بچے کی انفیکشن سے ختم ہوجانے والی ناک کی دوبارہ افزائش کا حیرت انگیز کارنامہ

12 سالہ ارون پٹیل کو غلط انجکشن لگائے گئے تھے جس کے بعد اس کی ناک ضائع ہوگئی تھی۔


ویب ڈیسک July 07, 2016
12 سالہ ارون پٹیل کو غلط انجکشن لگائے گئے تھے جس کے بعد اس کی ناک ضائع ہوگئی تھی۔

لاہور: بھارت میں دیہات کے جعلی ڈاکٹروں کی غفلت سے ایک بچے کی ضائع ہونے والی ناک ٹشو انجینئرنگ کی مدد سے دوبارہ اگا کر اس کی ناک کی جگہ لگادی گئی ہے۔

12 سالہ ارون پٹیل کی ناک اس وقت ضائع ہوئی جب وہ صرف ایک ماہ کا تھا اور اسے غلط انجیکشن لگنے سے شدید انفیکشن ہوگیا تھا۔ اس کے بعد اس کی ناک کے ٹشوز مرنا شروع ہوگئے اور وہ غائب ہوگئی تاہم پلاسٹک سرجری اور ٹشو انجینئرنگ کے ذریعے اس کی ناک کی افزائش ماتھے پر کرکے دوبارہ اپنے مقام پر پیوست کردی گئی۔



ڈاکٹر کے مطابق کئی مراحل کے بعد ارون کی ناک بنائی گئی ہے۔ اس عمل کو طب کی زبان میں 'پری فیبریکیٹڈ فورہیڈ فلیپ رائنوپلاسٹی' کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ اس عمل میں ایک سال لگا اور 4 آپریشن کے بعد ارون کی ناک تیار کرکے لگائی گئی۔ ارون کی رہ جانے والی ناک کا ٹکڑا لے کر اسے 3 ماہ تک ماتھے کے اندر رکھا جہاں خون کی رگیں بن گئیں اور ناک کی نشوونما شروع ہوگئی۔