دہشت گردی کے خلاف جنگ اور امریکی پالیسی
پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے اور اس دہشت گردی کو بیرونی قوتوں کی آشیرباد حاصل ہے
ISLAMABAD:
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے بدھ کو واشنگٹن میں ایک بریفنگ کے دوران کہا کہ اوباما انتظامیہ پاکستان کی جانب سے پاک افغان سرحدی علاقے میں دہشت گردوں اور شدت پسندوں کے خلاف حالیہ کارروائیوں پر مطمئن ہے اور اس ضمن میں پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھا جائے گا تاکہ دہشت گرد گروپوں پر دباؤ کو مزید بڑھایا جا سکے، پاکستان اپنی سرزمین سے پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے والے دہشت گردوں کے خلاف بھی کارروائی کرے۔
پاکستان کی دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں پر امریکا نے ہمیشہ اس کی تعریف کی ہے مگر اس کے ساتھ وہ ڈومور کا مطالبہ کرنا کبھی نہیں بھولتا۔ اب پھر جب اوباما انتظامیہ پاکستان کی شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں پر اطمینان کا اظہار کر رہی ہے، وہاں وہ اس سے مزید اقدامات کا بھی مطالبہ کر رہی ہے۔ جہاں تک امریکا کا یہ کہنا کہ پاکستان ان دہشتگردوں کے خلاف بھی کارروائیاں کرے جو پڑوسی ممالک کو نشانہ بناتے ہیں تو اس خطے میں پھیلی ہوئی دہشتگردی کے تناظر میں یہ یکطرفہ مطالبہ معلوم ہوتا ہے۔
پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک ہی گزشتہ کئی برسوں سے دہشتگردی کا شکار چلے آ رہے ہیں لیکن یہ بھی واضح ہو چکا ہے کہ پاکستان میں چھپے ہوئے دہشتگردوں کو اعانت اور تربیت افغانستان کی سرزمین سے مل رہی ہے جسے بڑھاوا دینے میں بھارتی ہاتھ آشکار ہو چکا ہے۔ امریکا کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ دہشت گردی کا عذاب افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوا نہ کہ پاکستان اس کا ذمے دار ہے۔ اگر صورت حال کا گہری نظر سے جائزہ لیا جائے تو اس خطے میں پنپنے والی دہشت گردی کا حقیقی ذمے دار امریکا اور اس کی اتحادی افواج ہی ہیں۔
پاکستان نے اپنے محدود وسائل کے باوجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں جس کا واضح ثبوت سوات، شمالی اور جنوبی وزیرستان میں قائم ہونے والا امن ہے۔ یہ علاقے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں سمجھے جاتے تھے لیکن پاک افواج نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے یہاں سے دہشت گردوں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تباہ کر دیا۔ اب اگر دہشت گرد اس علاقے سے بھاگ کر کسی اور علاقے میں چھپ گئے ہیں تو امریکا کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستانی سیکیورٹی ادارے ان کے مسلسل تعاقب میں ہیں اور جہاں کہیں بھی دہشت گردوں کی نشاندہی ہوتی ہے ان کے خلاف فوری طور پر کارروائی کی جاتی ہے۔ امریکا اپنے تمام تر وسائل اور جدید ٹیکنالوجی کے باوجود افغانستان میں دہشت گردوں کا خاتمہ نہیں کر سکا اور اب بھی وہاں ان کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں۔
پاکستان بارہا یہ مطالبہ کر چکا ہے کہ امریکا افغانستان میں چھپے ہوئے پاکستان کے دشمن مولوی فضل اللہ اور دیگر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے مگر اس نے آج تک اس کے بارے میں مثبت جواب نہیں دیا۔ پاک افغان سرحد پر پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں پر ہونے والے متعدد حملوں میں افغانستان سے آنے والے دہشت گرد ملوث پائے گئے مگر امریکا نے افغان حکومت پر کبھی دباؤ نہیں ڈالا کہ وہ اپنی سرزمین پر پڑوسی ملک پاکستان کو نشانہ بنانے والے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے۔ پاکستان افغان حکومت سے بھی متعدد بار یہ مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے پاکستان میں کارروائیاں کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف اقدامات اٹھائے مگر افغان حکومت اس مسئلے پر توجہ دینے کے بجائے الٹا پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کر دیتی ہے۔
اب تک کی صورت حال اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ افغان حکومت نے خطے سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے ساتھ کبھی تعاون نہیں کیا۔ بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے بھارتی مداخلت کے ثبوت پوری دنیا کے سامنے آ چکے ہیں مگر امریکا نے اس کی کبھی مذمت نہیں کی۔بھارت میں جو کچھ ہورہا ہے، وہ اس کی اپنی پالیسی کا نتیجہ ہے۔بھارت اور افغانستان کا گٹھ جوڑ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ یوں دیکھا جائے تو ان دونوں ملکوں کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی ہورہی ہے۔ پاکستان یہ واضح کر چکا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پڑوسی ممالک کے خلاف استعمال ہونے کی کبھی اجازت نہیں دے گا اور وہ اپنے اس فیصلے پر پورے عزم سے کاربند ہے۔
پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے اور اس دہشت گردی کو بیرونی قوتوں کی آشیرباد حاصل ہے۔ وہ ان بیرونی قوتوں کی نشاندہی بھی کر چکا ہے لیکن امریکا اور عالمی قوتیں اس سلسلے میں پاکستان کا ساتھ نہیں دے رہیں۔ مختلف حیلوں بہانوں سے پاکستان پر پابندیاں عائد کرنے کا ذکر اس پر دباؤ بڑھانے کی سازش معلوم ہوتا ہے۔ اوباما انتظامیہ کو اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کرنا چاہیے کہ جب تک افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں اس خطے سے دہشت گردی کا خاتمہ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر امریکا اس خطے سے دہشت گردی کا خاتمہ چاہتا ہے تو اسے پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی اور وسائل مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے یہی اس خطے اور امریکا کے مفاد میں ہے۔