بل کی عدم منظوری سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے طلبا آج دھرنا دینگے

دوسرے مرحلے میں طلبا پریس کلب اوریونیورسٹی گیٹ کے سامنے بھوک ہڑتال کرینگے،طلبا ایکشن کمیٹی.


Staff Reporter December 05, 2012
350 طالب علموں کی ایم بی بی ایس کلاسیں شروع، انٹرولمنٹ و دیگر مسائل حل طلب، وزیر صحت بل کی منظوری میں کردار ادا کریں،طلبا

سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے طالب علموں نے آج یونیورسٹی کے سامنے احتجاجی دھرنادینے کااعلان کیاہے اورکہا ہے کہ جب تک یونیورسٹی کے قیام کا بل سندھ اسمبلی منظور نہیں کرتی احتجاجی دھرنااورمظاہرے جاری رہیںگے۔

دوسرے مرحلے میں طلبا وطالبات کراچی پریس کلب اوریونیورسٹی کے گیٹ کے سامنے احتجاجی بھوک ہڑتال بھی کریں گے یہ بات سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے طالب علموں پر مشتمل طلبہ ایکشن کمیٹی کے رہنمائوں نے بتائی ان طالب علموں نے بتایا کہ ہم نے سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے قیام کے اعلان کے بعد سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے نام پر داخلے لیے تھے لیکن 30 اگست سے ابھی تک یونیورسٹی کا بل اسمبلی میں پیش کیا گیا اورنہ اسمبلی سے منظورکیا جا سکا جس کی وجہ سے یونیورسٹی کا درجہ نہیں مل سکا۔

07

طلبا ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے بتایا کہ یکم جون کو جاری کیے جانے والے آرڈیننس کی مدت30 اگست کو ختم ہوگئی ہے جس کے بعدیونیورسٹی کی سابقہ حیثیت سندھ میڈیکل کالج بحال ہوگیاہے ان طالب علموں نے بتایا کہ سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے اعلان کے بعد اب تک 350 طالب علموں نے ایم بی بی ایس میں داخلے لیے جن کی کلاسیں بھی شروع کردی گئی ہیں لیکن طالب علموں کے انٹرولمنٹ سمیت دیگر مسائل حل طلب ہیں،حکومت سندھ ہمارے مستقبل سے نہ کھیلے بصورت دیگر طالب علم احتجاجی مظاہرے، دھرنے کا سلسلہ شروع کردیں گے اور مجبوراً سندھ اسمبلی کے سامنے بھی دھرنا دیاجائے گا جس کی تمام تر ذمے داری حکومت پر عائد ہوگی۔

08

ان طالب علموں نے وزیر صحت ڈاکٹر صغیراحمد سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سلسلے میں سندھ اسمبلی میں اپنا کردار ادا کریں اور5دسمبر سے شروع ہونے والے اسمبلی اجلاس میں بل کو پیش کیاجائے،طالب علموں نے کہاکہ سندھ میڈیکل کالج کو سندھ میڈیکل یونیورسٹی کا درجہ دیے جانے سے متعلق جاری کیے جانے والے احکامات کو نظراندازکردیاگیا ہے یہی وجہ ہے سندھ اسمبلی میں یونیورسٹی کا درجہ دیے جانے سے متعلق کوئی عملی اقدامات نہیں کیے جا سکے جس کی وجہ سے طالب علموں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔