قومی تاریخ کا ایک روشن ستارہ
اسپیکر صاحبزادہ فاروق علی خان نے قائد ایوان جناب ذوالفقار علی بھٹو کو اظہار خیال کی دعوت دی.
یکم اپریل 1926ء میں مبلغ اسلام، سفیر پاکستان علامہ عبدالعلیم صدیقیؒ کے گھر پیدا ہوئے۔ شاہ احمد نورانی کے آباؤ اجداد عرب سے آ کر میرٹھ میں آباد ہوئے۔ آپ کے خاندان کا شمار میرٹھ کے مشہور علمی اور صوفی گھرانوں میں ہوتا تھا۔ آپ کے دادا شاہ عبدالحکیم میرٹھ کی شاہی مسجد کے خطیب، مبلغ اسلام اور مشہور صوفی شاعر تھے۔ برصغیر کے مشہور ادیب و شاعر مولانا اسمٰعیل میرٹھی (جن کی کتب یوپی بورڈ میں پڑھائی جاتی ہیں) آپ کے دادا کے سگے بھائی تھے۔ آپ کے والد علامہ عبدالعلیم میرٹھی صدیقیؒ کی تبلیغی مساعی سے تقریباً ایک لاکھ سے زائد غیر مسلم مشرف بہ اسلام ہوئے۔
مولانا نورانی نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ آٹھ سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کر لیا اور مدینہ منورہ میں تجوید و قرأت کی تعلیم کے قاری الشیخ حسن الشاعر سے حاصل کی۔ 1944ء میں اٹھارہ سال کی عمر میں درس نظام کی تکمیل کی۔ مفتی اعظم ہند، فرزند حضرت مولانا شاہ مصطفی رضا خان اور مولانا نعیم الدین مراد آباد اور علامہ عبدالعلیم صدیقی اور آپ کے استاذ علامہ غلام جیلانی نے آپ کی دستار بندی کی۔
1945ء میں آپ نے الٰہ آباد یونیورسٹی سے گریجویشن کی تعلیم مکمل کی۔
1946ء میں آپ نے مسلم نوجوانوں کی تنظیم (نیشنل گارڈ) کی بنیاد رکھی۔
1947ء مسلمانوں کی نمایندہ جماعت مسلم لیگ کی کامیابی کے لیے جدوجہد کا آغاز کیا۔ ڈیفنس انڈیا رولز کے تحت گرفتار ہوئے اور دو ہفتے جیل میں رہے۔
1948ء میں اپنے والد کے ہمراہ پاکستان تشریف لائے۔ ابتداء میں جیکب لائن میں رہائش اختیار کی اور بعد میں (وصال سے ایک سال قبل تک) کچھی میمن مسجد صدر کے برابر کے فلیٹ میں رہائش پذیر رہے۔
1953ء میں آپ ورلڈ مسلم آرگنائزیشن کے جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے۔
مولانا نورانی تقریباً سترہ (17) زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔
2 جون 1952ء میں آل پاکستان مسلم پارٹیز کانفرنس کے اجلاس میں حکومت کے مرزائیت نواز رجحانات کے باعث آئینی ذرایع سے پرامن جدوجہد کا راستہ اختیار کرنے کے لیے اس کانفرنس میں اہم رہنماؤں پر مشتمل ایک گیارہ رکنی علماء بورڈ تشکیل دیا گیا۔
علامہ شاہ احمد نورانی نے تحریک ختم نبوت 1953ء میں علماء بورڈ کے ممبر اور تحریک کے کارکن کی حیثیت سے فرائض انجام دیے۔ 1953ء کی تحریک ختم نبوت میں علامہ شاہ احمد نورانی علماء بورڈ کے ممبر ہونے کے علاوہ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت سندھ کے جنرل سیکریٹری بھی رہے۔
جنرل ضیاء الحق کو نورانی نے فرمایا کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ خلیفہ منتخب ہوئے تھے۔ ان کے بعد حضرت عمرؓ خلیفہ بنے۔ حضرت عمرؓ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو آپ تین روز تک شدید زخمی رہے۔ اس وقت فاتح جرنیل عمرو بن العاصؓ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ تھے کوئی اقتدار میں نہیں آیا، فوج نے ٹیک اوور نہیں کیا۔ اس وقت ایران، مصر اور یمن کے فاتح جرنیل موجود تھے، خلافت راشدہ کے دور میں فوج جنگ کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں سول انتظامیہ سے ہدایات لیتی رہی۔ حضرت خالد بن ولید کمانڈر انچیف تھے ایڈمنسٹریشن کا حکم ملا کہ کمان ابو عبیدہؓ کے سپرد کر دیں۔ حضرت خالد بن ولید نے کمان حضرت ابو عبیدہ کے سپرد کر دی اور خود ایک سپاہی کی حیثیت سے اپنی زندگی کی آخری سانس تک لڑتے رہے۔
مولانا شاہ احمد نورانی نے 1970ء کی انتخابی مہم اور اس کے بعد سے مسلسل اس بات پر زور دیا کہ ملک کے تحفظ اور بقاء کا راستہ حقیقی جمہوریت کے نفاذ میں پوشیدہ ہے۔ اکتوبر 1971ء میں علامہ نورانی نے ملک کے مسائل کے حل کے لیے ایک پانچ نکاتی فارمولا پیش کیا جس کو ملک گیر پذیرائی ملی۔ چوہدری ظہور الٰہی مرحوم کو سابق صدر یحییٰ خان نے کہا کہ جب مشرقی پاکستان کے لیڈروں سے مذاکرات کے دوران مغربی پاکستان کے تمام لیڈر خاموش رہتے تھے تو شاہ احمد نورانی واحد آدمی تھا جو میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مجھ سے بات کرتا تھا اور جس نے کہا تھا کہ تم کسی کو غدار قرار دینے والے کون ہوتے ہو عوام کے نمایندوں کو اقتدار منتقل کردو، اس کے بعد سیاسی معاملات کو حل کرنا ہمارا کام ہو گا۔
شاہ احمد نورانی نے مدینہ منورہ میں رہائش اختیار کر لی تو قطب مدینہ حضرت مولانا ضیاء الدین مدنیؒ نے آپ کو حکم دیا کہ پاکستان جائیں وہاں آپ کی اشد ضرورت ہے۔
قائد جمعیت نے تاریخ ساز قرارداد (30جون 1974ء) کو قومی اسمبلی میں پیش کی۔ مولانا نورانی سے پہلے کئی علماء رکن اسمبلی مثلاً شبیر احمد عثمانی، مفتی محمود (جمعیت العلماء اسلام) وغیرہ تھے لیکن یہ سعادت صرف شاہ احمد نورانی کے حصے میں آ کر تاریخ کا حصہ بن گئی۔
جب مولانا شاہ احمد نورانی نے قومی اسمبلی میں مرزائیوں کے خلاف قرارداد پیش کی تو مرزائیوں نے آپ سے کہا کہ اپنی قرارداد میں صرف اتنی ترمیم کر دیں کہ جو گروہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتا ہے وہ کافر ہے لیکن جو گروہ مرزا کو مجدد و مصلح مانتا ہے وہ کافر نہیں ہے، اس ترمیم کے بدلے میں انھوں نے آپ کو ربوہ گروہ کی طرف سے پچاس لاکھ اور لاہوری گروہ کی طرف سے بھی پچاس لاکھ رقم پیش کرتے ہوئے رقم سے بھرا ہوا بریف کیس آپ کے سامنے کھول کر رکھا۔ علامہ نورانی نے اسے اپنے پاؤں کی ٹھوکر لگا کر فرمایا بھاگ جاؤ میں تو بازار مصطفی کریمؐ میں بِک چکا ہوں۔ گنبد خضریٰ والے آقاؐ سے ہمارا سودا ہو چکا ہے اور یہ پیسہ ہمیں نہیں خرید سکتا آپ نے ان لوگوں سے کہا مرزا مدعی نبوت ہے جو اسے مجدد یا مصلح مانتا ہے وہ بھی کافر ہے اور قرارداد سے کوئی لفظ بھی حذف نہیں ہو گا۔
قومی اسمبلی میں خصوصی کمیٹی نے دو ماہ قادیانی مسئلہ پر غور و خوض کے لیے اٹھائیس اجلاس اور چھیانوے نشستیں منعقد کیں۔ اس دوران میں قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے روبرو قادیانی گروہ کے رہنما مرزا ناصر لاہوری گروپ کے امیر صدر الدین انجمن اشاعت اسلام لاہور کے عبدالمنان اور مسعود بیگ پر جرح ہوئی، 11 روز مرزا ناصر قادیانی پر جرح ہوئی۔ ممبران قومی اسمبلی نے مرزا ناصر سے ایک سو اسی(180) سوالات کیے جس میں ستر سوالات صرف جمعیت علماء پاکستان کی جانب سے کیے گئے۔اس بحث میں علامہ نورانی، علامہ عبدالمصطفیٰ الازہری اور جمعیت کے دیگر اراکین نے بھرپور حصہ لیا۔ بحث مکمل ہونے پر قادیانیوں کا کفر کھل کر سامنے آ گیا۔
اسپیکر صاحبزادہ فاروق علی خان نے قائد ایوان جناب ذوالفقار علی بھٹو کو اظہار خیال کی دعوت دی، وزیر اعظم کی تقریر کے بعد وزیر قانون نے بل منظوری کے لیے ایوان کے سامنے پیش کیا۔ رائے شماری کے بعد اسپیکر نے پانچ بج کر باون منٹ پر اعلان کیا مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے والی آئینی ترامیم کے حق میں ایک سو تیس (130) ووٹ آئے ہیں جبکہ مخالفت میں ایک ووٹ بھی نہیں ڈالا گیا۔ جس وقت اسپیکر یہ اعلان کر رہے تھے تو پورا ایوان نعرہ تکبیر، نعرہ رسالت اور تاجدار ختم نبوت زندہ باد کے نعروں سے گونج رہا تھا۔ اسی طرح سینیٹ سے بھی قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا دستوری عمل مکمل کر دیا گیا۔ دونوں ایوانوں میں قرارداد کی متفقہ منظوری نے پاکستان اور سارے عالم اسلام میں جشن کا سماں پیدا کر دیا تھا۔
7 ستمبر 1974ء کو ہر طرف لوگ ایک دوسرے کو مبارکبادیں دے رہے تھے، مٹھائیاں تقسیم ہو رہی تھیں، مساجد سے اعلانات کیے جارہے تھے۔ لوگ سجدہ شکر اور نماز شکرانہ ادا کر رہے تھے۔ جہاں علامہ نورانی کی پیش کردہ قرارداد کی منظوری نے ختم نبوت کے ہر منکر کو خارج از اسلام قرار دے دیا وہاں اس قرارداد کی منظوری نے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے عہد حکومت کو ایک ایسے اعزاز سے بھی مشرف کر دیا جس پر ہر آنے والی حکومت رشک کرے گی۔ 7 ستمبر 1974ء علامہ نورانی نے قادیانیوں کو پاکستان کی قومی اسمبلی سے آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے کے بعد مختلف ممالک کے تقریباً ساڑھے تین ماہ طویل دورے کیے۔ کم و بیش ایک لاکھ میل سے زائد سفر طے کیا اور مختلف مقامات پر چھ سو سے زائد تقاریر کیں۔ بے شمار افراد قادیانیت سے تائب ہو کر مسلمان ہوئے۔
تحریک ختم نبوت 1953ء سے لے کر 11 دسمبر 2003ء تک حزب اختلاف کی سیاست کی۔ اتنا طویل حوصلہ شکن اور صبر آزما سفر کوئی صاحب عزیمت و استقامت ہی کر سکتا ہے۔
(مولانا شاہ احمد نورانیؒ کی برسی کے حوالے سے خصوصی مضمون)