رہا ہے۔ اپوزیشن کے برعکس حکومتی ارکان حسب عادت بجٹ وزیراعظم اور وزیرخزانہ کی تعریفوں میں لگے ہیں اور انھیں بجٹ میں کوئی برائی یا کمی نظر نہیں آرہی اور وہ بجٹ کو بہترین سمجھتے ہیں۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ نئے بجٹ میں بحث کے لیے متعدد ارکان قومی اسمبلی نے اپنے نام لکھوائے تھے مگر موقع ملنے پر انھوں نے بحث میں حصہ لینے سے معذرت کرلی۔ بحث میں حصہ لینا قومی اسمبلی کا فرض بنتا ہے کیوں کہ وہ اس ایوان کے رکن ہیں جہاں بجٹ پیش ہوتا ہے آیا ہے اور اسی ایوان نے بجٹ منظورکرنا ہے مگر دکھ کی بات یہ ہے کہ حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی اکثریت ایوان میں خاموش رہتی ہے یا اپنے رہنماؤں کی تقاریر پر صرف ڈیسک بجاتی ہے۔ خاموش رہنا ان کی مجبوری ہے یا مصلحت انھوں نے اپنی پارٹی پالیسی پر چلنا ہوتا ہے بجٹ میں اگر کوئی اچھائی ہو تو اس پر اپوزیشن بڑے پن کا مظاہرہ نہیں کرتی اور بجٹ میں خامیوں پر حکومتی ارکان رائے دینے سے گریزکرتے ہیں یا ان میں اہلیت نہیں کہ وہ اپنی رائے کا ہی اظہار کرلیں۔

بجٹ کے موقعے پر ن لیگ کی حکومت میں وزیر خزانہ پر تنقید ہوتی ہے کہ وہ وزیراعظم اور عوام کو حقائق سیآگاہ نہیں کر رہے ہیں مگر چونکہ وزیراعظم کو ان پر ضرورت سے زیادہ اعتماد ہے۔ اس لیے وزیراعظم ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں اور انھیں درست قراردیتے ہیں جس کی وجہ سے کسی حکومتی ارکان میں وزیر خزانہ کی مخالفت کی اہمیت نہیں ہوتی، حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی اکثریت کو بجٹ کے حقائق اوراعدادوشمارکی معلومات نہیں ہوتیں۔ اس مصلحت یا پارٹی ہدایت پر خاموشی رہتی ہے۔

رکن قومی اسمبلی شیخ رشید احمد نے ایکسپریس کے پروگرام تکرار میں دعویٰ کیا ہے کہ بجٹ اہداف جعلی ہیں اور یہ جھوٹ اور مکاری کا بجٹ ہے جس کی وجہ سے ملک میں خانہ جنگی کے حالات بن رہے ہیں اور وزیر خزانہ اتنے ماہر ہیں کہ وہ جعلی ڈاکومینٹری دکھاکر آئی ایم ایف کو بھی گولی دے دیتے ہیں اور ایوان میں بجٹ میں کی گئی جعلسازی ثابت کرسکتا ہوں۔

شیخ رشید حکومت کی مخالفت میں کیا ثابت کریں گے یہ تو الگ معاملہ مگر حقیقت ہے کہ وزیر خزانہ معمولی ترامیم سے اپنی مرضی کا بجٹ آسانی سے منظور کرالیںگے اور اپوزیشن شور مچاتی رہے گی یا ایوان سے واک آؤٹ کرجائے گی اورہوگا کچھ نہیں کیوں کہ بجٹ ہے ہی سیاسی ڈراما جس میں حکومتی ارکان نے بجٹ کی تعریف اوراپوزیشن نے مخالفت کرنی ہی ہے اور یہی دونوں کی سیاست میں۔ موجودہ حکومت کے اسی چوتھے بجٹ کو ملک کے صنعت کاروں اور تاجروں نے بھی مسترد کردیا ہے جب کہ مہنگائی کے حساب سے تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے پر سرکاری ملازمین سراپا احتجاج ہیں ، مگر حکومتی وزراء کو صنعت کاروں سمیت کسی کی پروا نہیں کیونکہ حکمران صرف انھیں ہی درست سمجھتے ہیں۔

کہا جارہا ہے کہ نیا بجٹ اکسٹن بجٹ ہے جب کہ انتخابات 2018 میں ہونے ہیں نئے بجٹ میں خواتین سے ان کے سجنے سنورنے کا حق چھین لیا ہے اور سگریٹ نوشوں کے ساتھ بچوں تک کو نہیں بخشا گیا اور سرکاری حلقوں کے علاوہ کوئی اسے عوام دوست ماننے کو تیار نہیں۔ وزراء ملک کے عوام کا کتنا درد رکھتے ہیں ۔اس کا اندازہ قوم نے بجٹ کے اعدادوشمار دیکھ کر کرلیا ہے اور بجٹ آنے سے قبل ہی مہنگائی بڑھانا، اب معمول بن چکا ہے، اب دکھاوے کے لیے صوبائی حکومتوں کوکہا جا رہا ہے کہ وہ مہنگائی پرکنٹرول کریں۔

مگرگونگی بہری صوبائی حکومتیں عوام کی نہیں سن رہی کیوںکہ مہنگائی پر کنٹرول اب وفاقی نہیں صوبائی معاملہ ہے۔کچھ حکومتی ارکان کا گھر دبئی میں ہے جہاں ان کے کاروباری مفادات اور پاکستان میں صرف سیاسی مفادات ہیں اور وہ اپنے بچوں کی شادی بھی اپنے وطن کی بجائے دبئی میں کرتے ہیں۔ اس لیے ان سے عوام دوست بجٹ کی توقع رکھی ہی نہیں جاسکتی۔

ہر سال مئی جون کی شدید گرمی میں ہر حکومت کو بجٹ کا ڈراما پیش کرنا پڑتا ہے جو اعدادوشمارکا کھیل ہوتا ہے اور حکومتیں اپنی پالیسی اور اپنوں کو نوازنے کے لیے بجٹ ڈراما رچاتی ہیں۔ پہلے بجٹ آتے ہی مہنگائی بڑھ جاتی تھی۔اب سال میں نہیں ہر ماہ پٹرولیم مصنوعات پر حکومت اپنی مرضی کا ردو بدل کرتی ہے۔ بجٹ عوام میں اہمیت کھوچکا ہے اورہرحکومت خسارے کا بجٹ پیش کرنے کی عادی ہوچکی ہے کبھی بجٹ میں دیے گئے اہداف پورے نہیں ہوئے، بجٹ سے عوام کو ریلیف کی بجائے مہنگائی ملتی ہے اوراگر عوام کو کچھ دیا بھی جائے تو وہ ایک ہاتھ سے دے کردوسرے ہاتھ سے چھین لیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں