ڈاؤ یونیورسٹی موٹاپا کم کرنے کی نئی تکنیک متعارف

سلیوگیسٹریکٹومی تکنیک کےذریعےمعدےکاچھوٹاساآپریشن اورزیادہ بھوک لگنےوالےہارمون غیرفعال کردیےجاتے ہیں،پروفیسرمسعودحمید.


Staff Reporter December 09, 2012
اوجھاکیمپس میں یونٹ قائم، پہلی سرجری آئندہ ماہ ہوگی، مضر اثرات نہیں ،موٹاپا زائد کھانے اور چربی سے ہوتا ہے،موٹاپے سے ذیابیطیس اور بلڈ پریشر بڑھ رہا ہے فوٹو : ای نیوز

ڈاؤیونیورسٹی نے ملک میں پہلی بار موٹاپے کو ختم کرنے کی تکنیک متعارف کرادی۔

سلیوگیسٹریکٹومی تکنیک کے ذریعے معدے کا ایک حصہ آپریشن سے علیحدہ کردیاجاتاہے جبکہ زیادہ بھوک لگنے والے ہارمون کوبھی غیر فعال کردیاجاتا ہے تاکہ مریض کوزیادہ بھوک کا احساس نہ ہوسکے، سرجری کے مضر اثرات بھی نہیں ہوتے تاہم وٹامن کی کمی ہوسکتی ہے جو اودیات سے دورکی جاسکتی ہے، سرجری کے بعداینٹی بائیوٹک سمیت کسی قسم کی کوئی دوا بھی نہیں دی جاتی ،ڈاؤیونیورسٹی نے اوجھا کیمپس میں سرجری شروع کرنے کا اعلان کردیا۔

یونیورسٹی کے و ائس چانسلر پروفیسرمسعود حمید ،تکنیک متعارف کرانے والے بیری ایٹیرک سرجن ڈاکٹر محمد جاوید اور پروفیسر مسرور نے بتایا کہ دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک میں اس تکنیک کو متعارف کرادیا گیا ہے جس کے کامیاب نتائج برآمد ہورہے ہیں اور اس تکنیک سے موٹاپا یا زائد وزن کے مرض پر قابو پایا جارہا ہے،ماہرین نے بتایا کہ موٹاپا کم کھانے ، ورزش کرنے کے باوجود ختم نہیں ہورہا ہے جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ موٹاپا معدے میں موجود بھوک لگانے والے ہارمون کی وجہ سے لاحق ہورہا ہے ۔

01

معدے میںخوراک پوری کرنے کیلیے مذکورہ ہارمون حرکت میں آتا ہے جس کی وجہ سے خالی معدے کو بھوک لگنے لگتی ہے جس سے موٹے افراد کو مزید موٹاپے کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ان ماہرین نے بتایا کہ سلیوگیسٹریکٹومی کے ذریعے ایک گھنٹے کے آپریشن کے بعد معدے کے ایک چھوٹے حصے کو علیحدہ کرکے نکال دیاجاتا ہے جس کی وجہ سے معدے کا سائزچھوٹا ہوجاتا ہے اور بھوک کا احساس بھی کم ہونے لگتا ہے دنیا بھر میں اس کامیاب تکنیک سے موٹاپے کے مرض پر قابوپایاجارہا ہے، معدے کی سرجری کے بعد مریض کو کوئی اینٹی بائیوٹک بھی نہیں دی جاتی۔

پروفیسر مسعود حمید نے بتایا کہ اوجھاکیمپس میں باقاعدہ یونٹ قائم کردیا گیا ہے اور پہلی سرجری آئندہ ماہ کی جائیگی انھوں نے بتایا کہ موٹاپا زائد کھانے اور چربی کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے جس کی وجہ سے عام افراد میں ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر سمیت دیگر امراض جنم لے رہے ہیں تاہم ماہرین نے مسلسل کوششوں کے بعدموٹاپے کو کم کرنے کیلیے نئی تکنیک متعارف کرادی ہے جو اب پہلی بار ڈاؤ یونیورسٹی میں متعارف کرائی گئی ہے۔