عباس ٹائون بم دھماکاکیسگرفتارملزم نے اعتراف جرم کرلیا
وزیرستان میں ٹریننگ حاصل کی ،افغانستان میں جہادکیا،جوڈیشل مجسٹریٹ غربی کو اقبالی بیان
عباس ٹائون بم دھماکاکرنے کے الزام میںگرفتارملزم نے اپنے جرم کااعتراف کرلیا ہے اوراپنے اعترافی بیان میں دیگراہم انکشاف اورملوث ملزمان کو بھی بے نقاب کیا ہے۔
پیرکو سی آئی ڈی پولیس نے ملزم عطااﷲ کا ضابطہ فوجداری کی ایکٹ 164کے تحت اپنا اقبالی بیان قلمبند کرانے کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ غربی محمد افضل روشن کے روبرو پیش کیا تھا اس موقع پرفاضل عدالت نے ملزم کوسوچنے کا وقت دیا بعدازاں ملزم نے بتایا کہ وہ بغیرکسی دبائواورخوف کے اپناجرم قبول کرناچاہتا ہے ملزم نے اپنے بیان میں عدالت کو بتایا وقوع کے روز وہ ہلاک ہونے والے ملزم گل مندکے ہمراہ بم دھماکاکرنے کی غرض سے موٹرسائیکل پرآئے تھے اس موقع پران کے سرغنہ مسافرخان، امام،گل محمد محسود ودیگر ساتھی ایک گاڑی میں موجود تھے اورنگی ٹائون کے علاقے عباس ٹائون میں واقع حیدرقرار امام بارگاہ کے قریب پنکچرکی دکان پرگل مند نے موٹرسائیکل کھڑی کی تھی اور اس نے بارود سے بنے ہوئے بلاک کو پودوں کی بنی ہوئی کیاری میں رکھا تھا پہلے دھماکے کے فوری بعد وہ اپنے دیگرساتھیوں کے ہمراہ فرار ہوگئے تھے۔

بعدازاں انھوں نے 10محرم الحرام کے مرکزی جلوس پربارود سے بھری گاری ٹکرانے اور خود کش حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی تاہم پولیس نے انھیں مقابلے کے بعدگرفتار کرلیا تھا اس کا ایک ساتھی گل مند اس مقابلے میں ہلاک ہوگیا تھا جبکہ دوسرے ساتھی فرارہوگئے تھے ۔ملزم نے سچل میں بھی بم دھماکے کرنے کا اعتراف کیا ہے ملزم نے مزید انکشاف کیا کہ وہ افغانستان میں جہادکرچکا ہے اور وزیرستان میں ٹرینگ بھی حاصل کی تھی اسے اکثراوقات5سے دس ہزار روپے معاوضہ دیا جاتا تھا ۔ فاضل عدالت نے ملزم کا بیان قلمبند کرنے کے بعد 13دسمبرتک عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔