ڈی ایٹ کانفرنس زرداری کی نمائندگی جمہوری نظام کی خلاف ورزی ہے غنویٰ

وزیراعظم کا کانفرنس میں نام ونشان تک نہ تھا،بااختیار بنانے کے دعوئوں کی قلعی کھل گئی


Staff Reporter November 24, 2012
عوام حکمرانوں کی چالبازیوں کوسمجھتے ہوئے ماورائے آئین اقدامات کیخلاف میدان آئیں فوٹو: ایکسپریس/فائل

پیپلزپارٹی (ش ب)کی چیئرپرسن غنویٰ بھٹو نے کہا ہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں منعقدہ ڈی ایٹ کی کانفرنس میں پاکستان کی جانب سے صدر زرداری کی شرکت اور نمائندگی سے ان کے مذکورہ ان دعوئوں کی قلعی کھل گئی ہے کہ وہ ملک کے پہلے صدر ہیں۔

جنھوں نے ملک میں صدر کے بجائے وزیر اعظم کو اختیارات دے کرانھیں بااختیار بنا دیا ہے جبکہ وزیراعظم کا کانفرنس میں کہیں کوئی نام و نشان تک نہیں تھا بلکہ صدر زرداری اپنے پورے خاندان سمیت مذکورہ کانفرنس میں شریک ہوکر ملک کی نمائندگی کر رہے تھے جبکہ آئین روایات اور پارلیمانی نظام کے تحت سربراہ حکومت کی حیثیت سے یہ وزیراعظم کا حق اور ذمے داری ہے اورصدر زرداری کا مذکورہ عمل جمہوری نظام کے صریحاً خلاف ورزی ہے ۔

70کلفٹن سے جمعے کو جاری ہونے والے اپنے بیان میں غنویٰ بھٹو نے کہا کہ یہ عجیب المیہ ہے کہ ڈی ایٹ کانفرنس میں وزیراعظم ملک کی نمائندگی سے نہ صرف محروم کر دیے گئے تھے بلکہ اس کانفرنس میں نہ صرف موجود نہیں تھے بلکہ یوں معلوم ہو رہا تھا کہ ملک میں صدارتی نظام قائم ہے اور وزیراعظم نام کی کوئی شخصیت اس ملک میں موجود ہی نہیں ہے جو پارلیمنٹ اور جمہوریت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے ۔انھوںنے عوام پرزوردیا ہے کہ وہ حکمران طبقہ کی مکاریوں اور چالبازیوں کو سمجھتے ہوئے ان کے عوام دشمن اور ماورائے آئین و قانون عوامل کے خلاف میدان عمل میں آئیں۔

مقبول خبریں