مغربی پابندیوں کے بعد ایران کو پہلی بار سنگین معاشی بحران کا سامنا

مشکلات کے باعث احمدی نژاد اور خامنہ ای کے حلقے ایک دوسرے پر سخت ناراض، سنگین الزامات


Online December 03, 2012
ایران کو درپیش معاشی مشکلات کی بنیادی وجہ صدر احمدی نژاد کی جانب سے عالمی اقتصادی پابندیوں سے نمٹنے میں ناکامی ہے. فوٹو: فائل

ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے باعث تہران کے خلاف عائد عالمی اقتصادی پابندیوں کے تباہ کن اثرات نے ایرانی حکمرانوں کو ایک دوسرے کے خلاف سخت برانگیختہ کر رکھا ہے جہاں حکمران طبقہ ملک کو درپیش ناکامیوں کا ملبہ ایک دوسرے پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تہران حکومت کے اندرونی حلقوں سے عرب میڈیا کو ملنے والی رپورٹ سے صدر محمود احمدی نژاد اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے درمیان چشمک اور ملک کو درپیش بحران کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مرشد اعلی کے بعض خواص نے صدر احمدی نژاد کی داخلی خارجی اور معاشی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ناکام حکمت عملی کے باعث صدر نے ملک کو تباہی کے دہانے پے لا کھڑا کیا ہے۔

بظاہر ایرانی حکام یہ تاثر دینے کی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ عالمی اقتصادی پابندیوں سے تہران پر زیادہ منفی اثرات مرتب نہیں ہوئے ہیں لیکن زمینی حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے معاشی بحران کی وجہ سے نہ صرف بر سر اقتدار گروپ میں اختلافات پائے جا رہے ہیں بلکہ عوام میں بھی سخت اشتعال پایا جاتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران1979میں برپا ہوئے انقلاب کے بعد تین عشروں میں پہلی مرتبہ اس نوعیت کے سنگین معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے ایران کو درپیش معاشی مشکلات کی بنیادی وجہ صدر احمدی نژاد کی جانب سے عالمی اقتصادی پابندیوں سے نمٹنے میں ناکامی ہے کیونکہ صدر ان پابندیوں کے منفی اثرات سے نکلنے کے لیے کوئی موثر اور ٹھوس لائحہ عمل مرتب نہیں کر سکے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے تسلسل کے خلاف یورپی یونین اور امریکا نے پچھلے دو برسوں کے دوران تہران کے خلاف سخت معاشی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، ان پابندیوں کے باعث ایرانی تیل کی عالمی منڈی تک رسائی نہ ہونے کے باعث ملک سنگین معاشی گرداب میں پھنس چکا ہے۔ تہران کے خفیہ ذرائع کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت خوراک اور اجناس کی ضرورت پوری کرنے کے لیے 10ملین ٹن گندم برآمد کر رہی ہے اس کے باوجود غلے کی ضروریات پوری ہوتی دکھائی نہیں دیتیں۔

گندم کا کافی ذخیرہ نہ ہونے کے باعث خدشہ ہے کہ اب عوام بھی سڑکوں پر نکل آئیں گے ایرانی حکومت کے بعض اہم عہدیدار اور احمدی نژاد کے مخالفین یہ توقع کیے ہوئے ہیں کہ 2013 کے صدارتی انتخابات میں نئے صدر کے انتخاب کے بعد حالات بہتر ہونا شروع ہو جائیں گے، تاہم ایران کی کسی بھی آئندہ حکومت کی جانب سے یورنیم کی افزودگی کا عمل بند ہونے کا کوئی احتمال نہیں ہے۔

مقبول خبریں