’پہلے وزیراعظم‘ کی ضد

ر نواز شریف کو ٹارگٹ کرکے عہدے سے ہٹانا ہے اور عمران خان اس پر سیاست کرکے جلد سے جلد اقتدار میں آنا چاہتے ہیں،


Muhammad Saeed Arain June 14, 2016

پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر چوہدری اعتزاز احسن نے ایک بار پھر کہا ہے کہ احتساب وزیراعظم نواز شریف سے ہی سب سے پہلے کرنا ہوگا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ہم سڑکوں پر نکلیں گے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر وزیراعظم کا احتساب سب سے پہلے نہ ہوا تو ہم سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوں گے، کیوں کہ سڑکوں کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔

بزرگ مسلم لیگی رکن قومی اسمبلی اور سابق وزیراعظم میر ظفر اﷲ جمالی نے بجٹ سیشن میں اپنی تقریر کو آخری قرار دیتے ہوئے اپنے مستعفی ہونے کی بھی بات کی اور بڑے دکھ سے کہاکہ پاکستان کے متعلق نہیں سوچا جارہا جو لمحہ فکریہ ہے۔ احتساب کے متعلق انھوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کے ہر رکن سے قرآن پاک اٹھوا کر اگر اس کی کرپشن کا پوچھا جائے تو پارلیمنٹ خالی ہوجائے گی اور کوئی ایک رکن بھی اپنی پارسائی ثابت نہیں کرسکے گا۔ اپنی دوسری حکومت میں وزیراعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ اب کرپشن اس قدر ٹیکنیکل طریقے سے کی جاتی ہے کہ کوئی پکڑا نہیں جاتا اور کرپشن ثابت نہیں کی جاسکتی۔

تیسری بار اقتدار میں آنے والے موجودہ وزیراعظم نواز شریف اور سابق وزیراعظم ظفر اﷲ جمالی نے سو فی صد درست کہا ہے، کیوں کہ کرپشن پکڑنا آسان نہیں، آصف علی زرداری کا ریکارڈ ہے کہ وہ سب سے زیادہ عرصہ جیل میں رہے اور ان پر کرپشن ثابت نہیں کی جاسکی۔

ان کا کہنا اگر درست ہے تو یہ بھی درست ہے کہ آصف زرداری اور بے نظیر بھٹو پر کرپشن کے کچھ مقدمات میں سزا بھی ہوئی تھی جن کی عدالتوں میں اپیلیں کرکے وقت لیا گیا اور دونوں کے اقتدار میں آنے کے بعد فیصلے ان کے حق میں ہوئے اور دونوں باعزت بری قرار پائے تھے۔ جن سیاست دانوں نے اقتدار میں آکر کرپشن کی، وہ اتنے پاگل نہیں تھے کہ اپنی کرپشن کے ثبوت چھوڑتے۔ ہر کسی نے کرپشن کی بہتی گنگا میں ہاتھ ہی نہیں دھوئے بلکہ دل بھر کر غسل بھی کیا اور وہ یہ سمجھ کر باہر آئے کہ اب وہ پاک صاف ہیں اور ان پر کرپشن کا کوئی داغ نظر آنے والا نہیں ہے کہ حکومت یا کوئی بھی ادارہ انھیں پکڑسکے اور اگر پکڑے بھی گئے تو سیاسی انتقام کا نام لے کر مزید شہرت حاصل کرلیں گے اور بعد میں ثبوت نہ ملنے پر مکمل چھوٹ جائیں گے۔

یا ضمانت پر باہر آکر اپنی پارٹی کی حکومت کا انتظار کریں گے اور کرپشن کے الزامات کے بعد وہ بھی اپنی حکومت کے باعث ثبوت نہ ملنے پر بری ہوجائیں گے۔ جس پارٹی کی حکومت ہو اس میں کسی پارٹی رہنما یا رکن اسمبلی کے خلاف ثبوت ہوں بھی تو غائب ہوجاتے ہیں اور عدالتوں میں کچھ ثابت نہیں ہوتا اور عدالتیں ثبوتوں پر فیصلے کرتی ہیں۔ کوئی بھی سرکاری ادارہ ہو یا سرکاری وکیل صفائی ہو اس کی کیسے جرأت ہو کہ حکومتی ملازم کے خلاف جائے اور عدالتوں میں اس کی حمایت نہ کرے۔ ایک خاص بات یہ ہے کہ ملک کا ایسا ایک بھی سرکاری ادارہ باقی نہیں بچا جو کرپشن سے پاک ہو، ملک میں اینٹی کرپشن کے صوبائی ادارے ہوں یا وفاق کے نیب اور ایف آئی اے، کسی ادارے میں فرشتے موجود ہیں اور وہاں کرپشن کی شکایات نہ ہوں، کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ کرپشن روکنے والا ہر ادارہ کرپشن میں خود ملوث ہے اور کوئی ایک بھی ایسا سرکاری ادارہ نہیں ہے جس کے اپنے افسران اور اہلکار کرپشن میں نہ پکڑے گئے ہوں۔

سابق صدر جنرل ایوب خان کے دور میں خود ان کے بھائی بہادر خان نے پارلیمنٹ اور حکومت کے متعلق کہا تھا کہ ہر شاخ پر الو بیٹھا ہے انجام گلستان کیا ہوگا۔ ایوب حکومت کو چالیس سال سے زائد عرصہ گزرچکا ہے اب پارلیمنٹ ہو یا بیوروکریسی، سرکاری محکمے ہوں یا نچلی سطح کے بلدیاتی ادارے، ہر جگہ کرپشن کی بھرمار ہے۔ رشوت لینا ہی کرپشن نہیں ہر غلط اور غیر قانونی کام، غیر قانونی ترقیاں اور تقرریاں، سفارش پر نااہلوں کی بھرتیاں کرپشن میں شمار ہوتی ہیں۔

بوگس ووٹنگ اور انتخابی دھاندلیوں اور کروڑوں روپے خرچ کرکے اسمبلیوں میں عوام کی خدمت کے لیے کوئی جانا پسند نہیں کرتا بلکہ وہاں پہنچ کر سیاسی و مالی فائدہ کون نہیں اٹھاتا، کون اپنے لوگوں کو ٹھیکے اور ملازمتیں نہیں دلاتا، کون مرضی کے افسروں کے تقرر کراکے اپنے مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں نہیں کرتا؟ سابق وزیراعظم جمالی کا کہنا سو فیصد درست ہے کہ کوئی رکن اسمبلی ہو یا بیورو کریٹ کوئی صنعتکار ہو یا تاجر کوئی قرآن شریف اٹھاکر اپنی پارسائی ثابت نہیں کرسکے گا۔ اقربا پروری کرنے ہی کے لیے عہدے لیے جاتے ہیں اور اپنوں کو ناجائز طور پر نوازا جاتا ہے۔

پانامہ لیکس پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی کو ایشو مل گیا ہے، جس کی بنیاد پر نواز شریف کو ٹارگٹ کرکے عہدے سے ہٹانا ہے اور عمران خان اس پر سیاست کرکے جلد سے جلد اقتدار میں آنا چاہتے ہیں، جب کہ پیپلزپارٹی وزیراعظم سے مایوس ہوکر انھیں نشانہ بنائے ہوئے ہے، تاکہ اپنے دور کی کرپشن سے عوام کی توجہ ہٹاسکے اور ملک میں اپنی ساکھ بحال کرسکے، کیوں کہ پی پی پی کے دور میں سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف میں کرپشن کے جو ریکارڈ قائم ہوئے تھے وہ بھی پی پی پی کی شکست کی اہم وجہ تھی اور سندھ حکومت میں جو کچھ بھی ہورہا ہے وہ عدالت عظمیٰ تک میں زیر سماعت ہے۔

پانامہ لیکس پر لگتا ہے کہ پی پی پی نے اپنی صفائی کے لیے چوہدری اعتزاز کو اپنا وکیل مقرر کیا ہے، جو بڑی مہارت سے نواز شریف کی مخالفت میں پی ٹی آئی کو پیچھے کرکے پی پی پی کو آگے لے آئے ہیں اور وزیراعظم سے احتساب شروع کرانے کی کوشش میں پیش پیش ہیں۔جس طرح عمران خان نے اپنے احتساب کی پیشکش کی ہے اس طرح سابق صدر زرداری اور چوہدری اعتزاز اپنے احتساب کی بات کررہے ہوتے تو قوم انھیں اصول پرست سمجھتی مگر دونوں اپنے دور کی مشہور کرپشن سے پہلے وزیراعظم کی کرپشن کی تحقیقات کی کوشش کررہے ہیں۔ ٹی او آرز کمیٹی کے ساتویں اجلاس میں خواجہ سعد رفیق نے سابق صدر زرداری اور پی پی پی کے دونوں سابق وزرائے اعظم کی کرپشن کی بھی تحقیقات پر زور دیا ہے۔

جس کی تحریک انصاف اور جماعت اسلامی بھی حمایت نہیں کررہی اور اپوزیشن کی چار پارٹیاں نواز شریف کے پیچھے پڑی ہیں، جب کہ متحدہ اور اے این پی سب سے پہلے نواز شریف کے مسئلے پر پی پی پی اور پی ٹی آئی کا ساتھ نہیں دے رہیں۔ وزیراطلاعات پرویز رشید کا کہنا درست ہے کہ اگر اپوزیشن کے ٹی او آرز پر حکومت راضی ہوتی تو اس سلسلے میں کمیٹی کیوں بنائی گئی، چوہدری اعتزاز اور شاہ محمود قریشی کمیٹی کے دیگر ارکان کے برعکس نواز شریف دشمنی میں کمیٹی کو کامیاب نہیں ہونے دیںگے اور بلا امتیاز احساب پر متفق نہیں ہوںگے اور ان کی غیر اصولی ضد ہے کہ احتساب پہلے وزیراعظم سے شروع ہو۔

مقبول خبریں