چیمپئنز ٹرافی میں ہالینڈ کے ہاتھوں شکست‘ آس بندھی پھر ٹوٹ گئی

اس ملک کے 18 کروڑ عوام کا بھی ایک سپنا ہے کہ پاکستان ہاکی ٹیم ایک بار پھرماضی کے سنہری دور کی طرف لوٹ آئے۔


Mian Asghar Saleemi December 08, 2012
پاکستان ٹیم اب تک3 بار چیمپئنز ٹرافی کا ٹائٹل اپنے نام کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

شکاگو کی ایک حسین شام ہے اور ہزاروں لوگ ایک جھیل کے کنارے بڑے پارک میں جمع ہیں۔

ہرچہرہ تابناک اورخوشی و مسرت سے دمک اور چمک رہا ہے، اچانک امید سے پرنور ایک چہرہ نمودار ہوتا ہے اور وہ آسمان کی طرف دیکھ کر نعرہ لگاتا ہے کہ دنیا میں کوئی چیز ناممکن نہیں، یہ سب آپ کی وجہ سے ممکن ہوا، آپ نے ساتھ دیا ہم نے کر دکھایا، یہ کہنا تھا کہ شکاگو کی پوری فضا گونج اٹھی، وہ پکار اٹھا کہ تبدیلی کا وقت آچکا اور بہت جلد مثبت نتائج سامنے آئیں گے، ہم دنیا میں امن کو فروغ دیں گے، ہماری داستانیں الگ لیکن منزل ایک جیسی ہے، وہ لوگ جو دنیا بھر کو آنسو دینا چاہتے ہیں، ان کے لئے میرا ایک پیغام ہے کہ ہم انہیں شکست دیں گے اور ہم ایسا کر سکتے ہیں''yes we can''۔

یہ تاریخی الفاظ ہیں باراک حسین اوبامہ کے جنہوں نے 5 نومبر2008ء کو دنیا کی سپرپاور امریکہ کا پہلا سیاہ فام صدر منتخب ہو کر ایک نئی تاریخ رقم کی۔انہوں نے انہونی کو ہونی اور نا ممکن کو ممکن کر دکھایا۔ باراک اوبامہ کی 3 خامیاں تھیں وہ سیاہ فام تھا، اس کا حقیقی اور سوتیلا والد دونوں مسلمان تھے اور اس کا تعلق لوئر مڈل کلاس سے تھا اور یہ تینوں خامیاں چیخ چیخ کر اعلان کر رہی تھیں کہ امریکہ جیسے ملک میں کسی سیاہ فام کے صدر بننے کی کوئی گنجائش نہیں۔

باراک اوبامہ راتوں رات صدر کے منصب پر فائز نہیں ہوئے بلکہ اس کے پیچھے ایک کروڑ 35 لاکھ سیاہ فاموں کی 500 سال کی قربانیاں تھیں۔ مارٹن لوتھر کنگ اور اس جیسے ساتھیوں کی خدمات کو کیسے فراموش کیا جاسکتا ہے کہ جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر اپنی قوم کے سنہری مستقبل کی آبیاری کی۔

زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو، خلوص نیت کے ساتھ کی گئی محنت کا پھل ضرور ملتا ہے۔انسان سچے دل کے ساتھ کی گئی جدوجہد کے ذریعے ہی زوال کے پاتال سے نکل کر عروج کی طرف گامزن ہوتا ہے۔کھیلوں میں کامیابی کسی بھی ملک کی شہرت کا سب سے اچھا اور آسان طریقہ ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں پاکستان کی شہرت اور نیک نامی کی سب سے بڑی وجہ کھیل ہی ہیں بلکہ یہ کہا جائے توغلط نہ ہو گا کہ دنیا میں پاکستان کی اصل شہرت کھیلوں ہی کی وجہ سے ہے۔

14 اگست 1947ء کو قیام پاکستان کے بعد سے ہی پاکستان نے کھیلوں کے میدانوں میں اپنی برتری قائم کر دی۔ ہاکی، کرکٹ، سنوکر اور سکواش میں ہمیشہ ہی سے پاکستان کی برتری قائم رہی ہے۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جوکہ بیک وقت چار مختلف کھیلوں میں عالمی چیمپین رہا ہے۔ 1994ء میں قومی ہاکی ٹیم کی ورلڈکپ میں فتح کے بعد اس وقت پاکستان کرکٹ، سکواش اور سنوکر میں ایک ساتھ عالمی حکمران بن گیا۔ یہ اعزاز دنیا کی تاریخ میں کسی اور ملک کو حاصل نہیں ہے۔

پاکستان ہاکی ٹیم ان دنوں ایف آئی ایچ کے دوسرے بڑے ایونٹ چیمپئنز ٹرافی کاحصہ بننے کے لئے آسٹریلیا میں موجود ہے، اس سے قبل پاکستان ٹیم اب تک3 بار چیمپئنز ٹرافی کا ٹائٹل اپنے نام کرنے میں کامیاب رہی ہے۔1978 اور 1980ء کے ابتدائی 2 ایڈیشن دونوں گرین شرٹس کے نام رہے۔1994ء میں پاکستان نے تیسری اور آخری بار چیمپئنز ٹرافی کا اعزاز حاصل کیا۔گو آسٹریلیا کی سرزمین کھیلوں کے حوالے سے پاکستان کے لئے ہمیشہ خوش قسمت رہی ہے۔

گرین شرٹس نے 1992ء کاکرکٹ ورلڈ کپ عمران خان کی قیادت میں جیتاتو ہاکی کا عالمی کپ بھی آخری بار 1994ء میں حاصل کیا۔2006کے کامن ویلتھ گیمز میں شجاع الدین ملک ویٹ لفٹنگ میں میڈل لے اڑے، چیمپئنز ٹرافی کے کوارٹر فائنل میں پاکستان ہاکی ٹیم نے اولمپک چیمپئن جرمنی کو ایک کے مقابلے میں 2گول سے زیر کر کے نہ صرف سیمی فائنل میں جگہ بنائی بلکہ میگا ایونٹ کے فیصلہ کن مرحلہ تک 8سال بعد رسائی بھی حاصل کی ، اس سے قبل 2004ء میں گرین شرٹس نے یہ اعزاز حاصل کیا تھا لیکن فیصلہ کن میچ میں اسے ہالینڈ کے ہاتھوں 3-2 سے شکست کا سامنا رہا۔اب ایک بار پھر گرین شرٹس کا ٹاکرا ڈچ ٹیم کے ساتھ ہی تھا۔

میچ میں فتح حاصل کر کے قومی ٹیم اپنی ہار کا بدلہ لے سکتی تھی لیکن گرین شرٹس اس بار بھی تاریخ بدلنے میں ناکام رہی اورمیچ 5-2سے ہار گئی۔اب تیسری پوزیشن کے لئے پاکستانی ہاکی ٹیم کو آج اتوار کو بھارت کے خلاف میدان میں اترنا ہے،کہتے ہیں کہ ''گرتے ہیں شاہ سوار ہی میدان جنگ میں'' ہالینڈ کے ہاتھوں شائقین ہار کا کڑوا گھونٹ تو پی سکتے ہیں لیکن روایتی حریف بھارت کے خلاف چاروں شانے چت ہونا قوم کو گوارا نہیں ہوگا۔

پاکستان میں اس وقت مہنگائی، غربت اور لاقانونیت کا دور دورئہ ہے، انسان دوسرے انسان کا گوشت نوچ رہا ہے، مہنگائی کا پنکھا چل رہا ہے، زندگیاں بکھرے کاغذوں کی طرح پریشان ہیں، جہاں بے روزگاری کی آندھی ہے وہاں بھوک کا طوفان تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا، ہر آنے والا وقت اس فین کی سپیڈ بڑھائے چلا جا رہا ہے۔

نفسا نفسی کا یہ عالم ہے کہ خواہشات کے محل تعمیر کرنے کے لئے اخلاقیات، محبت، رسم ورواج اور رشتوں سب کو کچلا جا رہا ہے، لاکھوں کے ڈاکے، کروڑوں کے غبن اور اربوں کے قرضے ہضم کرنا معمول بن گئے ہیں،کرپشن مافیا نے ہر طرف ڈیرے ڈال رکھے ہیں، اور تو اور ٹرانسپریسی انٹرنیشنل کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان کرپشن میں مزید ترقی کرتے ہوئے42ویں سے 33ویں نمبر پر آ گیا ہے اور یہاں پر یومیہ 7 ارب روپے کی کرپشن ہو رہی ہے، ایسے میں پاکستان ہاکی ٹیم کا روایتی حریف بھارت کوہرا کر جیت کا تحفہ مایوس اور افسردہ قوم کے لئے ہوا کا تازہ جھونکا ثابت ہوگا، پاکستان ہاکی ٹیم کے سپوت نوجوانوں شاد رہو، آباد رہو اور خوش رہو، محمد عمران تم پاکستان آرمی سے تعلق رکھتے ہو، تمہارے ساتھی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں توتم اپنے کھیل سے آج بھارت کو تگنی کا ناچ نچا دو۔

صدرپی ایچ ایف قاسم ضیا آپ نے 1984ء کے لاس اینجلس اولمپکس میں پاکستان کو گولڈ میڈل دلوایا، سیکرٹری پی ایچ ایف محمد آصف باجوہ آپ بھی 1994ء کی چیمپئنز ٹرافی اور ورلڈ کپ1994 کے فاتح سکواڈ کا حصہ تھے،پی ایچ ایف کے عہدیدارو تم نے ہاکی کی باگ دوڑ اس وقت سنھبالی جب تمام امیدیں دم توڑتی جا رہی تھیں، ہر طرف مایوسیوں اور تاریکیوں کے گھپ اندھیرے چھائے ہوئے تھے اس وقت تم نے پاکستانی ہاکی ٹیم کی ڈولتی اور ڈگمگاتی ہوئی کشتی کو پار لگانے کا چیلنج قبول کیا جس کا مزید سفر تم نے طے کرنا ہے۔

یاد رکھو، تنقید کرنے والے تنقید کرتے رہیں گے، ہر اچھے کام میں بھی کیڑے نکالتے رہیں گے لیکن آپ نے ان سب کی پرواہ کئے بغیر اپنی اصل منزل کے حصول تک سفر جاری رکھنا ہے، یہ تو وہی لوگ ہیں جو یہ کہتے تھے کہ یہ ہاکی ٹیم تو چائے کا کپ نہیں جیت سکتی 1994ء کا ورلڈ کپ کیا جیتے گی لیکن گرین شرٹس نے میگا ایونٹ کا ٹائٹل جیت کر نہ صرف ناقدین کے منہ بند کر دیئے بلکہ دنیا بھر میں سبز ہلالی پرچم بھی لہرایا۔ چیف کوچ چوہدری اختر رسول آپ کی قیادت میں بھی پاکستانی ٹیم نیورلڈ کپ جیتا تھا اور کوچ حنیف خان آپ تو 1984ء کے لاس اینجلس اولمپکس میں فاتح سکواڈکا حصہ تھے، دونوں خوب جانتے ہیں کہ جیت کا نشہ کیا ہوتا ہے۔

آپ سب امریکہ کے عظیم سیاہ فام ہیرو مارٹن لوتھر کنگ کے بارے میں تو جانتے ہیں جس نے 28 اگست1963ء میں ایک تقریر کی تھی اور جس کا شمار دنیا کی چند بہترین تقریروں میں ہوتا ہے اور اس تقریر کا عنوان'' I have a dream'' تھا، اس تقریر میں مارٹن لوتھر نے کہا کہ میرا ایک خواب ہے کہ ایک دن یہ قوم اٹھے گی اور اپنی اصل زندگی جئے گی، میرا ایک خواب ہے ایک دن جارجیا کے سرخ پہاڑوں میں غلاموں کے بیٹے اپنے مالکوں کے بیٹوں کے ساتھ ایک میز پر بیٹھیں گے، میرا ایک خواب ہے ایک دن ناانصافی اور ظلم کے شہر میسی سیپی میں آزادی اور انصاف کا سورج طلوع ہوگا، میرا ایک خواب ہے ایک دن میرے چاروں بچے اپنے سیاہ رنگ کے بجائے اپنے کردار سے پہچانے جائیں گے، میرا ایک خواب ہے ایک دن الباما کے کالے بچے گورے بچوں کے ساتھ ہاتھ ملائیں گے۔

میرا ایک خواب ہے ایک دن ہر وادی اونچی ہو جائے گی اور پہاڑ نیچے ہو جائے گا، تمام ناہموار جگہیں ہموار ہو جائیں گی اور تمام ٹیڑھی منزلیں سیدھی ہو جائیں گی اور مایوسیوں کے پہاڑوں سے امید کی کرنیں طلوع ہوں گی، میرا ایک سپنا ہے ایک دن ہم سب اکٹھے کام کر سکیں گے، ہم سب اکٹھے عبادت کر سکیں گے، میرا ایک خواب ہے،امریکہ ایک دن واقعی عظیم امریکہ بنے گا اور ایک دن میرا خواب ضرور پورا ہوگا۔

مارٹن لوتھر کنگ کے خواب کی طرح اس ملک کے 18 کروڑ عوام کا بھی ایک سپنا ہے کہ پاکستان ہاکی ٹیم ایک بار پھرماضی کے سنہری دور کی طرف لوٹ آئے، چیمپئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ میںآسٹریلیا کے ہاتھوں متنازعہ گول کے سبب شکست اور ڈچ ٹیم کے مقابل ہار کو دل سے لگانے کی بجائے بہتری کی طرف سفر گامزن رکھنا ہوگا کیونکہ تھک کر ہار جانے والوں کو زمانہ بھول جایا کرتا ہے جبکہ ہمت کرنے والوں کی تو خدا بھی مدد کرتا ہے، جذبہ جنون زندہ رکھتے ہوئے نگائیں بلندیوں کی طرف کر کے پرواز جاری رکھنا ہوگی۔

مقبول خبریں