ایس ایم ای سیکٹر کی ترقی امریکا پاکستان میں کروڑوں ڈالر کا نیا پراجیکٹ شروع کرے گا

کیری لوگربل کے تحت 5 کروڑ نجی ایکویٹی فنڈ کے ذریعے ایس ایم ایز میں انویسٹمنٹ کااعلان


Kashif Hussain December 01, 2012
پراجیکٹ آئندہ سال شروع،50 لاکھ تک کاروباری سرمایہ فراہم، 2013 میں کیری لوگر بل سے 1 ارب ڈالر کی فنڈنگ متوقع ہے، ڈپٹی کوآرڈینیٹر امریکی سفارتخانہ۔ فوٹو: ایکسپریس

امریکا نے کیری لوگر بل کے تحت معاشی معاونت کیلیے منظورہ شدہ پیکیج میں سے 5 کروڑ ڈالر کی رقم نجی ایکویٹی فنڈ کے ذریعے ایس ایم ایز میں انویسٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان میں امریکی سفارتخانے کے ڈپٹی کوآرڈینیٹر اکنامک اینڈ ڈیولپمنٹ اسسٹنس وینے چاولہ (Vinay Chawla) نے گزشتہ روز کراچی میں میڈیا بریفنگ میں ایکویٹی فنڈ میں سرمایہ کاری کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ امریکا اور پاکستان کے سیاسی تعلقات میں اتارچڑھائو رہا ہے تاہم معاشی تعلقات بدستور مضبوط اور مستحکم رہے ہیں، امریکا پاکستان کے مخلص دوست کی حیثیت سے مختلف شعبوں میں معاونت فراہم کررہا ہے جن میں سرفہرست انرجی اینڈ پاور، صحت، تعلیم، ایس ایم ایز، ایگری کلچر اور نجی شعبے کی ترقی شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان سرمایہ کاری کیلیے بہترین ملک ہے اور سرمایہ کاری سے متعلق قوانین بھی بہتر ہیں تاہم برانڈنگ اور دیگر انفرااسٹرکچر مسائل درپیش ہیں، امریکا پاکستان کو امداد کے بجائے تجارت کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے عوامی تعلقات کے فروغ کا خواہاں ہے جس کیلیے نجی شعبے کی معاونت اور چھوٹے کاروبار کی ترقی کے ذریعے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کیلیے پرائیویٹ ایکویٹی فنڈ سے ایس ایم ایز کی سرمائے کی طلب پوری کرنے کا منصوبہ شروع کیا جارہا ہے۔

01

انہوں نے بتایا کہ پرائیویٹ ایکویٹی فنڈ کے ذریعے پاکستان کے علاوہ خلیجی ریاستوں اور خود امریکا کے فنڈ منیجرز پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے خواہش مند ہیں، اس سلسلے میں فنڈ منیجرز کے انتخاب کیلیے ہونے والے پہلے رائونڈ میں پاکستان، خلیجی ریاستوں اور امریکا کے فنڈ منیجرز نے امریکی سرمایہ کاری کے ساتھ اپنی طرف سے بھی 66کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی پیشکش کی ہے، ان فنڈ منیجرز میں سے کچھ کو شارٹ لسٹ کرلیا گیاہے اور شارٹ لسٹ ہونے والے فنڈ منیجرز جنوری 2013 تک اپنی فائنل ایپلی کیشن پیش کردیں گے جس کے بعد آئندہ سال کی پہلی یا دوسری سہ ماہی میں 2ایکویٹی فنڈز کے ذریعے پاکستان میں سرمایہ کاری کا آغاز کردیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ فنڈ کے ذریعے 5 لاکھ ڈالر سے 50 لاکھ ڈالر تک سرمائے کی ضرورت پوری کی جائیگی، زیادہ تر 1 سے 1.5 کروڑ ڈالر کے حجم کے کاروباری ادارے اور کمپنیاں مستفید ہوسکیں گی، نجی فنڈ منیجرز ایکویٹی فنڈنگ کیلیے شعبوں اور کمپنیوں کا انتخاب کرنے میں پوری طرح آزاد ہوں گے، امریکا لمیٹڈ پارٹنر ہوگا اور صرف فنڈ کے عالمی ماحولیاتی اور سماجی اصولوں کے مطابق چلائے جانے اور ممنوع قرار دیے جانے والے شعبوں مثلاً فائر آرمز جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری نہ کرنے کو یقینی بنائے گا، یہ ایکویٹی فنڈ پاکستان پر کوئی شرط عائد کیے بغیر کام کرے گا، یعنی اس فنڈ پر خود امریکا بھی کوئی قدغن نہیں لگاسکے گا، فنڈ منیجرز کاروباری اداروں اور ایس ایم ایز میں ایکویٹی پوزیشن لیتے ہوئے فنڈنگ کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ نجی ایکویٹی فنڈ میں پاکستانی بزنس کمیونٹی نے بھرپور سپورٹ کی یقین دہانی کرائی ہے اور نجی شعبے کی جانب سے اس فنڈ کو بے حد سراہا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایکویٹی فنڈنگ کے لیے 5 کروڑ ڈالر کا سرمایہ کیری لوگر بل کے تحت معاشی معاونت کیلیے مختص فنڈ میں سے مہیا کیے جا رہا ہے جو پہلے ہی منظور شدہ اور دستیاب ہیں، فنڈ کے ذریعے ملنے والا ریٹرن دوبارہ پاکستان میں انویسٹ کیا جائے گا جس سے مستحکم ترقی کیلیے معاشی معاونت کا مقصد حاصل ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ فنڈمنیجرز امریکا کی سرمایہ کاری کے مقابلے میں 75فیصد تک سرمایہ لگانے پر تیار ہیں تاہم ایک فنڈ میں کم سے کم 2.4 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی حد مقرر کی گئی ہے۔

02

پاکستانی معیشت میں امریکی معاونت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تین سال کے دوران کیری لوگر بل کے تحت 3ارب ڈالر کی معاونت کی گئی ہے جس میں سے 50فیصد حکومت کے ساتھ اور باقی پاکستان میں کام کرنے والی این جی اوز اور نجی شعبے کے ساتھ خرچ کی گئی، 2013کیلیے کیری لوگربل کے تحت پاکستان کی معاونت کیلیے ابھی کانگریس کو درخواست بھیجی جائیگی، رواں سال کی طرح آئندہ سال بھی 1 ارب ڈالر تک کی منظوری متوقع ہے۔ انھوں نے بتایاکہ کیری لوگر بل کے تحت ملنے والی رقم میں سے 85 فیصد اقتصادی معاونت کیلیے خرچ کی جا رہی ہے،پاکستان کے نجی شعبے سے اشتراک بڑھاکر دونوں ملکوں کے عوامی تعلقات کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں توانائی کا بحران کم کرنے کیلیے امریکا اپنا کردار ادا کررہا ہے اور 2009 سے اب تک 500 میگا واٹ بجلی مہیا کی گئی ہے جسے ایک سے ڈیڑھ سال میں ایک ہزار میگا واٹ تک بڑھایا جائے گا، اس طرح پاکستان کو اپنی توانائی کی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی، تربیلا ڈیم میں ٹربائن کی منتقلی کے ساتھ سندھ میں جامشورو اور گدو تھرمل پلانٹ، گومل سدپارہ ڈیم پر بھی معاونت کی جارہی ہے۔

امریکا پاکستان میں بجلی کی ترسیل کے نظام کی خرابیوں لائن لائسز کم کرنے کیلیے بھی واٹر اینڈ پاور اتھارٹی کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے، امریکی معاونت سے جے پی ایم سی میں ایک نیا وارڈ تعمیر کیا گیا جبکہ سندھ بھر میں وزارت تعلیم سے مل کر 200نئے اسکول تعمیرکیے گئے جہاں بنیادی تعلیم فراہم کی جارہی ہے، اسی طرح اسکول اور کالج کے طلبہ کیلیے خصوصی اسکیم کے تحت معاونت جاری ہے، پاکستانی یونیورسٹیز کو امریکی یونیورسٹیز سے منسلک کرکے اعلیٰ تعلیم کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں