نماز ہی تو پڑھنی ہے

جمعے کی نماز کا خطبہ ہو رہا تھا، ایک صحت مند نوجوان مسجد میں آیا مگرکہیں جگہ خالی نہ دیکھ کر ایک نمازی کے آگے بیٹھ گیا


Muhammad Saeed Arain June 23, 2016

PESHAWAR: جمعے کی نماز کا خطبہ ہو رہا تھا، ایک صحت مند نوجوان مسجد میں آیا مگر کہیں جگہ خالی نہ دیکھ کر ایک نمازی کے آگے بیٹھ گیا، اسے کہا گیا کہ اوپر اور باہر بہت جگہ ہے اس دوران صف بندی شروع ہوگئی مگر نوجوان اوپر یا باہر جانے کی بجائے تھوڑا آگے بڑھے اور سامنے کی صف کے آخر میں ایسی جگہ کھڑے ہوگئے جہاں نماز ناممکن تھی اور مسجد کی جگہ نہ تھی مگر انھوں نے کہا کہ نماز ہی پڑھنی ہے اور پھر انھوں نے تنگ جگہ میں اپنے سے پیچھے والے کو مشکل میں ڈال کر جیسے تیسے دو فرض پڑھ لیے اور باہر نکل گئے۔

عام نمازوں کے برعکس جمعے کی نماز میں زیادہ اور رمضان المبارک میں مساجد میں بہت زیادہ نمازی ہوتے ہیں اور ہر جمعہ یا صرف رمضان میں نماز پڑھنے والے یہ حضرات تاخیر سے نماز پڑھنے آتے ہیں اور جگہ نہ ہونے کے باوجود رکاوٹیں ہٹا کر یا تنگ جگہ پر ہی نماز کے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں اور دیگر نمازیوں کے لیے آگے جانے یا واپس آنے کے راستے پر نماز شروع کردیتے ہیں۔ امام صاحب لاکھ اعلان کریں مگر ایسے لوگ کہاں سنتے ہیں جگہ ہو نہ ہو انھیں نماز ہی پڑھنی ہوتی ہے خواہ ان کی وجہ سے باہر جانے والے ان کے سلام پھیرنے تک انتظار میں کھڑے رہیں یا دیوار سے لگ کر یا دیگر کو پھلانگ کر باہر نکلیں مگر دوسروں کو راستہ نہیں دیا جاتا۔

عام نمازوں میں بھی دیکھا گیا ہے کہ فرض کے بعد کچھ نمازی باہر یا دوسری جگہ نماز پڑھنا چاہتے ہیں مگر بعض نمازی جگہ ہونے کے باوجود راستے میں کھڑے ہوجاتے ہیں جس سے دوسروں کو پریشانی ہوتی ہے۔ نماز ہر مسلمان پر فرض اور دین کا اہم ستون ہے مگر بدقسمتی سے ملک کی اکثریت کو نماز کے طریقے اور احترام کا علم ہے نہ نماز کی اہمیت اور مسجدوں کے احترام کا احساس۔ اس لیے لاعلمی میں ایسے گناہ سرزد ہوجاتے ہیں جو کوئی جان بوجھ کر کبھی نہیں کرسکتا۔

یوں تو فرقہ پرستی کے باعث ہماری مساجد میں بم دھماکے اور قتل و خونریزی کے بے شمار واقعات ہوچکے ہیں مگر عام نمازی بھی کم نہیں ہوتے اور کسی مسلکی جھگڑے کے بغیر بھی معمولی بات پر مسجدوں میں ایک دوسرے سے لڑنے اور بد کلامی سے بھی گریز نہیں کرتے جس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے علمائے کرام اور مساجد کے امام حضرات کی اکثریت اس طرف توجہ نہیں دیتی کہ لوگوں کو مساجد کے احترام کا بتایا جائے اور نمازیوں کو نماز کے طریقے اور ترتیب کا بتائیں۔ بہت سے لوگوں کو وضو صحیح نہیں آتا اور جلد بازی میں وضو کرکے امام کے پیچھے آکھڑے ہوتے ہیں اور نہیں جانتے کہ جب وضو ہی مقررہ طریقے سے نہیں ہوا تو نماز کیسے ہوسکتی ہے۔

دین سے دوری کے باعث لوگوں کو نمازکی اہمیت کا احساس نہیں یا انھیں نماز پر راغب نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے مستقل نمازیوں کی تعداد بہت کم ہے جو پانچوں وقت کی نماز کے پابند ہوں۔ ہمارے یہاں جمعے کو مساجد اور عید، بقر عید پر بڑی مساجد اور عید گاہیں بھری نظر آتی ہیں۔

عیدین کی نماز چونکہ سال میں دو بار ہوتی ہے اس لیے عید کی نماز کے موقعے پر امام صاحبان نمازعیدکا طریقہ ضرور بتاتے ہیں۔ نماز جنازہ کے موقعے پر بھی بعض امام حضرات نماز جنازہ پڑھنے کا بتاتے ہیں ۔ جمعے کی نماز میں بھی نمازیوں کی بڑی تعداد ہوتی ہے اور نماز جمعہ کے دو فرض بھی عام نماز کی طرح پڑھے جاتے ہیں اس لیے کسی مسجد میں نماز جمعہ کا طریقہ نہیں بتایا جاتا۔ جمعہ کی نماز میں ایسے نمازی بھی بڑی تعداد میں ہوتے ہیں جو دو فرض پڑھنے کے بعد مسجد سے نکل جاتے ہیں اور باقی نماز ادا نہیں کرتے، چھوٹے شہروں میں عید کی نماز پڑھنے آنے والے دو رکعت پڑھ کر خطبہ نہیں سنتے اور عید ملنا اور واپس گھر جانا شروع کردیتے ہیں اور انھیں خطبہ عید سننے کی اہمیت کا احساس نہیں ہوتا۔

فجر کی نماز میں دو سنتیں پہلے پڑھنا لازمی ہیں اور ہر نماز فجر میں نمازیوں کی تعداد محدود ہوتی ہے اس لیے وہ وقت سے پہلے آکر سنتیں ادا کرلیتے ہیں اور بعد میں فرض میں شامل ہوتے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ امام رکوع میں سمیع اللہ کہہ کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور سمیع اللہ سن کر بھی بعض لوگ رکوع میں جاکر امام کے ساتھ سجدے میں شامل ہوجاتے ہیں۔

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض تعلیم یافتہ لوگوں کو ظہر کی نماز کی پہلی چار سنتوں کی اہمیت کا علم نہیں ہوتا اور وہ ظہر میں چار فرضوں سے پہلے کی چار سنتیں اگر رہ گئی ہوں تو فرض کے بعد وہ ادا نہیں کرتے اور فرض کے بعد دو سنتیں پڑھ کر نماز مکمل سمجھ لیتے ہیں اور عشا میں چار فرض کے بعد دو سنتیں پڑھے بغیر وتر پڑھ کر چل دیتے ہیں اور نامکمل نماز پڑھ کر سمجھ لیتے ہیں کہ انھوں نے نماز پڑھ لی ہے۔

دیکھا گیا ہے کہ اکثر مساجد میں کسی بھی نماز کے بعد مختصر درس کا اہتمام نہیں کیا جاتا جب کہ بعض مساجد میں امام حضرات نماز فجر، عصر اور عشا کے بعد پانچ دس منٹ تک دعا سے قبل درس دیتے تو ہیں مگر یہ درست کلام پاک کی بعض آیات کے ترجمے یا دیگر دنیاوی معاملات تک محدود ہوتا ہے اور مساجد میں کم ہی طور پر وضو اور نماز کا طریقہ بتایا جاتا ہے۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کو کسی پریشانی ہی میں خدا یاد آتا ہے اس لیے وہ نماز پڑھنے آجاتے ہیں اور اپنی پریشانیوں کے خاتمے کے لیے دعائیں مانگتے ہیں مگر اللہ کے حضور مانگنے کا بھی طریقہ ہے جس میں اپنی غلطیوں کوتاہیوں کا اعتراف بھی ضروری ہے تب ہی دعا شرف قبولیت حاصل کرتی ہے ۔

بعض امام حضرات سمجھتے ہیں کہ لوگوں کو نماز اور وضو کی مکمل معلومات ہیں اسی لیے وہ لوگوں کی رہنمائی نہیں کرتے اور اپنی تنخواہ نماز پڑھاکر وصول کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کو 6 کلمے یاد ہیں بھی اس وقت آتے ہیں جب خطبہ ہو رہا ہوتا ہے اور خطبے سے قبل امام صاحب اگر معلومات فراہم بھی کرتے ہیں تو اس وقت مستقل نمازی ہی موجود ہوتے ہیں جنھیں پھر بھی نماز کی معلومات ہوتی ہیں۔ نئی نسل بھی اب نماز میں نظر آتی ہے اور اکثر لوگ دیکھا دیکھی ہی نماز پڑھ لیتے ہیں جب کہ انھیں نماز کی مکمل معلومات نہیں ہوتیں مذہبی معلومات میں شرمندگی کے باعث لوگ نماز کی معلومات نہیں کرتے کیونکہ انھیں یہ نہ کہہ دیا جائے کہ کیسے مسلمان ہو کہ یہ بھی نہیں پتا۔

والدین کے پاس اپنی اولاد کو دینی معلومات فراہم کرنے کا وقت ہوتا ہے نہ انھیں مکمل دینی معلومات ہوتی ہیں اس لیے دینی معلومات خصوصاً نماز کا درست ادائیگی کا طریقہ جاننے کے خواہش مند چاہتے ہیں کہ انھیں پوچھے بغیر علما حضرات خصوصاً امام حضرات ہی یہ معلومات فراہم کردیا کریں تاکہ انھیں کسی سے پوچھنا نہ پڑے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مساجد کے امام حضرات اس سلسلے میں کسی بھی نماز کے بعد تقریباً دس منٹ تک نماز اور وضو کا درست طریقہ اور دیگر معلومات کے لیے وقت ضرور نکالیں جس کی ضرورت ہوگی وہ ضرور دلچسپی لے گا۔ اس سلسلے میں تبلیغی حضرات بھی اہم کردار ادا کرکے نماز کی معلومات نہ رکھنے والوں کی رہنمائی کرسکتے ہیں۔

مقبول خبریں