لنکاوی سے پینانگ تک
حکومتی سطح پر پاکستان کے سیاحتی مقامات کو سنجیدگی سے اہمیت دینے کے لیے کسی بھی حکومت نے کوئی کام نہیں کیا۔
ملتان کے ایک شخص نے دنیا کو پاکستان کے تفریحی مقامات کی طرف راغب کرنے کے لیے موٹرسائیکل پر پورے پاکستان کا سفر شروع کر رکھا ہے۔
یہ شخص اپنے طور پر تنہا یہ سفر کر رہا ہے اور ملک کے مختلف علاقوں کے سفر کے بعد اسلام آباد پہنچ کر اپنے سفر کا اہتمام کرے گا۔ ملک کے مختلف علاقوں کی سیاحت کرنے والے اس شخص کی کوشش تب ہی رنگ لاسکتی ہے جب دنیا میں پاکستان کا امیج بہتر ہو، جس کی بہتری کی کوئی امید تو ہے ہی نہیں کیونکہ پاکستان میں اب تک یہ کوشش کی ہی نہیں گئی اور حکومتی سطح پر پاکستان کے سیاحتی مقامات کو سنجیدگی سے اہمیت دینے کے لیے کسی بھی حکومت نے کوئی کام نہیں کیا ، باقی رہی سہی کسر نائن الیون کے بعد شروع ہونے والی دہشت گردی نے پوری کر رکھی ہے۔
اﷲ تعالیٰ نے پاکستان کو ہر قدرتی نعمت اور موسم سے نواز رکھا ہے اور دنیا میں بہت کم ممالک پاکستان جیسے خوش قسمت ہوں گے مگر جب ان نعمتوں سے خود فائدہ اٹھایا جائے نہ دوسروں کو یہ سب کچھ دیکھنے کا موقع دیا جائے تو سیاحتی ترقی خواب بن کر رہ جاتی ہے اور دوسرے ممالک میں جاکر یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد یہ احساس شدت سے ہوتا ہے کہ یہ خوبصورت مناظر، قدرتی نعمتیں تو ہمارے یہاں بھی ہیں تو ہم ان سے کیوں محروم کردیے گئے ہیں؟ اورکیوں ہم دنیا کے سیاحتی مقامات میں شامل نہیں؟ جب کہ ہمارے یہاں بھی کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔
یہ احساس ہمیں بھی شدت سے ملائیشیا میں ایک ہفتہ گزارنے کے بعد ہوا،دنیا میں مشہور ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور سے بذریعہ جہاز چالیس منٹ کی مسافت پر واقع ساحلی چھوٹے شہر لنکاوی جاتے ہوئے ملائیشین ایئر لائن بھی ہمارے اداروں کی طرح نکلی، ہمارے ہاں بھی کرائے بڑھ رہے ہیں جب کہ پنجاب کے مختلف شہروں کے درمیان چلنے والی لگژری بسوں میں مسافروں کو اچھا ریفریشمنٹ فراہم کیا جاتا ہے۔ لنکاوی جاتے ہوئے ہمیں مونگ پھلی کا چھوٹا پیکٹ اور چھوٹے پلاسٹک گلاس میں مشروب فراہم کیا گیا۔
کوالالمپور سے ٹیک آف کرتے ہی جہاز بہت زیادہ ناہموار ہوا اور خوفزدگی کا یہ سفر تھوڑا ہی رہا اور لنکاوی میں لینڈنگ اور ایئرپورٹ سے شہر جاتے ہوئے خوبصورت مناظر نے خوف بھلا دیا اور دو روز تک ہم لنکاوی کے قدرتی مناظر کا پاکستان میں موجود سیاحتی مقامات سے موازنہ کرتے رہے اور لنکاوی کو کہیں آگے پایا۔ سمندر کنارے آباد لنکاوی کے تفریحی مقامات شہر سے دور دراز علاقوں اور سمندر اور سرسبز پہاڑوں تک پھیلے ہوئے ہیں جہاں صاف و خوبصورت سڑکوں، ضروری جگہوں پر لگے ٹریفک سگنلز، بل کھاتے راستے اور گاڑی سے ہی سمندر اور سرسبز پہاڑوں کے نظارے لنکاوی کا حسن ہیں۔
سڑک کنارے برساتی پانی کی نکاسی کے لیے بنائی گئی بڑی نالیاں اور نالوں کے اطراف خوبصورتی کے لیے لگائی سیمنٹ کی جالیاں اور ہر طرف سبزہ ہی سبزہ، وہاں کے برساتی موسم کا کمال ہے۔ سیاحوں سے بھرے ہوٹل، ڈیوٹی فری شاپس اور دیگر اسٹورز پر ہر چیز دستیاب ہے، سوکھی ہوئی مختلف چھوٹی بڑی مچھلیوں کا کاروبار بھی بہت وسیع ہے۔ شام 7 بجے سے رات 11 بجے تک خواتین مختلف اشیاء فروخت کرتی ہیں۔ لنکاوی کے تمام راستوں پر روشنی اور صفائی مثالی نظر آئی، کچرا ڈالنے کے لیے ڈسٹ بِن نصب ہیں جن کے باہر ہمارے ملک کی طرح کچرا نہیں ڈالا جاتا۔ لنکاوی کا آئرلینڈ، برڈ پارک، کروکو ڈائل پارک اور دیگر تفریحی مقامات دیکھنے دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں۔
اہم شاہراہوں پر جگہ جگہ لوگوں کے بیٹھنے کے لیے خوبصورت بینچیں بنوائی گئی ہیں، کچرا ڈالنے کے ڈرم اوپر سے بھی ڈھانپے گئے ہیں تاکہ بدبو نہ پھیلے، اونچے ہوٹلوں کے مقابلے میں گھر دو منزلہ گراؤنڈ پلس ون سے زیادہ کوئی رہائشی و تجارتی عمارت نہیں بنائی جاتی، جن کی چھتوں پر سرخ خوبصورت اینٹوں کا منظر ہی دیدہ زیب ہوتا ہے۔
ہمارے سفر کے ساتھی اور دوست فیصل میمن جو پہلے بھی ان خوبصورت علاقوں میں آچکے ہیں، نے ملائیشیا کے متعلق بہت کچھ بتانے کے ساتھ ساتھ جب یہ بتایا تھا کہ صاف وشفاف سمندر میں نیلے پانی کے ساتھ کالا پانی بھی ہے تو یقین نہیں آیا تھا کہ ایک سمندر میں دو مختلف پانی ؟ مگر جب لنکاوی سے بذریعہ فیری پینانگ جاتے ہوئے انھوں نے نیلے پانی کے بعد سیاہ پانی دکھایا جس کے بعد پھر نیلا پانی دیکھا تو قدرت کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکا۔ ہمارے سمندر کے مقابلے میں ملائیشیا اور متحدہ عرب امارات کے سمندر میں صفائی اور پانی کی شکایت واضح اور نمایاں فرق ہے۔
پینانگ بھی سمندر کنارے نہایت خوبصورت شہر ہے، جہاں خوبصورت عمارتوں کا ہمارا کوئی شہر مقابلہ نہیں کرسکتا۔ پینانگ میں سمندر کے قریب ہوٹل بڑی تعداد میں بنے ہوئے ہیں جن کے اور سمندر کے درمیان ہماری طرح خاصا فاصلہ یا کوئی سڑک نہیں بلکہ ہوٹل اور اہم سرکاری و نجی عمارتیں سمندر کنارے بنائی گئی ہیں۔ شام کو پینانگ میں بڑے بڑے مختلف گشتی اسٹالز لگائے جاتے ہیں جو رات کو ہٹا لیے جاتے ہیں۔ وہاں ایک نظام ہے ، زندگی معمولات کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، معاشرتی ماحول میں ہڑبونگ نہیں، سکون و عافیت کا احساس ہوتا ہے۔ سیاح خواتین وحضرات قدرتی مناظر اور انسانی صناعی اور ٹیکنالوجی کے نظارے کرتے ہوئے حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔
سمندر میں دن کے علاوہ رات کو بھی چھوٹی کشتیوں میں مقابلہ بازی ہوتی ہے اور بلون کے ذریعے لوگوں کو سمندر پر اُڑایا جاتا ہے۔ سمندر میں کشتیوں پر خطرناک لہروں کے باوجود مقابلہ بازی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ سمندر کنارے پھیلی بجری کپڑے خراب نہیں کرتی۔ پینانگ میں مختلف مذاہب کے مندروں میں سیاح گھومنے اور بہت سے لوگ عبادت کے لیے آتے ہیں اور تصاویر بناتے ہیں، پینانگ کی مختلف تفریح گاہوں میں پہاڑ پر بنا ہل اسٹیشن ہے، جہاں سے شہر اور سمندر کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ اس ہل اسٹیشن پر تین چار منٹ میں پہاڑ کو کاٹ کر بنائی گئی لائن پر ٹرین کے ذریعے بھی اوپر جانے والوں کا رش رہتا ہے۔ ایسا بہت کچھ ہمارے ملک میں بھی بنایا جاسکتا ہے، مگر اصل بات یہ ہے کہ یہ سب کرے کون، تاکہ سیاحتی ترقی ممکن ہوسکے؟