نگاۂ عشق و مستی میں وہی اوّل وہی آخر

عالمِ اسلام بشمول پاکستان میں پُرتشدد مظاہروں کی سب سے بڑی وجہ حکمرانوں کی مغرب نواز پالیسی اور امریکا سے یاری ہے ۔


November 23, 2012
[email protected]

ابھی میں رمشا مسیح کیس کے تناظر میں ناموسِ رسالتؐ کے تحفظ کے ضمن میں قانون توہینِ رسالت کے درست استعمال اور دینی وملی تقاضوں کے حوالے سے لکھنا ہی چاہتا تھا کہ حالات و واقعات اس تیزی سے بدلے اور سامنے آئے کہ ایک جانب اس قانون کی اہمیت دوچند ہوگئی اور دوسری جانب یہ احساس مزید بڑھ گیا کہ اس قانون کا استعمال درست سمت میں بالکل برحق ہونا چاہیے تاکہ مجرم سزا سے بچ نہ پائے اور رمشا جیسے معصوم، لاعلم وجذباتی پن اور جلدبازی کی وجہ سے معاشرے کے کسی بھی فرد کے ذاتی انتقام کا شکار ہوکر اس انتہائی موثر اور عظیم قانون کی بھینٹ نہ چڑھ جائیں۔

ابھی رمشا کے کیس کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھا ہی تھا کہ امریکا میں بننے والی توہین آمیز اور انتہائی گستاخی سے بھرپور فلم نے پورے عالمِ اسلام و مسلم اُمّہ میں تہلکہ و کہرام مچا دیا اس عجیب و غریب فلم میں پوری انسانیت کے محسن و ہادی عالمؐ کی شان میں جس شرمناک انداز میں گستاخی و توہین کی گئی ہے وہ انتہائی قابلِ مذمت و قابلِ نفرت ہے۔ مغرب و یورپ کا یہ انداز نیا نہیں ہے، ماضی بعید وماضی قریب میں ایسے گستاخانہ واقعات کی پوری ایک سیاہ تاریخ ہے، کبھی دشمنانِ اسلام کی جانب سے رسول اللہؐ کی شان مبارک میںہجو وہرزہ سرائی سے بھرپور اشعار کہے گئے تو کبھی خاکے بنائے گئے، کبھی بے ہودہ و لغو کتابیں لکھی گئیں تو کبھی شرمناک فلمیں بنائی گئیں۔ پھر ان تمام گستاخانہ طرز عمل اور رویوں کے ردعمل کا شکار کسی نہ کسی حد تک وہ غیر مسلم اقلیتیں بھی ہوئیں جوکہ مسلم ممالک میں آباد رہیں، کرے کوئی اور بھرے کوئی، اسی غیر منصفانہ طرز عمل کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اسلام نے ان حدود میں آباد تمام غیر مسلموں کے مفادات کا مثالی تحفظ کرتے ہوئے انھیں وہ بے مثال حقوق دیئے جن سے دنیا بے خبر تھی اور جس کی نظیر پوری تاریخ انسانی میں کہیں نہیں ملتی۔

یہ حقیقت ہے کہ جس طرح 9/11 کے واقعات کے ردعمل میں پوری مسلم اُمّہ متاثر ہوئی اور چند افراد کے ذاتی فعل کی سزا پورے عالمِ اسلام نے بھگتی اسی طرح امریکا، مغرب و یورپ کے کسی بھی ذاتی عمل کا خمیازہ ان سے منسلک مسلم ممالک میں آباد غیر مسلم اقلیتوں کو بھی تمام تر معصومیت کے باوجود بعض حالات میں، کسی نہ کسی قدر اور کسی نہ کسی طرح بھگتنا پڑتا ہے، تاہم واضح رہے کہ اسلام پوری دنیا میں وہ واحد دین ہے جو غیر مسلم اقلیت کے حقوق کا سب سے بڑا علمبردار ہے۔ بہرحال دشمنانِ اسلام کی جانب سے ایسے شرمناک گھناؤنے فعل پر پورے عالم اسلام کے مسلمانوں میں دینی غیرت و حمیت اور عشقِ رسولؐ کی بدولت جو ردعمل رونما ہوتا رہا ہے اور جو آج بھی ہورہا ہے وہ بلاشبہ قدرتی و فطری ہے۔

تاہم اس ردعمل کی حدودوقیود میں جنھیں پیش نظر رکھتے ہوئے ہمیں بھرپور پُرامن احتجاج کرنا چاہیے نہ کہ ملکی و نجی املاک اور قومی مفادات کو نقصان پہنچایاجائے یا سفارت خانوں پر حملے کیے جائیں یا کسی سفیر کو قتل ہی کیا جائے، اگر اسلام میں سفیر کا قتل جائز ہوتا تو یقیناً رسول اللہﷺ مسلمہ کذاب کے سفیر کو یہ کہہ کر نہ چھوڑتے کہ ''اگر اسلام میں سفیر کا قتل جائز ہوتا تو میں تجھے قتل کرا دیتا۔''

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پورے عالمِ اسلام بشمول پاکستان میں عوام کی جانب سے پُرتشدد مظاہروں کی سب سے بڑی وجہ حکمرانوں کی مغرب نواز پالیسی اور امریکا سے یاری ہے۔ اسی طرز عمل کا ہی نتیجہ ہے کہ حکومتوں کی بار بار اپیل اور علمائے کرام کی تمام تر وعظ و نصیحت کے باوجود عوام کی جانب سے پُرتشدد احتجاج اور مظاہرے سامنے آئے اور ملکی و قومی املاک کو نقصان پہنچایا گیا،امریکا،مغرب و یورپ سے اظہار نفرت کے تناظر میں ان کے سفارت خانوں پر حملے کیے گئے اورسفیروں کو جلاوطن کرنے کے مطالبات کیے گئے۔ احتجاج اور مظاہرے درست لیکن تشدد غلط تھا، ردعمل قدرتی وفطری اور دینی غیرت وحمیت نیز عشقِ رسولؐکا تقاضہ لیکن اسلام سے متصادم وغیر اسلامی طرز عمل یقیناً اسلام کی زندہ وتابندہ وسیع القلبی و وسیع النظری پر مبنی عظیم تعلیمات امن و صلح کے یقیناً منافی ہے۔

بلاشبہ امریکا میں بننے والی دل آزار اسلام مخالف فلم ایسے تحقیر آمیز اور شر انگیز مواد پر مبنی ہے جو نہ صرف امت مسلمہ کی غیرتِ ایمانی کا امتحان ہے بلکہ بین المذاہب ہم آہنگی اور بین التہذیبی و بین الثقافتی تقاریب وہم آہنگی کے ضمن میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے اور تہذیبی تصادم کا جواز فراہم کرتی ہے ۔تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم باضابطہ طور پر O.I.C عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے ذریعے ایک موثر احتجاج رقم کرائیں اور انبیاؓ کی شان میں گستاخی کے سدِباب کے لیے عالمی سطح پر ایسے جامع قوانین بنائے جائیں جن میں باضابطہ طور پر انبیاؓ کی توہین جرم قرار پائے، ایسی شرانگیز فلمیں، کارٹون، خاکے اورکتابیں نیز اسلام دشمنی پر مبنی تمام قابلِ مذمت حرکات اظہار آزادی نہیں بلکہ فساد فی الارض ہے،اگرچہ مغرب، یورپ اور امریکا میں ہولوکاسٹ کی حقیقت پر اظہار رائے کی آزادی نہیں بلکہ قابل گرفت جرم ہے تو بھلا محسنِ انسانیتؐ کے خلاف ہرزہ سرائی، بے ہودگی، سازش، مکر و فریب و دجل اور شان میں گستاخی کو بھلا کیسے اور کیونکر اظہار رائے کی آزادی قرار دے کر امریکا، مغرب و یورپ اپنے فرائض کی درست ادائیگی سے دامن چھڑا سکتے ہیں؟ یہ وہ درست وقت ہے کہ جب عالمی سطح پر ایسی موثر ترین اور عملی قانون سازی کی جائے جس کی بدولت دشمنانِ اسلام کی ذہنی غلاظت کی بدولت عالم اسلام و مسلم امہ کے خلاف اندوہ ناک چیرہ دستیوں اور توہین آمیز وارداتوں سے دائمی طور پر چھٹکارہ حاصل ہوجائے۔ بصورت دیگر ہمیشہ کی طرح امریکا اور مغربی ممالک کی جانب سے اسلام کے خلاف ایسی اہانت و ہتک آمیز فلموں، ڈراموں، کتابوں، مضامین، کارٹونوں اور خاکوں کی سرپرستی کا سلسلہ اظہار رائے کی آزادی کے نام پر دھوکا دہی کے ساتھ ہمیشہ جاری رہے گا۔

اس میں کوئی شک نہیں آج دنیا میں ڈیڑھ ارب سے زائد فرزندانِ اسلام آبادی کے لحاظ سے ایک واضح اور نمایاں اکثریت ہیں تاہم اس کے باوجود یہ ہماری اپنی کمزوریاں اور خرابیاں ہیں کہ آج ہم اکثریت کے باوجود رُسوائے زمانہ اور عبرت کدہ بنے ہوئے ہیں اگر آج ہم خود ٹھیک ، ہوش مند، دانش مند اور طاقتور ہوتے تو بھلا کس کی مجال تھی کہ کوئی مسلمانوں کو دہشت گرد کہتا یا آج خونِ مسلم اتنا ارزاں ہوتا، یا فرزندانِ توحید کی دل آزاری، قلوب کو چھلنی چھلنی اور پارہ پارہ اور روحوں کو گھائل کرنے اور ہمارے پیارے نبی خاتم الانبیا، انسانِ کامل، ہادی عالم، محسنِ انسانیت رحمۃ اللعالمین کی شان مبارک میں گستاخی کا تصور بھی کرسکتا؟

تاہم دشمنانِ اسلام اور گستاخِ رسول خواہ کتنی ہی توہین رسالت کی ناکام کوششیں کرلیں ان پر واضح رہنا چاہیے کہ قرآن نے ہمیشہ ہمیشہ نبی کریمؐ کا ذکر بلند رہنے کی پیش گوئی فرمائی ہے۔ ''ورفعنا لک ذِکرَک'' اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو مقام محمود پر فائز فرمایا ہے اور آپؐ کی شانِ مبارک تو یہ ہے کہ اللہ عزوجل اور اس کے فرشتے آپؐ پر درود وسلام بھیجتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے مومنین کو بھی یہ حکم دیا ہے کہ ''اے ایمان والو! تم بھی آپؐ پر درود و سلام بھیجا کرو'' چنانچہ اہلِ ایمان نبی اکرمؐ کی رسالت کی شہادت دن میں کم ازکم پانچ مرتبہ دیتے ہیں اور ذکر و درود میں ہمہ تن گوش مصروف رہتے ہیں اور ذکر مبارک کا یہ سلسلہ ہر لمحہ اذان کی صورت میں ساری دنیا میں باری باری جاری و ساری رہتا ہے اور تاقیامت جاری رہے گا اور یہ بھی قرآن ہی کی پیش گوئی ہے کہ ''آپؐ کا دشمن بے نام ونشان ہی رہے گا''۔

اسی طرح سورۂ کوثر کے علاوہ سورۂ لہب بھی گستاخ رسول کے عبرتناک انجام کا بہترین عکاس ہے نیز ہر گستاخِ رسول کا انجام ابولہب اور ابوجہل کی طرح عبرت انگیز اور سبق آموز ہی ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے انبیا اور رُسل کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لیے کافی اور دشمنانِ اسلام کا دماغ ٹھیک کرنے کے لیے شافی ہے۔ پس آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم امّہ اپنے تمام دنیوی مسائل و مصائب کے حل اور اُخروی نجات کے لیے اپنی صفوں میں اتحاد و یگانگت پیدا کرے، اللہ اور اس کے رسولؐؐ سے اپنے تعلق کو مضبوط کرے، کتاب اللہ اور سنت رسولؐ کی طرف رجوع کرے اور دامن مصطفیٰؐ میں پناہ لے، نظامِ مصطفیؐ کا قیام اور مقامِ مصطفیٰؐ کا تحفظ ہماری بحیثیت مسلمان بنیادی و اولین ذمے داری ہے۔بقول اقبالؔ: ؎

وہی قرآن، وہی فرقان، وہی یٰسین، وہی طہٰ
نگاۂ عشق و مستی میں وہی اوّل وہی آخر