خزانے کا غار

آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج اڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی


[email protected]

پوری طرح تو معلومات ہمیں حاصل نہ ہوسکیں لیکن

آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج

اڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی

کہ شاید بلکہ یقیناً ہماری خیبر پختون خوا کی صوبائی حکومت کو کسی سے کوئی بہت بڑا خزانہ مل چکا ہے یا علی بابا کو جو کسی چوروں کے غار کا پتہ ملا ہے۔یہ اندازہ ہم نے جمہوری شہنشاہوں کے لیے منظور کیے جانے والی مراعات، سہولیات اور انعامات وعنایات سے لگایا ہے۔

ایسا لگتا ہے جیسے اچانک کسی خزانے کا رخ کسی سیلاب کی طرح صوبہ خیرپخیر کی طرف ہوگیا ہو۔ہر طرف سے عنایات، انعامات بلکہ تعیشات کا ایک سیلاب ہے جو ان جمہوری شہنشاہوں عرف سلیکٹیڈ اشراف کے ’’الیکٹیڈ‘‘ نمائندوں کی طرف ہو گیا ہے، ہر ہر طرف سے عنایات اور ہر ہر مقام پر طرح طرح کے پاسپورٹ، بچوں اور ہالیوں موالیوں کے لیے ’’تاعمر‘‘ سہولیات بلکہ سات پشتوں تک سات خون معاف عمربھر کے لیے اور سارے خاندان کے لیے بلٹ پروف بم پروف اور ہر غم پروف گاڑیاں۔وظیفے، جیب خرچ، کچن اخراجات۔بلکہ ہمیں لگتا ہے کہ یہ سلسلہ اور بھی آگے بڑھے گا کیونکہ ان منتخب شہزادوں کے ساتھ ان کا پورا سامان اور کچن بھی تو ہوتاہے۔ نوکریوں کے لیے،تبادلوں کے لیے، بجلی کے معاملات کے لیے گیس کے مسائل کے لیے تھانوں کے معاملات کے لیے مطلب یہ کہ ہر ہر کام کے لیے اپنے اپنے لوگ ہوتے ہیں، سڑکوں، اسکولوں اور اسپتالوں کے لیے الگ الگ بااختیار ایجنٹ ہوتے ہیں جو بڑے کام کے لوگ ہوتے ہیں۔

ایک مرتبہ ہمیں ٹرانسفارمر کا مسئلہ لاحق ہوگیا تو ایک ایم پی اے کے بھانجے سے رجوع کیا تو اس نے کہا میرے پاس تو ملازمتوں کا کام ہے آپ فلاں سے رجوع کریں ٹرانسفارمروں اور بجلی کا کام اس کے پاس ہے۔ ہم اس کے پاس گئے جو ایم پی اے کا چھوٹا بھائی تھا اس سے بات کی تو اس نے کہا ٹرانسفارمر کے تو ساڑھے چار لاکھ ہوتے ہیں آپ دو لاکھ دے دیں ٹرانسفارمر لگ جائے گا۔مطلب یہ کہ صرف جمہوری شہزادے ہی قوم کے ’’خادم‘‘ نہیں ان کے ساتھ اور بھی ’’خدام‘‘ ہوتے ہیں جو ان رعایات سہولیات اور مراعات کے حقدار ہوتے ہیں، ان کو خاص پاسپورٹ، خاص گاڑیاں اور خاص وظائف دینا ضروری ہے۔ کچھ لوگ کھسر پھسر کررہے ہیں کہ یہ لوگ سلیکٹیڈ خاندانوں کے الیکٹیڈ ہوتے ہیں، کرتے کیا ہیں؟سوائے قوم ملک اور فنڈز پر سواری کرنے کے علاوہ؟

سوچتا ہوں سرساحل باقی

یہ سمندر ہمیں کیا دیتے ہیں

نادان ہیں یہ لوگ۔نہیں جانتے کہ یہ لوگ یعنی جمہوری شہنشاہ قوم کی کتنی خدمت کرتے ہیں، یہ انھی کی خدمتوں کی برکت ہے کہ آج یہ ملک باغ وبہار اور گل وگلزار ہے۔عوام چین کی بانسریاں بجا رہے۔  شیر اور بکری ایک ہی بوتل سے ایک ہی اسٹرا سے منرل واٹر پی رہے ہیں۔ لوگ جاکنگ کے لیے نکلتے ہیں تو سونا اچھال اچھال کر چلتے ہیں۔حکومت ،یہی نمائندے اور افسران مل کر عوام کا خون پسینہ نکالتے ہیں پھر اسے سیاست کے مٹکے میں ڈال کر جمہوریت کی ’’مدہانی‘‘ سے ملبوتے ہیں اور بیانات کا مکھن نکال کر عوام کے ہونٹوں پر لگاتے ہیں۔اگلے زمانوں میں جب عوام کی خدمت کا یہ جذبہ کچھ زیادہ تیز نہیں تھا تو صرف ’’وزیر‘‘ ہی مکھن کے گولے نکال کر عوام میں تقسیم کرتے تھے لیکن خدمت کا یہ جذبہ جتنا تیز ہوتا گیا۔خادموں کی تعداد بڑھتی گئی مشیر معاون اور ان معاونوں کے معاون اس کام میں شامل ہوتے گئے، پارلیمانی کمیٹیاں اسٹینڈنگ کمیٹیاں ، شاپنگ کمیٹیاں، سلیپنگ کمیٹیاں اور مخبر بھی شامل ہوتے گئے بلکہ اب تو محکموں کے سربراہ بھی اس کام میں مصروف ہوچکے ہیں۔ روزانہ اخباروں میں دیکھیے تو مکھن کے گولے نکالے جا رہے ہیں اور عوام کے ہونٹ ترکیے جا رہے ہیں اور اب تو خدا کے فضل وکرم سے، بانی کے وژن سے اور محترماؤں کی دعاؤں سے خزانہ یا علی بابا کا غار بھی مل چکا ہے، اس لیے ان جدی پشتی خادموں کا حق بنتا ہے کہ پہلے اس خزانے سے ان کے دامن بھر دیے جائیں۔ہمارے خیال میں یہ رنگ برنگے پاسپورٹ طرح طرح کی استثنائیں تاحیات وظیفے، بلٹ پروف،بم پروف اور شرم پروف گاڑیاں تو کچھ بھی نہیں

بقدر شوق نہیں ظرف تنگنائے غزل

کچھ اور چاہیئے وسعت مرے بیاں کے لیے

 بغیردولت ودین معین ملت و ملک

بنائے چرخ بریں ان کے آستاں کے لیے

بلٹ پروف، بم پروف اور شرم پروف گاڑیوں میں تو یہ اس وقت تک محفوظ ہوں گے جب تک گاڑیوں میں ہوتے ہیں لیکن یہ لوگ قوم وملک کی خدمت کے لیے کبھی کبھی ان گاڑیوں سے نکلتے بھی ہیں، فی الحال تو یہ اپنے گرد گوشت و پوست کی ’’دیواریں‘‘ لیے پھرتے ہیں لیکن حفاظت کا کوئی مستقل انتظام ہونا چاہیئے۔اور یہ ہمارے خیال میں یوں ہوسکتا ہے کہ بلٹ پروف بم پروف اور شرم پروف’’شوکیسں‘‘ منگوائے جائیں جو شفاف شیشے کے ہوں اور یہ جب بھی باہر نکلیں شوکیس پہن کر نکلیں، اب رہ گئی یہ بات کہ وہ خزانہ،علی بابا کا غار صوبہ خیرپخیر والوں کو کہاں اور کیسے ملا ہے؟ تو اس کے لیے کچھ زیادہ جستجو کی ضرورت نہیں ہے صرف آئینے میں دیکھ لیجیے نظر آجائے گا۔نظر آگیا نا۔یہی تو ہے وہ کبھی نہ ختم ہونے والا خزانہ۔