غذائی اشیاء کی بے تحاشا درآمد

سال 2011-12 کے دوران 5ارب 4کروڑ 81لاکھ 50ہزار ڈالر کی غذائی اشیاء درآمد...


Editorial July 24, 2012
غذائی اشیاء کی درآمد میں 0.60 فیصد کمی واقع ہوئی ہے. فوٹو: فائل

KARACHI: ایک خبر کے مطابق مالی سال 2011-12کے دوران 5ارب 4کروڑ 81لاکھ 50ہزار ڈالر کی غذائی اشیاء درآمد کی گئیں جب کہ اس سے پہلے مالی سال میں 5ارب 7کروڑ 85لاکھ 54ہزار ڈالر مالیت کی غذائی اشیاء درآمد کی گئیں یوں غذائی اشیاء کی درآمد میں 0.60 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ اس کثیر رقم سے دودھ' کریم' دودھ برائے اطفال' خشک میوہ جات' چائے' مصالحہ جات' سویابین آئل' پام آئل' چینی' دالیں اور دیگر غذائی اشیاء درآمد کی گئیں۔ قابل غور معاملہ یہ نہیں ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران اس سے پہلے مالی سال کی نسبت کچھ کم قیمت کی اشیاء خور و نوش درآمد کی گئیں بلکہ اہم ایشو یہ ہے کہ ایک زرعی ملک میں اتنی زیادہ غذائی اشیاء درآمد کی جا رہی ہیں۔

یہ یقیناً ہمارے لیے شرم کا مقام ہے کیونکہ جو اشیاء درآمد کی جا رہی ہیں ان میں سے زیادہ تر یہاں مقامی طور پر اگائی جا سکتی ہیں لیکن ہمارے ارباب بست و کشاد مقامی زرعی پیداوار بڑھانے پر مناسب توجہ نہیں دیتے تاہم متعدد زرعی و غذائی اشیاء کی درآمدات پر بھرپور توجہ دی جاتی ہے۔ ہمارے پاس جتنے وسائل ہیں اور ہماری زرعی لیبر فورس جتنی محنتی ہے اسے پیش نظر رکھا جائے تو ہمارے ملک کو کھانے پینے کی اشیاء برآمد کرنے والا ملک ہونا چاہیے تھا۔

ایک جانب یہ صورتحال ہے کہ ہم ہر سال پانچ ارب روپے سے زیادہ کی کھانے پینے کی اشیاء دوسرے ممالک سے منگواتے ہیں تو دوسری جانب حکومت اور اقتصادی ماہرین کی جانب سے یہ واویلا بھی کیا جاتا ہے کہ درآمدات و برآمدات میں توازن قائم نہیں ہو رہا ہے جس سے زرمبادلہ کے ذخائر متاثر ہوتے ہیں۔ ہمارے خیال میں اگر ایسی اشیاء کی درآمد پر پابندی عائد کر دی جائے جو مقامی طور پر بنائی یا پیدا کی جا سکتی ہوں تو اس سے مذکورہ توازن حاصل کرنے میں مدد ملے گی اور زرمبادلہ کے ذخائر کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکتا ہے' البتہ ناگزیر غذائی اشیاء کی درآمد میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ایشو پر سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جائے تاکہ کم از کم اشیائے خور و نوش کی درآمد تو کم کی جا سکے۔