یہ افسوسناک خاموشی کیوں

پولیس اہلکار ہوں یا عام لوگ مسلح افراد کے سامنے آنے کی جرأت کوئی نہیں کرتا .


Muhammad Saeed Arain December 05, 2012

اچانک بازار میں بھگدڑ مچ گئی، خواتین، مرد بچے، ملحقہ گلیوں میں داخل ہو کر اندھا دھند بھاگے اور اس دوران گلی کے سامنے متعدد افراد موٹر سائیکلوں پر منہ ڈھانپے سوار تین تین کی ٹولیوں میں ڈنڈے اٹھائے گزرے جنہوں نے لوگوں کو اپنی دکانیں بند کرنے کے لیے کہا، بعض نے موٹر سائیکل سے اتر کر دکانداروں کو ڈنڈے بھی دکھائے اور منٹوں میں دکانوں کے شٹر گرنے لگے اور چند منٹوں میں بازار بند ہو گیا اور تھوڑی دیر میں دور دور تک کاروبار بند اور ہڑتال ہو گئی۔

مین سڑک ہی بند کرا دی گئی تھی کچھ گاڑیاں بھی جلائی گئیں، پمپوں پر تیل اور سی این جی بھروانے والی گاڑیوں پر پتھراؤ بھی کیا گیا، پتھراؤ اور آگ سے بچنے کے لیے لوگوں نے اپنی گاڑیاں اندھا دھند بھگائیں، جس سے کچھ گاڑیاں آپس میں ٹکڑائیں مگر لوگوں نے آپس میں الجھنے کے بجائے اپنی گاڑی بچانے کے لیے درگزر سے کام لیا اور پھر سڑکیں سنسان ہو گئیں۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ دکانیں بند کروانے والوں کے کچھ دیر قبل کسی رہنما یا مسلک کے شخص کو فرقہ پرستی کے باعث نامعلوم دہشت گردوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا اور حسب معمول فرار ہو گئے تھے۔ جس کا علم ہونے پر مذکورہ شہید کے حامی مسلح ہو کر یا ڈنڈے لے کر دکانیں بند کرانے نکل پڑے۔ اس موقعے پر شاہراہوں پر چیکنگ کرنے والے پولیس اہلکاروں نے کبھی دکانیں بند کروانے والوں کو روکنے کی کوشش نہیں کی کیونکہ ان کا اصل کام چیکنگ کے ٹائم پر مال کمانا ہوتا ہے۔

دہشت گردوں کو پکڑنا نہیں اور ویسے بھی پولیس اہلکار ہوں یا عام لوگ مسلح افراد کے سامنے آنے کی جرأت کوئی نہیں کرتا اور اس لیے ٹارگٹ کلر ہوں یا دہشت گرد، دن دہاڑے سب کے سامنے آسانی سے فرار ہو جاتے ہیں اور یہ سلسلہ کراچی میں برسوں سے جاری ہے۔ جس سے مرنے والے کے لواحقین، عزیز و اقارب متاثر ہوتے ہیں یا کاروبار نہ ہونے کا رونا رونے، دکاندار اور پیسے ہاتھوں میں لے کر اشیائے ضرورت خریدنے آنے والے لوگ، کراچی میں مجبوری میں لاکھوں افراد ہوٹلوں پر کھانا کھاتے ہیں اور لوگوں کی اکثریت معاشی بدحالی کے سبب روز کماتے ہیں اور روز گھر چلانے کے لیے بازاروں سے خریداری کر کے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں، اچانک ہوٹل اور دکانیں بند کرا دی جائیں تو ان لوگوں پر جو گزرتی ہے وہ دکانیں جبری بند کرانے والے جانتے ہیں نہ حکومت، بلکہ وہی جانتے ہیں جو آئے روز ایسے واقعات سے متاثر ہوتے ہیں۔

جو لوگ ہوٹل اچانک بند ہوجانے سے بھوکے رہ جاتے ہیں یا جن کے گھروں میں پکانے کے لیے سامان نہیں ہوتا اور انھیں بھی رات کو ہوٹل یا دکان کھلنے کا انتظار کرنا پڑتا ہے کیونکہ کراچی میں لاکھوں افراد ایسے ہیں جو روز کماتے ہیں روز کھاتے ہیں اور یہ مسئلہ بھی ہے کہ اگر کمائیں گے نہیں تو کھائیں گے کہاں سے؟ کسی کی شہادت پر کہہ دیا جاتا ہے کہ لوگوں نے سوگ میں خود کاروبار بند کیا ہے جب کہ ہوتا اس کے برعکس ہے کیونکہ معاشی حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ ہفتہ وار کاروباری چھٹی کا تصور ہی ختم ہو چکا ہے اور یہ چھٹی اب صرف ہول سیل کی بڑی مارکیٹوں تک محدود ہو چکی ہے۔

یہ فرقہ وارانہ اور لسانی ہلاکتیں اور ٹارگیٹڈ قتل کراچی میں کئی سال سے جاری ہیں مگر موجودہ حکومت میں ان میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور حکومتی اعلیٰ حکام کا کام اس سلسلے میں صرف تعزیتی بیانات جاری کرنا رہ گیا ہے اور پونے پانچ سال میں حکومت نے قتل و غارت گری کے سلسلے کو روکنے یا اس کے سدباب کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ کراچی میں ہونے والا ہر قتل فرقہ وارانہ، لسانی، سیاسی اور ٹارگیٹڈ نہیں ہوتا، اس کی بے شمار دیگر وجوہات اور دشمنی بھی ہوتی ہے، مگر فرقہ وارانہ اور لسانی بنیاد پر ہونے والے قتل اب اتنے واضح ہو چکے ہیں کہ عام لوگوں کو بھی فوراً پتہ چل جاتا ہے کہ فلاں قتل کس نے کیا ہو گا، مگر ان کی یہ معلومات سیاست اور فرقہ پرستی تک محدود ہوتی ہے کہ اس قتل میں کون سا فرقہ یا گروہ ملوث ہو گا۔

ہماری حکومت اور خفیہ اداروں کو یہ تو پتہ چل جاتا ہے کہ دہشت گردی کے لیے دو گاڑیاں تیار ہیں یا دہشت گردی کا فلاں جگہ خطرہ ہے اور اطلاع دے کر خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے اور اگر واقعی کچھ ہو جائے تو کہہ دیا جاتا ہے کہ ہم نے باخبر کر دیا تھا اسے روکنا ہمارا کام نہیں۔

کراچی میں فرقہ پرستی مسلسل بڑھ رہی ہے اور دونوں طرف کے بے گناہ اس کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں اور اس کی سزا عام لوگوں کو بے روزگاری اور ہڑتالوں کی صورت میں مل رہی ہے۔ حکومت اور ہمارے سیاسی و مذہبی رہنما یہ سمجھ کر چپ سادھ لیتے ہیں کہ عوام کی سطح پر فرقہ پرستی اور لسانی ایسی کوئی سوچ ہی نہیں ہے سب مل جل کر رہ رہے ہیں اور اگر واقعی ایسا ہے تو یہ قتل کیوں ہو رہے ہیں؟ فرقہ پرستی اور سیاسی و لسانی تنازعات نہیں ہیں تو باپ بیٹی، مدارس کے طلباء، علماء، وکلاء، ڈاکٹر اور دیگر بے گناہ کیوں نشانہ بنائے جا رہے ہیں؟ اور یہ سلسلہ ختم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ کیوں رہا ہے؟ اس اہم مسئلے پر حکومت اور ہمارے سیاسی رہنما اور ہر مسلک کے علمائے کرام کی خاموشی بھی حیرت انگیز ہے۔

ق لیگ کے رہنما مشاہد حسین کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے تقرر پر اتفاق رائے حاصل کیا جا سکتا ہے تو کراچی میں جاری خونریزی کے سدباب کے لیے سب کو بٹھا کر اسے روکنے کی کوشش کیوں نہیں ہو رہی؟ حکومت نے واقعی اس سلسلے میں کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ متحارب فریقین کو کبھی سرکاری طور پر ایک جگہ جمع کر کے اس کا حل نکالنے پر آمادہ نہیں کیا جاتا۔ ہمارے علماء کیوں خاموش ہیں؟ وہ ایم ایم اے اور ملی یکجہتی کونسل میں سب فرقوں کو جمع کر لیتے ہیں تو اس فرقہ وارانہ خونریزی کو ختم کیوں نہیں کراتے؟ یہ سلسلہ روکنے کی اصل ذمے دار تو واقعی حکومت ہے مگر دیگر کیوں خاموش ہیں؟ کیا مشاہد حسین کا یہ کہنا درست ہے کہ کراچی کے حالات کے باعث عام انتخابات کے التواء کی پلاننگ ہو رہی ہے؟

مقبول خبریں