وسیم اختر میئر کراچی کو اس کا وارث مل گیا

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما وسیم اختر کراچی کے میئر جب کہ ارشد وہرہ دپٹی میئر منتخب ہوگئے۔


Editorial August 31, 2016
متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما وسیم اختر کراچی کے میئر جب کہ ارشد وہرہ دپٹی میئر منتخب ہوگئے۔ فوٹو؛ آن لائن

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما وسیم اختر کراچی کے میئر جب کہ ارشد وہرہ دپٹی میئر منتخب ہوگئے،حلف برداری کی تقریب گلشن جناح(پولو گراؤنڈ) میں ہوئی ، سیکیورٹی انتہائی سخت تھی جس میں وسیم اختر کو سینٹرل جیل سے لایا گیا تاہم کراچی کی موجودہ اعصاب شکن صورتحال میں میئر و ڈپٹی میئر کی حلف برداری ایک خوش اور یادگار پیشرفت ہے، سندھ حکومت نے ساتھ منتخب بلدیاتی نمایندوں کی کامیابی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے، نومنتخب میئر نے اپنی جذباتی تقریر میں تمام سیاسی جماعتوں سے اختلافات ختم کرکے شہر قائد کو مسائل سے نجات دلانے کے جس عزم کا اظہار کیا ہے وہ لائق تحسین ہے، انھوں نے کہا کہ مجھے تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے بھرپور حمایت اور تعاون ملا ۔

انھوں نے کہا کہ بلدیاتی نظام کے بغیر جمہوریت نامکمل ہے۔ شہر قائد نے جو ہولناک اور درد انگیز دورانیہ گزارا ہے اس پر ڈاکٹر فاروق ستار کا یہ کہنا بجا ہے کہ 7 سال بعد شہر کو اس کا وارث مل گیا ہے، اسے اب مثالی شہر بنایا جائے گا ، غیر ملکی سرمایہ کار آئینگے ، نو منتخب میئر نے کہا کہ ہم پاکستان کو کوئی آنچ نہیں آنے دینگے اس موقعے پر انھوں جذباتی انداز میں نعرہ لگایا۔ وسیم اختر نے جئے متحدہ ،جئے بھٹو اور جئے عمران کا نعرہ لگایا جسے مبصرین نے کراچی کے امن اور شہر کی ترقی کے لیے اجتماعی کوششوں کا نقطہ آغاز قرار دیا ۔ حلف برادری کی تقریب میں متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار، سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن، سینئر رہنما سید سردار احمد، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ، ممتاز سیاسی شخصیات، غیر ملکی سفیروں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

وسیم اختر نے 1978 میں باقاعدہ طور پر ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کی، 1993 میں وہ سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، وسیم اختر سندھ کے وزیر داخلہ و بلدیات بھی رہ چکے ہیں اور بطور رکن قومی اسمبلی انھوں ہر فورم پر شہر قائد کو درپیش مسائل پر ہمیشہ واشگاف و بلند آہنگ انداز میں اظہار خیال کیا ہے۔ پر امن حلف برداری کرانے پر سندھ حکومت، رینجرز ،پولیس ، عدلیہ مبارکباد کی مستحق ہے، نو منتخب میئر نے سب کا شکریہ ادا کیا اور انھوں جس سیاسی اشتراک عمل کی دعوت سیاسی شراکت داروں کو دی ہے اسے خندہ پیشانی قبول کرنے کا وقت ہے، شہر قائد کو ایک بار اس کی رونقیں لوٹانے میں ضرورت عظیم تر اشتراک عمل اور کشادہ دلی کی ہے، بلاشبہ پاکستان کا ہر محب وطن شہری آج اہل کراچی کی خوشیوں میں شریک ہوتا نظر آتا ہے۔