صوبائی بجٹ اور ماہ صیام
گراں فروشی بڑھانے کا موقع وفاقی حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے خود دیتی ہے
چاروں صوبائی حکومتوں نے اپنے بجٹ پیش کردیے ہیں، جن پر وہاں کی اپوزیشن پارٹیوں نے حسب معمول احتجاج کیا جب کہ حکومتی ارکان نے حسب خوشامد اپنی حکومتوں کو مثالی بجٹ پر بجٹ پڑھنے اور سنائے جانے پر مبارک باد دی اور حسب سابق چاروں صوبائی بجٹ عوام دوست اور عوام دشمن قرار پائے۔ اس بار وفاقی اور صوبائی بجٹ رمضان المبارک میں پیش ہوئے اور بجٹ پر بحث بھی رمضان میں ہوئی، مگر کم ہوئی کیونکہ روزے رکھنے والے ارکان نے ایوانوں میں آنا ضروری نہ سمجھا، کیونکہ سرکاری ارکان کو حکومت کے جھوٹوں میں فریق بننا پڑتا اور اپوزیشن ارکان کو پتا تھا کہ انھیں کام کی بات کرنا کم اور شور مچانا زیادہ ہے اور ان کے شور سے متاثر ہوئے بغیر حکومتوں نے اپنے بجٹ اکثریت کی بنیاد پر منظور کرا لینے ہیں، اس لیے وہ نہ آئے اور بجٹ پر اظہار خیال غیر ضروری سمجھا۔
الفاظ کی ہیر پھیر کے ماہرین نے رمضان سے قبل ہی اپنی مرضی کا بجٹ پیش کرکے رمضان میں بجٹ پر بحث کا موقع ارکان کو دیا، جنھوں نے نام ضرور لکھوایا اور بعد میں نہ کردی۔ کسی صوبائی حکومت نے بجٹوں میں رمضان المبارک کا احترام نام کی حد تک کیا۔ سندھ اسمبلی کا کیفے ٹیریا رمضان میں کھلا رہا اور کسی صوبائی حکومت نے رمضان میں عوام کو ریلیف نہیں دیا، بلکہ اپنی نااہلی سے رمضان سے قبل ہی مہنگائی میں اضافہ ضرور کرا دیا۔
گراں فروشی بڑھانے کا موقع وفاقی حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے خود دیتی ہے مگر اب مہنگائی کے سدباب کا اختیار وفاقی حکومت کا کام نہیں رہا اور اب یہ ذمے داری صوبائی حکومتوں کے حوالے کردی گئی ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد امن و امان برقرار رکھنا اب صوبائی حکومتوں کی ذمے داری بن چکا ہے، اس لیے صوبائی حکومتیں مہنگائی پر توجہ دینے کے بجائے امن و امان کے معاملات پر زیادہ توجہ دے رہی ہیں۔
یہ الگ بات کہ امن و امان ہو یا نہ ہو مگر امن و امان برقرار رکھنے پر اربوں روپے کے فنڈ کے ساتھ پولیس اور بیوروکریسی میں تبادلوں اور تعیناتیوں کا اختیار بھی ملتا ہے اور اپنوں کو نوازنے کا موقع بھی ملتا ہے۔ صوبائی حکومتیں مہنگائی کنٹرول کرنے پر کوئی توجہ نہیں دیتیں، کیونکہ مہنگائی بھی امن و امان کی طرح عوام کا ہی اہم مسئلہ ہے۔ بدامنی میں شہری ہی مارے جاتے ہیں، لٹتے ہیں، مجرموں کی وارداتوں کا شکار بنتے ہیں، اغوا ہو کر پولیس کے بغیر تاوان ادا کرکے رہائی حاصل کرتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی ناقابل کنٹرول مہنگائی کا شکار بھی عام شہری خصوصاً غریب ہی بنتے ہیں اور حکمرانوں پر مہنگائی کا کوئی اثر پڑتا ہے نہ انھیں آٹے دال کا بھاؤ کا کچھ معلوم ہوتا ہے، کیونکہ انھیں تو ہر چیز گھر بیٹھے مفت مل جاتی ہے۔
تحفوں میں انھیں پھلوں کی پیٹیاں مفت مل جاتی ہیں، سبزیاں دال حکمران کھاتے نہیں۔ مہنگائی روکنے اور قیمتوں پر کنٹرول کی ذمے داری ہر حکومت میں کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنروں پر عائد کی جاتی ہے۔ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر مارکیٹوں میں جائے بغیر اپنے آرام دہ دفتروں میں اجلاس منعقد کرکے اشیا کے نرخ مقرر کردیتے ہیں اور فیصلوں پر عمل درآمد کی ذمے داری اسسٹنٹ کمشنروں کی ہوتی ہے۔ اب تو سولہ گریڈ کے مختار کاروں اور سترہ گریڈ کے اسسٹنٹ کمشنروں کے دفاتر بھی ایئرکنڈیشن ہوگئے ہیں، اس لیے ٹھنڈے کمروں سے باہر نکل کر گرمی اور گرد و غبار میں بازاروں اور مارکیٹوں میں جانا اب متعلقہ افسروں نے چھوڑ رکھا ہے۔ رمضان کی آمد سے قبل کمشنر اور ڈپٹی کمشنر دکھاوے کے لیے پرائس کمیٹیوں کے اجلاس منعقد کرکے سرکاری فرض پورا کردیتے ہیں۔
کئی سال سے رمضان سے قبل ہی تاجر اور منافع خور اشیائے ضرورت کے نرخ بڑھا دیتے ہیں جب کہ پہلے روزے ہی کو یہ نرخ بھی کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ سبزیاں، پھل، گوشت، گھی، بیسن و دیگر اشیا کے نرخ کسی احساس، شرم و حیا کے بغیر بڑھا دیے جاتے ہیں، جن پر توجہ دینا بیوروکریسی اور حکومتوں کا فرض اولین ہونا چاہیے مگر دونوں خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں کیونکہ مہنگائی پر توجہ دینے کے لیے کوئی فنڈ نہیں ملتا کہ خرد برد کا موقع ملے۔ اس لیے کوئی صوبائی حکومت رمضان میں بھی عوام کو لٹنے سے نہیں بچانا چاہتی اور عوام کو لٹیرے تاجروں، ہول سیلرز، ریٹیلرز اور ریڑھی پتھارے والوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔
عوام میڈیا پر مہنگائی کا رونا روتے ہیں، دہائیاں دیتے ہیں تو بھی حکومتوں پر اثر نہیں پڑتا۔ اب جب سے میڈیا متحرک ہوا ہے تو رمضان میں سولہ سترہ گریڈ کا کوئی افسر عوام کی بھلائی سے زیادہ میڈیا پر آنے کے لیے میڈیا کے ہمراہ مارکیٹوں اور بازاروں میں جاکر قیمتیں چیک کرلیتا ہے، جنھیں دیکھ کر گراں فروش سرکاری فہرستیں ٹانگ کر مقررہ نرخوں پر عمل کرلیتے ہیں اور ان کے جاتے ہی نرخ نامے چھپا کر من مانے نرخ وصول کرنا شروع کردیتے ہیں۔ سرکاری افسران گراں فروشوں پر جو جرمانے کرتے ہیں، اس کا فائدہ سرکاری خزانے کو ہوتا ہے اور بعد میں جرمانے کی رقم بھی گراں فروش مزید مہنگائی کرکے وصول کرلیتے ہیں اور عوام کو اس کا بھی فائدے کے بجائے نقصان ہی ہو رہا ہے۔
صرف پنجاب میں رمضان بازار سرکاری سرپرستی میں نظر آرہے ہیں جب کہ باقی صوبوں کو یہ بھی توفیق نہیں ہوئی کہ وہ بھی رمضان بازار ہی قائم کرا دیتے تاکہ عوام کو کچھ فائدہ ہوجاتا۔ سندھ میں تو سائیں سرکار سوئی ہوئی ہے جس کی وجہ سے کراچی سمیت کہیں بھی قیمتوں پر چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، البتہ گراں فروشوں کو مہنگائی کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔
عوام یہ سب تماشا برسوں سے دیکھتے آرہے ہیں اور بے بس ہیں، کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ رمضان میں صوبائی بجٹ پیش ہوچکے اور رمضان کے حوالے سے کسی بھی حکومت نے عوام کو رمضان پیکیج دینا گوارا نہیں کیا۔ اگر صوبائی حکومتیں رمضان میں بھی عوام کو کوئی سہولت نہیں دے سکتی تھیں تو کم سے کم رمضان ہی میں گراں فروشوں کو نرخ بڑھانے نہ دیتیں اور اپنے مقررہ نرخوں پر سختی سے عمل ہی کرادیتیں تو یہ بھی ان کا عوام پر احسان ہوتا۔ اشیائے ضرورت کے نرخوں پر کنٹرول ہر صوبائی حکومت کا فرض ہے مگر کسی کو احساس نہیں ہے کہ رمضان ہی میں عوام کو گراں فروشوں کے ہاتھوں لٹنے سے بچا لیا جاتا مگر نام نہاد عوام کی منتخب حکومتوں نے اس بار بھی مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا اور قیمتوں پر کنٹرول کی کوئی کوشش نہیں کی۔
مہنگائی بڑھنے میں شرمناک کردار متعلقہ افسران کا ہے جنھیں تو گھر بیٹھے معیاری اشیا مناسب نرخوں پر مل جاتی ہیں کیونکہ متعلقہ افسران کے گھروں پر کام کرنے والے سرکاری ملازموں سے کس گراں فروش کی جرأت ہے کہ انھیں مہنگا مال فروخت کریں، اس لیے افسروں کو مہنگائی کا پتا صرف میڈیا کے ذریعے چلتا ہے اور جب وہ اپنے گھریلو ملازمین سے پوچھتے ہوں گے تو وہ کہتے ہوں گے کہ سر میڈیا غلط بیانی کر رہا ہے، ہمیں تو ایسی کسی مہنگائی کا سامنا نہیں۔ رہے عوام انھیں پوچھتا کون ہے۔