دبئی تعمیرات میں پاکستان کو زیادہ حصہ دینے کی منصوبہ بندی

ابتدائی طور پر متحدہ عرب امارات میں اس منصوبے میں پاکستان کے لیے معاشی فوائد کی بات چیت جاری ہے۔


Kashif Hussain December 03, 2012
کونسل کے آئندہ اجلاس میں اس منصوبے سے پاکستان کے لیے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی طے کی جائیگی۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل

پاکستان اور عرب امارات کی مشترکہ بزنس کونسل نے دبئی میں تعمیر ہونے والے اربوں ڈالر مالیت کے تعمیراتی منصوبے میں پاکستان کے لیے زیادہ سے زیادہ حصہ حاصل کرنے کی منصوبہ بندی شروع کردی ہے۔

دبئی میں اربوں ڈالر مالیت کے اس منصوبے کے تحت دنیا کا سب سے بڑا شاپنگ مال، سب سے بڑا پارک، یونیورسل اسٹوڈیو اور سیاحتی انڈسٹری کے لیے متعدد پراجیکٹ شامل ہیں۔ اس منصوبے کا اعلان حال ہی میں دبئی کے فرماں روا شیخ محمد بن راشد المختوم نے کیا ہے۔

پاک یواے ای مشترکہ بزنس کونسل کے چیئرمین اور ایف پی سی سی آئی کی پاک یو اے ای بزنس کونسل کے چیئرمین مرزااختیار بیگ نے متحدہ عرب امارات کے قومی دن کے حوالے سے ایکسپریس سے خصوصی ملاقات میں بتایا کہ دبئی میں تعمیر ہونے والے اس منصوبے میں پاکستانی سرمایہ کار رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنے کے ساتھ پاکستان کی تعمیراتی صنعت، بینکنگ، آئی ٹی اور ٹیلی کمیونی کیشن کمپنیوں کے لیے بے پناہ مواقع موجود ہیں پاکستان اس منصوبے کے لیے نہ صرف تعمیراتی میٹریل اور لیبر ایکسپورٹ کرے گا بلکہ ایوی ایشن، آئی ٹی ٹیلی کام، بینکنگ کے شعبے سے افرادی قوت ایکسپورٹ کرنے کے ساتھ ان شعبوں میں سرمایہ کاری کے بھی وسیع مواقع موجود ہیں اور مشترکہ بزنس کونسل اس حوالے سے فعال ترین کردار ادا کررہی ہے۔

کونسل کے آئندہ اجلاس میں اس منصوبے سے پاکستان کے لیے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی طے کی جائیگی ابتدائی طور پر متحدہ عرب امارات میں اس منصوبے میں پاکستان کے لیے معاشی فوائد کی بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک یو اے ای مشترکہ بزنس کونسل میں دونوں ملکوں کے دس دس سرفہرست بزنس مین شامل ہیں مشترکہ کونسل دونوں ملکوںمیں تجارت سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے کوشاں ہے اور بزنس کونسل کے چیئرمین کی حیثیت سے انہوں نے دونوں ملکوں کے مابین متعدد تجارتی تنازعات کو خوش اسلوبی سے نمٹانے میں اہم کردار ادا کیا جن میں پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کی نج کاری کے واجبات، نیلم جہل ہائیڈل پاور منصوبے، خلیفہ ریفائنری میں سرمایہ کاری اور مالاکنڈ ڈویژن کے لیے امداد سے متعلق معاملات شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات پاکستان میں لائیو اسٹاک ، ایگروبیس انڈسٹریز، فوڈ پراسیسنگ اور فوڈ پیکجنگ اور پولٹری و حلال میٹ انڈسٹری میں بھاری سرمایہ کاری کا خواہش مند ہے متحدہ عرب امارات پاکستانی ایگری پراڈکٹس لائیو اسٹاک پولٹری اور حلال گوشت کی بہت بڑی منڈی بن کر ابھر رہا ہے جس کی وجہ سے ٹیکسٹائل کے شعبے کے پاکستانی سرمایہ کار بھی لائیو اسٹاک سیکٹر میں سرمایہ کاری کررہے ہیں اور حال ہی میں ٹیکسٹائل کے ایک معروف صنعتکار نے لانڈھی میں اپنی مل کو جدید سلاٹر ہائوس میں تبدیل کردیا ہے جہاں سے حلال گوشت متحدہ عرب امارات اور خلیجی ریاستوں کو ایکسپورٹ کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات پہلے ہی سندھ میں مویشیوں کے چارے کی کاشت کا آغاز کرچکا ہے اور گزشتہ ایک سال سے سندھ میں پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر ہائی پروٹین اینمل فیڈ ''Alfalfa'' کی فارمنگ شروع کی ہے یہ فیڈ اس سے قبل دنیا کے ترقی یافتہ ممالک امریکا، کینیڈا، ارجنٹینا، فرانس، سائوتھ افریقہ آسٹریلیا اور مڈل ایسٹ میں کاشت کی جارہی تھی جسے متحدہ عرب امارات نے کامیابی کے ساتھ پاکستان میں کاشت کیا جس کی 50فیصد پیداوار ایکسپورٹ کی جارہی ہے۔ متحدہ عرب امارات پاکستان میں پانی کے چھوٹے ذخائر(ڈیمز) کی تعمیر میں بھی دلچسپی رکھتا ہے۔

مقبول خبریں