ٹیلی کام کمپنیوں کے تحفظات تھری جی لائسنس کی نیلامی تیسری مرتبہ ملتوی ہونے کا خدشہ

فرمز نے لائسنس فیس مناسب سطح پر لانے، وصولی 60 روز کے بجائے طویل مدت میں اور چھائونیوں وڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹیزمیں۔۔۔


Kashif Hussain December 04, 2012
کنسلٹنٹس پر بھی اعتراض، نیلامی آئندہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی تک موخر ہوسکتی ہے، تھری جی ٹیکنالوجی اجرا سے حکومت کو 1 ارب ڈالر آمدن متوقع ہے، ذرائع (فوٹو : فائل)

KARACHI: ٹیلی کام کمپنیوں نے تھری جی لائسنس کی شرائط پر اپنے تحفظات حکومت کو ارسال کردیے ہیں جن میں لائسن فیس کی مالیت، وصولی کی مدت، 7شہروں میں بیک وقت رول آئوٹ میں درپیش رکاوٹوں سے متعلق تحفظات شامل ہیں۔

ٹیلی کام کمپنیوں کے مطابق بڑھتے ہوئے آپریٹنگ اخراجات کے سبب زیادہ تر کمپنیوں کو خالص منافع نہیں مل رہا اور یہ کمپنیاں صرف آپریٹنگ منافع تک محدود ہیں اس لیے لائسنس کی مد میں اربوں روپے کی فیس کی 60 روز میں ادائیگی مشکل ہے۔ تھری لائسنس کی نیلامی کے لیے نظرثانی شدہ انفارمیشن میمورنڈم (IM) رواں ہفتے جاری کیا جائے گا تاہم انڈسٹری کے تحفظات کے باعث انفارمیشن میمورنڈم کے اجرا میں تاخیر اور انڈسٹری کے تحفظات دور نہ ہونے کی صورت میں تھری جی لائسنس کی نیلامی تیسری مرتبہ التوا کا شکار ہونے کا خدشہ ہے۔ ملک میں جدید ترین ٹیلی کمیونی کیشن تھرڈ جنریشن ٹیکنالوجی کے لائسنس کے اجرا سے حکومت کو ایک ارب ڈالر سے زائد کی آمدن ہوگی۔

1

جبکہ ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کی ترقی پر بھی چند سال میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی جس کے نتیجے میں صارفین کو تھرڈجنریشن ٹیلی کام ٹیکنالوجی دستیاب ہوگی ساتھ ہی روزگار کے 40 ہزار سے زائد نئے مواقع بھی مہیا ہوں گے، تھری جی لائسنس کے عمل کو شفاف بنانے کیلیے غیرملکی کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کرلی گئی ہیں تاہم اس عمل کو شفافیت کے حوالے سے تنقید کا سامنا ہے لیکن موجودہ حکومت کیلیے معاملہ ''ابھی یا کبھی نہیں'' بھی ہوسکتا ہے۔

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سے حال ہی میں ملاقات کرنے والے ٹیلی کام انڈسٹری کے اعلیٰ وفد میں شامل شخصیت کے مطابق ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے تھری جی لائسنس فیس کو مناسب سطح پر لانے، لائسنس فیس کی وصولی 60روز سے بڑھا کر ٹیلی کام آپریٹنگ لائسنس کی طرز پر طویل مدت میں وصول کرنے کا مطالبہ کیا ہے، ساتھ ہی راولپنڈی اسلام آباد، صوبائی دارلحکومت سمیت 7شہروں میں بیک وقت رول آئوٹ کے دوران چھائونیوں اور ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹیز میں پیش آنے والی رکاوٹوں کو بھی دور کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

2

ذرائع نے بتایا کہ بڑھتے ہوئے آپریٹنگ اخراجات کے سبب تین سرفہرست ٹیلی کام کمپنیوں کا خالص منافع (نیٹ پرافٹ) منفی ہے، بہتر کیش فلو کے ساتھ یہ کمپنیاں آپریٹنگ منافع ضرور حاصل کررہی ہیں تاہم بلند آپریٹنگ کاسٹ کمپنیوں کیلیے مسئلہ بنی ہوئی ہے، ملک میں سیکیورٹی مسائل اور بجلی کا بحران دو بنیادی عوامل کی وجہ سے ٹیلی کام کمپنیوں کی آپریٹنگ کاسٹ میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ملک بھر میں تمام موبائل ٹاورز ڈیزل جنریٹرز کے بیک اپ پر چل رہے ہیں، طویل لوڈ شیڈنگ کے دوران زیادہ تر وقت ڈیزل خرچ کرکے بجلی مہیا کی جارہی ہے۔

اسی طرح 70 فیصد موبائل ٹاورز پر سیکیورٹی گارڈز تعینات ہیں اور سیکیورٹی کے حوالے سے خصوصی اقدامات پر بھی بھاری اخراجات کا سامنا ہے، یہی وجہ ہے کہ نیٹ پرافٹ نہ ہونے کی وجہ سے کمپنیوں نے تھری جی لائسنس کی فیس کو مناسب سطح پر لانے اور ادائیگی کی مدت میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔

انڈسٹری کو خدشہ ہے کہ نیلامی کیلیے کنسلٹنٹس کی خدمات پر اٹھائے جانے والے اعتراض نیلامی میں تاخیر کا سبب بن سکتے ہیں اور نئے انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہوکر موجودہ حکومت کی لائسنس کے اجرا میں دلچسپی بھی کم ہوسکتی ہے جس کے نتیجے میں لائسنس کا اجرا آئندہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی تک ملتوی ہو سکتا ہے۔

مقبول خبریں