مثبت تبدیلی آزادی افکار سے ہی ممکن ہے ڈاکٹر مبارک علی

دنیا کی بہترین جامعات میں انسانوں اور انسانی معاشروں کو درپیش مختلف قسم کے مسائل پر مسلسل تحقیق ہوتی رہتی ہے۔


Staff Reporter December 03, 2012
ڈاکٹر مبارک علی نے کہاکہ جامعات کا حقیقی مقصد معاشرے میں آزادی افکار کا فروغ اور علم کی تخلیق ہونا چاہیے. فوٹو: فائل

معروف تاریخ دان ڈاکٹر مبارک علی نے کہا ہے کہ مثبت تبدیلی کا عمل آزادی افکار سے ہی ممکن ہے۔

جامعات کا حقیقی مقصد معاشرے میں آزادی افکار کا فروغ اور علم کی تخلیق ہونا چاہیے جب تک جامعات معاشرے کو درپیش مسائل پر تحقیق اور ان کے حل کی جانب رہنمائی نہیں کریں گی تب تک وہ اپنے اصل مقصد سے دور رہیں گی دنیا کی بہترین جامعات میں انسانوں اور انسانی معاشروں کو درپیش مختلف قسم کے مسائل پر مسلسل تحقیق ہوتی رہتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے وفاقی اردو یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ عام کے تحت منعقدہ ایک توسیعی لیکچر میں کیا توسیعی لیکچر میں ڈین فیکلٹی آف آرٹس پروفیسر ڈاکٹر سیمی نغمانہ طاہر،شعبہ تاریخ عام کے صدرپروفیسر ناصر عباس کے علاوہ اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعدادنے شرکت کی لیکچر سے خطاب میں ڈاکٹر مبار ک علی نے کہا کہ سب سے پہلے جامعہ کے ادارے کا آغاز یونان سے ہوا جہاں طلبہ کو تعلیمی اور انتظامی معاملات میں بھی اہمیت دی جاتی تھی طلبہ اپنے لیے اساتذہ کا انتخاب کرتے تھے اور ان کے لیے معاوضہ کا اہتمام بھی کرتے تھے۔

ارسطو نے اپنے استاد افلاطون کے نظریات کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا یا اور اپنے دلائل سے رد کرنے کی کوشش کی، کلیسا نے جامعہ کے ادارے پر اپنا تسلط قائم کرنا شروع کیا اور جامعات میں طلبہ کی توجہ کو افکار کی آزادی اور نئے علم کی تخلیق کی بجائے مذہبی عقائد کو فلسفہ کی مدد سے ثابت کرنے کی جانب موڑ دیا گیا 14 وی صدی عیسوی میں مغربی معاشرے نے چرج کی حاکمیت تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور علوم کو عقائد کی بندش سے آزادی مل گئی، ڈاکٹر مبارک علی نے کہاکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں اساتذہ اور طلبہ مل کر تحقیقی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں اور اپنی تحقیق کے نتائج سے ایک دوسرے کو آگاہ رکھتے ہیں۔

پاکستان میں اساتذہ کی جانب سے تحقیق میں دلچسپی نہ لینے اور علم کی تخلیق سے جی چرانے کے عمل نے جامعات کو معاشرے کا کمزور ترین حصہ بنا دیا ہے،اس موقع پر ڈین فیکلٹی آف آرٹس ڈاکٹر سیمی نغمانہ طاہر نے کہا کہ جامعہ کا ادارہ معاشرے میں تخلیق کا نشان ہونا چاہیے،شعبہ تاریخ عام کے صدر پروفیسر سید ناصر عباس نے کہا کہ تاریخ کے مطالعے سے اپنی کوتاہیوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔

مقبول خبریں