ملک میں جماعت اسلامی اور مرکزی مسلم لیگ واحد سیاسی پارٹیاں ہیں جو عوام کی بنیادی ضروریات پر بڑھتے حکومتی پریشان کن اقدامات پر خود آواز ہی نہیں اٹھا رہیں بلکہ اپنے طور پر عوام کی مشکل زندگی کو کسی حد تک آسان بنانے کی کوشش کر رہی ہیں مگر حکومتی پارٹیوں کو کوئی فکر نہیں کہ ملک کے عوام کن مشکل حالات میں جی رہے ہیں اور سطح غربت کے شکار ملک کے چالیس فی صد لوگوں کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں اور نصف سے زیادہ آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے جس سے ان میں بیماریاں عروج پر پہنچ چکی ہیں اور وہ مالی مشکلات کے باعث سرکاری اسپتالوں تک میں اپنا علاج کرانے سے قاصر ہوچکے ہیں مگر سالوں بلکہ عشروں سے سرکاری وسائل اور مفت بنیادی سہولیات سے مسلسل فایدہ اٹھانے والوں کو عوام کا کوئی احساس نہیں۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مقتدر سیاسی جماعتیں عوام کے مسائل کے حل کے لیے آواز اٹھاتیں اور حکومت میں موجود اپنی قیادت کو مجبور کر تی کہ وہ عوام کے مسائل کے حل کے لیے بہتر حکمت عملی اختیار کریں۔لیکن ایسا نہیں ہوا مقتدر سیاسی جماعتیں بالکل خاموش ہیں اور دیکھ رہی ہیں کہ عوام کس مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔
پانی بنیادی ضرورت ہے جس کے پینے سے کسی حد تک پیٹ تو بھر جاتا ہے، مگر بھوک نہیں مٹتی جس کے لیے انھیں مخیر حضرات کے دستر خوانوں سے مفت کھانا مل جاتا ہے جس کی فراہمی حکومت کی ذمے داری نہیں مگر پینے کے صاف پانی کی عوام کو فراہمی مکمل طور پر حکومت کی بنیادی ذمے داری بلکہ سرکاری فرض ہے مگر سرکاری خزانے سے صاف و شفاف صحت مند پانی مفت حاصل کرنے والوں کو نہیں پتا کہ عوام مضر صحت پانی حاصل کرنے کے لیے کس طرح لمبی قطاروں میں لگے رہتے ہیں اور دیہی علاقوں کی خواتین حصول آب کے لیے کس طرح خوار ہو رہی ہیں۔بعض علاقوں میں تو صورت حال یہ ہے کہ صاف پانی موجود ہی نہیں ‘انسان اور جانور ایک ہی جوہڑ سے پانی پی رہے ہیں ‘ جس کے باعث وہاں لوگوں میں مختلف بیماریاں پھیل رہی ہیں ۔
مفت دسترخوان لگوانے کی ذمے داری نجی ادارے کسی حد تک پوری کر رہے ہیں اور بعض فلاحی ادارے کم نرخوں پر علاج کی سہولیات بھی فراہم کر رہے ہیں، جو حکومت کا فرض اولین ہے مگر سرکاری اخراجات پر بڑے مہنگے اسپتالوں اور بیرون ملک جا کر مفت علاج کرانے والوں کو نہیں پتا کہ غریب بیماریوں میں مبتلا ہو کر سسک سسک کر کس طرح مر رہے ہیں اور دو کروڑ سے زائد غریب بچے کیوں اسکولوں سے باہر رہ کر کم عمری میں ملازمتوں پر مجبور ہیں۔
موجودہ حکومتوں کے ذمے داروں کو صرف بے بنیاد سیاسی بیانات دینے سے فرصت نہیں اور وفاقی حکومت کی سوچ صرف یہ ہے کہ بجلی، گیس اور پٹرول استعمال کرکے اپنی زندگی گزارنے والوں کو مزید کیسے نچوڑا جائے اور ان کے کمزور جسم میں جو توانائی باقی رہ گئی ہے، وہ بھی چھین لی جائے۔ عوام کو صاف پانی، تعلیم اور علاج کی سہولیات کی فراہمی اب صوبائی حکومتوں کی ذمے داری ہے اور وفاقی حکومت کا کام روز مرہ استعمال میں آنے والی اشیا پر پہلے سے مسلط ٹیکس، مختلف ڈیوٹیاں اور لیوی کو مزید بڑھا بڑھا کر ملک میں مسلسل مہنگائی کا ریکارڈ قائم کیا جائے۔
یہ ریکارڈ حکومتی محکمے بڑی خوبی سے انجام دے رہے ہیں اور وزارت خزانہ حکام اپنے ٹیکس اہداف کی وصولی میں ناکام افسروں کی سرزنش کی بجائے ان کے دیے ہوئے عوام دشمن مشوروں پر مکمل عمل کرا رہے ہیں ، حکومتی ادارے عوام کی بنیادی اشیائے ضرورت پر مزید ٹیکس بڑھانے میں مصروف ہیں اور حکومت کو عوام کو نچوڑ کر زیادہ رقم فراہم کرنا انھوں نے اپنا فرض بنا رکھا ہے۔ نصف ملکی آبادی کو صاف پانی کی مفت فراہمی لاہور میں اہل حدیث مساجد میں دیکھ کر راقم کو حیرت ہوئی جب کہ کراچی میں الخدمت اپنے قائم کردہ فلٹر پانی کے مراکز سے کم نرخوں پر عوام کی ضرورت کسی حد تک پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور بعض دیگر فلاحی ادارے بھی کوشش کر رہے ہیں اور اکثر سرکاری فلٹر پلانٹ بند پڑے ہیں۔
جماعت اسلامی نے ملک بھر میں مہنگائی اور پٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج اور صوبائی دارالحکومتوں میں دھرنے دیے مگر وفاقی حکومت پر کوئی اثر نہیں ہوا نہ وہ اپنے اخراجات کم کرنے پر تیار ہے اور اس کا مقصد صرف عوام کی ضروری اشیا کو لیوی، بجلی وگیس پر اضافی فکسڈ چارجز جبری طور پر وصولی رہ گیا ہے، تاکہ اخراجات پورے اور عیاشی حکمرانی چلتی رہے جس کے حصول کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتیں عوام دشمن اقدامات پر عمل پیرا ہیں اور مہنگائی کے نئے ریکارڈ ضرور قائم کر دیے ہیں۔