منصفانہ انتخابات کا خواب

کیا فخر الدین ابراہیم کے فیصلوں کو بھی اسی طرح تسلیم کیا جائے گا جس طرح ان کے تقرر کو قبول کیا گیا تھا؟


Muhammad Saeed Arain December 11, 2012

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ڈپٹی وزیر اعظم چوہدری پرویز الٰہی کی طرف سے 4 دسمبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں دھاندلیوں کے الزامات کے ثبوت طلب کرلیے ہیں اور واضح کیا ہے کہ الیکشن کمیشن سو نہیں رہا اور اس نے اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں سے ملنے والی شکایات کا ایکشن لیا ہے اور جہاں سے دھاندلی کے ثبوت ملیں گے وہاں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

پہلی بار ملک کو ایک غیر متنازعہ الیکشن کے لیے غیر متنازعہ چیف الیکشن کمشنر ملا ہے جن پر بظاہر تو سب نے اعتماد کا اظہار کیا ہے مگر اب دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا فخر الدین ابراہیم کے فیصلوں کو بھی اسی طرح تسلیم کیا جائے گا جس طرح ان کے تقرر کو قبول کیا گیا تھا؟

چار دسمبر کو پنجاب اور سندھ میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں ہارنے والوں نے حسب روایت دھاندلیوں کے الزامات لگائے ہیں۔ پنجاب حکومت کے مخالفین نے پنجاب حکومت پر اور سندھ حکومت کے مخالفین نے سندھ حکومت پر اپنے مقررہ پولنگ عملے اور سرکاری افسروں کے ذریعے دھاندلی کے ویسے ہی الزامات لگائے ہیں جیسے ملک میں ہارنے والے ہمیشہ لگاتے آئے ہیں اور اس بار بھی غیر متنازعہ چیف الیکشن کمشنر کی موجودگی کے باوجود ہارنے والوں نے دھاندلیوں کے الزامات عائد کیے ہیں ۔

اب تک ملک میں جتنے بھی عام انتخابات ہوئے ان میں صرف 1970 کے عام انتخابات کو کسی حد تک منصفانہ کہا جاتا ہے جو فوجی صدر جنرل یحییٰ خان نے کرائے تھے اور کہا جاتا تھا کہ اس سلسلے میں ان کا مقصد یہ تھا کہ انتخابات میں کوئی ایک پارٹی اکثریت نہیں لے سکے گی اور سب کو مخلوط حکومت بنانے کے لیے یحییٰ خان کی صدارت قبول کرنا پڑے گی، مگر ہوا اس کے برعکس اور مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ اور مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی اکثریت لے گئی اور انتخابات کے نتائج تسلیم نہ کیے جانے کی وجہ سے پاکستان دو لخت ہوگیا اور دونوں اکثریتی پارٹیوں کو پورے ملک کا نہ سہی ملک کے دو ٹکڑوں کا اقتدار مل گیا تھا اور متحدہ پاکستان ایسے غیر متنازعہ انتخابات کی بھینٹ چڑھ گیا تھا۔

کوئی مانے یا نہ مانے مگر یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی پارٹی کو ملک سے کم اور ملک کے اقتدار سے زیادہ محبت ہے۔ کسی پارٹی کا کوئی مسلمہ اصول، منشور اور نظریہ نہیں ہے اور یہی حال ہمارے سیاسی قائدین کا ہے جنھیں صرف اور صرف اپنے سیاسی مفادات عزیز ہیں اور موجودہ حکومت میں عوام خود دیکھ چکے ہیں کہ اقتدار برقرار رکھنے کے لیے کیا نہیں کیا گیا۔ اس سلسلے میں پیپلز پارٹی ہی نہیں بلکہ ن لیگ بھی اپنے مقررہ اصول چھوڑنے پر مجبور ہوئی اور دونوں نے اپنی بے اصولیوں سے اپنے اپنے اقتدار کے پونے پانچ سال ضرور مکمل کرلیے ہیں۔

سپریم کورٹ نے کراچی میں گھر گھر جاکر ووٹ چیک کرنے اور حلقہ بندیوں کے ردو بدل کا حکم دیا ہے جس پر متحدہ اس حکم کو کراچی دشمنی قرار دے رہی ہے اور اس کا موقف یہ ہے کہ ایسا صرف کراچی میں کیوں پورے ملک میں کیوں نہیں کرایا جارہا؟ وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ ہمیں پورے سندھ میں نئی حلقہ بندیوں پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ جن کو اعتراض ہے وہ عدالت سے رجوع کرے۔ کراچی میں متحدہ کے سوا تمام سیاسی پارٹیوں کو موجودہ حلقہ بندیوں پر اعتراضات ہیں ۔

اب جب کہ مارچ میں حکومتی مدت مکمل ہورہی ہے اور انتخابات سر پر آچکے ہیں اور حلقہ بندیوں کے سلسلے میں الزام در الزام کی سیاست عروج پر ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنی اپنی صف بندی کر رہی ہیں۔ ملک کے سب سے بڑے شہر کے لوگوں کو ہمیشہ یہ شکایت رہی ہے کہ کراچی کو جان بوجھ کر مردم شماری میں ناانصافی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور آبادی کم ظاہر کرکے کراچی کی قومی اور صوبائی نشستوں کو آبادی کے لحاظ سے تسلیم نہیں کیا جاتا اور سب سے زیادہ آبادی کے حلقے بنائے جاتے ہیں۔

آبادی کے لحاظ سے پورے ملک میں یکساں اصول ہونا چاہیے اور ملک کے دوسرے بڑے شہر لاہور والا اصول کراچی پر بھی لاگو ہونا چاہیے تاکہ تمام علاقوں کو ان کی آبادی کے مطابق قومی وصوبائی نشستیں مل سکیں۔

ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ پورے ملک میں اثر و رسوخ رکھنے والی سیاسی جماعتوں اور انتخابات لڑنے والے بااثر سیاسی افراد نے اپنی مرضی کی حلقہ بندیاں کر رکھی ہیں اور عام انتخابات میں وہ اپنی مرضی کے پولنگ اسٹیشن قائم کراتے ہیں اور اپنی مرضی کا پولنگ اسٹاف مقرر کراتے ہیں تاکہ ان کے ذریعے دھاندلی کروا کر مطلوبہ نتائج حاصل کرسکیں۔

ملک میں اس سے قبل بھی عدلیہ کی نگرانی میں متعدد بار عام انتخابات ہوچکے ہیں اور انتظامیہ کے مقابلے میں عدلیہ کی نگرانی میں ہونے والے انتخابات میں دھاندلیوں کی شکایات کم رہی ہیں اور ہمیشہ ضمنی انتخابات میں صوبائی حکومتوں نے اپنے مقررہ عملے کے ذریعے دھاندلیاںکرائی ہیں۔ اور 4 دسمبر کو بھی یہی ہوا ہے کیونکہ انتخابات کرانے والا عملہ ہمیشہ صوبائی حکومتیں فراہم کرتی ہیں اور نگراں حکومتوں میں بھی یہی ہوتا ہے۔

الیکشن کمیشن کے اختیارات محدود ہیں اور جب تک الیکشن کمیشن با اختیار نہیں بنایا جاتا تب تک ملک میں منصفانہ عام انتخابات کا انعقاد ناممکن ہے۔ کیونکہ کوئی نگراں حکومت اور کوئی سیاسی پارٹی منصفانہ انتخابات نہیں ہونے دے گی اور جس پارٹی یا بااثر امیدوار کا جہاں بس چلے گا وہاں موجودہ صورت حال میں دھاندلی ضرور کرائے گا اور ملک میں بااختیار الیکشن کمیشن ہونے تک منصفانہ انتخابات کا خواب، خواب ہی رہے گا اور دھاندلیاں یوں ہی ہوتی رہیں گی۔

مقبول خبریں