حلیم کے لیے دیگ کا حصول ناممکن کرایہ 1500روپے تک ہوگیا

سبب تانبے کی قیمت میں اضافہ ہے،دیگ کرائے پردینے کیلیے2 شخصی ضمانتیں اور اصل شناختی کارڈ جمع کرانے کی شرط عائد.


Kashif Hussain November 24, 2012
ایک دکاندار حلیم کے لیے کرایے پر دی جانے والی دیگوں کو اپنی دکان کے سامنے رکھ رہا ہے۔ فوٹو: ایکسپریس

SARGODHA: تانبے کی قیمت میں اضافہ حلیم کی تیاری کے لیے دیگوں کی قلت کا سبب بن گئی ہے۔

شہر میں حلیم کے لیے دیگ کا حصول ناممکن ہوگیا ہے اور دیگ کرائے پردینے کے لیے دو شخصی ضمانتیں اور اصل شناختی کارڈ جمع کرانے کی شرط عائد کی جارہی ہے، ڈیکوریشن کا سامان کرائے پر دینے والے فیڈرل کیپٹل ایریا کے دکاندار محمد سلمان نے بتایا کہ تانبہ مہنگا ہونے کے باعث دیگوں کی چوری مسئلہ بن گئی ہے اور ڈیکوریشن سمیت کیٹرنگ سروس والوں نے دیگیں کرائے پر دینا بند کردی ہیں ۔

22سے 23 کلو وزن کی نئی دیگ کی قیمت 20ہزار روپے جب کہ پرانی دیگ کی اسکریپ قیمت 16ہزار روپے ہے، سال بھر دیگوں کی دیکھ بھال اور حفاظت کے علاوہ قلعی کرانے پر بھاری خرچ آتا ہے اور ہر وقت دیگ کی چوری کا خدشہ لگا رہتا ہے جس سے تنگ آکر دیگیں کرائے پر دینے کا کاروبار سال بہ سال کم ہوتا جارہا ہے جس سے 8محرم الحرام سے 10محرم الحرام کے دوران نذر نیاز اور حلیم کی تیاری کے لیے دیگوں کی قلت بھی بڑھ رہی ہے۔

اس سال 8محرم کو دیگ کا کرایہ 800سے 1000روپے تک وصول کیا جارہا ہے جبکہ 9اور 10محرم کے لیے دیگ کی پیشگی بکنگ 1500روپے تک میں کی جارہی ہے، دیگیں صرف جان پہچان والے پرانے کسٹمرز یا دو شخصی ضمانتیں اور اوریجنل شناختی کارڈ جمع کرانے والے گاہکوں کو کرائے پر دی جارہی ہیں، شہر میں دیگوں کی قلت سے نمٹنے کے لیے اندرون سندھ کے مختلف شہروں سے بھی دیگیں کراچی لائی گئی ہیں جبکہ تانبے کی دیگ کے ساتھ سلور کی دیگوں کے استعمال کا رجحان بھی زور پکڑ رہا ہے تاہم سلور کی دیگ حلیم تیار کرنے کے لیے موزوں نہیں.

حلیم کی تیاری کے لیے دیگوں کو باورچیوں کے برعکس بے دردی سے استعمال کیا جاتا ہے جس کے سبب دیگوں کے تلے کمزور ہوکر نکل جاتے ہیں اور ہر 2سیزن کے بعد تانبے کی دیگ کے تلے لگوانے پر فی دیگ 4سے 5ہزار روپے خرچ کیے جاتے ہیں اسی طرح لکڑی کے چولہوں پر پکنے سے دیگیں مکمل طور پر سیاہ پڑجاتی ہیں اور سیزن کے فوری بعد دیگوں کی قلعی کا کام شروع کردیا جاتا ہے قلعی کی قیمت بڑھ کر 3000روپے کلو تک پہنچ گئی ہے، تانبہ مہنگا ہونے کی وجہ سے دیگوں کی چوری اور دیگ سے بھری گاڑیاں چھننے کے واقعات بھی معمول بن چکے ہیں.

جس کی وجہ سے دیگوں کی حفاظت کے لیے کڑے انتظامات کیے جاتے اور دیگیں محفوظ گوداموں میں رکھی جاتی ہیں کیونکہ دکانوں کے شٹر اور تالے توڑ کر دیگیں چوری کرنا معمول ہے، حلیم کی تیاری کے لیے گھوٹے کا کرایہ 50سے 80روپے اور چولہے کا کرایہ 80سے 100روپے تک وصول کیا جارہا ہے جبکہ نیا گھوٹا 120سے 150روپے اور چار سے پانچ کلو وزن کا چولہا 400روپے میں فروخت کیا جارہا ہے۔

مقبول خبریں