صرف کراچی…آخر کیوں…
قارئین کو یاد ہوگا کہ کراچی میں کلاشنکوف کلچر کس کے دور میں اور کس نے متعارف کرایا
کراچی پاکستان کے صوبہ سندھ کا دارالخلافہ جسے روشنیوں کا شہر کہا جاتا ہے یہ شہر بے شمار قومیتوں کو اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہے کراچی جہاں کئی برس پہلے مذہبی جماعتوں کا کنٹرول تھا۔
اس شہر میں ایم کیو ایم کے قیام سے پہلے غریب و متوسط طبقے کے لوگوں کا ایوانوں میں جانے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا ۔ایم کیو ایم کے قیام کے بعد کراچی اور سندھ کے غریب و متوسط طبقے کے نوجوانوں نے پہلی مرتبہ ایوانوں میں قدم رکھا اور ایوانوں میں بیٹھے ہوئے جاگیرداروں ، وڈیروں اور سرداروں میں پہلی مرتبہ ایک بے چینی پیدا ہوئی کہ ان کے برابر میں ایک غریب و متوسط طبقہ کا پڑھا لکھا نوجوان ایوان میں آگیا او رپھر ان کے ایوانوں میں ہلچل مچ گئی۔
ایم کیو ایم کے پڑھے لکھے نوجوانوں نے قومی اسمبلی ،صوبائی اسمبلی اور سینیٹ کی اسمبلیوں میں پہنچ کر یہ پیغام دے دیا کہ ملک کی تقدیر اب پڑھے لکھے نوجوان ہی تبدیل کرینگے لیکن اسٹیبلشمنٹ اور اس کے حواریوں نے پہلے سے زیادہ تیزی سے ایم کیو ایم کے خلاف سازشیں شروع کر دیں اور پھرکراچی اورحیدرآباد میں کبھی لسانی بنیادوں پر اور کبھی مذہبی بنیادوں پر فسادات کرانے شروع کر دیے جس میں سانحہ علی گڑھ،سانحہ حیدرآباد اور سانحہ پکا قلعہ جیسے بے شمار واقعات ہوئے ۔جس میں سیکڑوں بے گناہ معصوم مرد و خواتین اور بچے شہید کیے گئے لیکن ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین اور ان کے ساتھیوں نے ان تمام سازشوں کو ناکام بنادیا ۔
قارئین کو یاد ہوگا کہ کراچی میں کلاشنکوف کلچر کس کے دور میں اور کس نے متعارف کرایا اور یہ وہی زمانہ تھا جب کراچی میں بھاری تعداد میں اسلحہ لایا گیا۔ ایم کیو ایم نے ہمیشہ ملک میں افہام و تفہیم کی سیاست کی اور ملک کی تمام اکائیوں کو متحد کرکے ایک مضبوط پاکستان کی بات کی یہی وجہ ہے کہ اے پی ایم ایس سے لے کر مہاجر قومی موومنٹ اور پھر متحدہ قومی موومنٹ کے قیام تک کراچی روشنیوں کا شہر تھا۔ جس نے پورے پاکستان سے آنے والے لوگوں کو شہر میں رہنے اور روزی کمانے کا آسان ذریعہ فراہم کیا لیکن آج اس شہرکو ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کی زد میں لاکر ایک دفعہ پھر 19 جون 1992 کی طرز کے فوجی آپریشن کی بات کی جارہی ہے۔
قارئین ! ذرا ماضی کے دریچوں میں جھانکیں تو انھیں معلوم ہوگا کہ آج صرف اور صرف کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور فرقہ ورانہ فسادات کی بات کرنے والے اینکرز پرسن سیاسی اور مذہبی جماعتوںکے رہنماء یہ بھول گئے صوبہ پنجاب ،خیبر پختونخوا میں کامرہ ائیربیس ، مناواں پولیس ٹرینگ سینٹر،جی ایچ کیو پر حملہ اوربے شمار جگہوں اور تنصیبات پر خودکش حملہ کرنے والے کون لوگ تھے کیا میڈیا اور سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنمائوںکو یہ دہشت گردی نظر نہیں آرہی کیا صوبہ پنجاب کے کئی شہروں میں حالیہ دنوں میں پکڑا جانے والا اسلحہ اور دہشت گردی نظر نہیں آتے؟
جب خیبر پختونخواہ میں اسکولوں کو تباہ کرنے اور قوم کی بیٹی ملالہ پر حملہ کیا گیا وہاں کے لاء اینڈ آرڈرکو تباہ کردیا گیا ہے صرف کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور اسلحے کی بھرمار کا واویلاکرنے والوں کو پنجاب میں مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے جلسوں میں اسلحے کا آزادانہ استعمال کیوں نظر نہیں آتا ؟ پنجاب ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں آئے دن بے گناہ لوگوں کی ہلاکت ان کی نظروں سے کیسے غائب ہوجاتی ہے؟ یا پھر انھوں نے وہ عینک لگا رکھی جس سے صرف کراچی میں ہونے والی قتل و غارت گری نظرآتی ہے اور دوسرے صوبوں میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ ،خواتین کی بے حرمتی ، اغواء برائے تاوان اور اسلحہ کا کھلے عام استعمال پولیس اور لاء انفورسمنٹ ایجنسیوں کی ناکامی انھیں نظر نہیں آتی اس بات سے انکار نہیں کہ کراچی میں معصوم اور بے گناہ لوگوں کا قتل عام ہورہا ہے کہیں مذہبی بنیادوں پر تو کہیں لسانی بنیادوں پرلیکن فوجی آپریشن صرف کراچی میں ہی کیوں ؟
کیا قانونی اور غیر قانونی اسلحہ صرف کراچی میں ہے؟ کیا اس اسلحے کی ترسیل کراچی سے ہوتی ہے ؟ کیا اسلحہ ساز فیکٹریاں کراچی میں ہیں ؟ پاکستان کے باشعور عوام اب اس پروپیگنڈے میں نہیں آئیں گے کراچی کو تعصب کی آنکھ سے دیکھنے وا لوں کوسمجھناچاہیے کہ کراچی ہی نہیں بلکہ ملک بھرکے حق پرست عوام اپنے اتحاد سے اس شہر خصوصا ایم کیو ایم کو نشانہ بنانے والوں کو اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ دہشت گردی کی لعنت پورے ملک کو آسیب کی طرح جکڑے ہوئے ہے لیکن سیاسی بیانات اور ٹی وی کے پروگراموں میں آکرایم کیو ایم پر تنقید کرنے والے حقائق کو سامنے رکھیں۔کراچی ملٹی کلچرل سٹی ہے اور اس شہر میں لاقانونیت کسی بھی مذہب ، فقہ یا کسی لسانی گروہ کے فائدے میں نہیں۔
اس شہر کے مسائل کا حل تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو مل کر نکالنا ہوگا لیکن کسی خاص جماعت کو مورد الزام ٹھہرانا نہ اس شہر کے حق میں ہوگا اور نہ ملکی مفاد میں ہوگا لہٰذا تعصب کی عینک کو اتار کر شہر کراچی سے نہیں بلکہ پورے پاکستان کو اسلحے سے پاک اور پورے ملک سے ٹارگٹ کلنگ فرقہ وارانہ فساد اور دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے ملکر کام کرنا ہوگا جو اس شہر خصوصا پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا باعث بنے گی۔