جمہوریت کے نام پر بادشاہت

ہمارا حکمران طبقہ جب اپنی نااہلیوں کے خلاف اداروں کی طرف سے آواز اٹھتے دیکھتا ہے تو شور مچانے لگتا ہے


Zaheer Akhter Bedari October 21, 2016
[email protected]

لاہور: ملک میں اگر عوام کے سا تھ کوئی ناانصافی ہو رہی ہو تو یہ اہل سیاست اور عوامی نمایندوں کی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ اس کے خلاف آواز بلند کریں لیکن جب اہل سیاست اور عوامی نمایندے خود ان ناانصافیوں میں شامل ہوں تو پھر اہل ضمیر اپنی ذمے داری سمجھ کر ان ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں۔

ہماری اعلیٰ عدلیہ کے محترم جج صاحبان ایک عرصے سے عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف عوام کی توجہ اسی لیے مبذول کرا رہے ہیں کہ ''خواص'' عوامی اور قومی مسائل سے لاتعلق ہو گئے ہیں۔ جمہوریت اور بادشاہت جیسے مسائل کا تعلق براہ راست سیاست سے ہے، اگر سیاستداں عوامی مسائل کو اپنی ترجیح بنا لیتے تو پھر عدلیہ کے محترمین کو جمہوریت اور بادشاہت جیسے سیاسی مسائل پر آواز اٹھانے کی ضرورت نہ ہوتی۔

ہمارا حکمران طبقہ جب اپنی نااہلیوں کے خلاف اداروں کی طرف سے آواز اٹھتے دیکھتا ہے تو شور مچانے لگتا ہے کہ ہر ادارے کو اپنے ''دائرہ کار'' میں رہ کر کام کرنا چاہیے، دوسرے اداروں کے اندرونی معاملات میں دخل نہیں دینا چاہیے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومتوں اور حکمرانوں کا دائرہ کار کیا ہے؟ کیا اربوں روپوں کی کرپشن کک بیکس سمیت کھلی لوٹ مار حکومت اور حکمرانوں کے دائرہ کار میں آتی ہے؟ اگر نہیں آتی تو کسی نہ کسی مخلص اور عوام دوست ادارے کو اس کے خلاف آواز اٹھانی پڑتی ہے۔ حیرت کا مقام یہ ہے کہ ہمارے ملک کا دانشور اور مفکر گہری نیند میں ہے یا پھر حکمرانوں کی مصاحبت کے فرائض انجام دے رہا ہے۔

جمہوریت کے نام پر ساری دنیا میں عوام کا جو استحصال کیا جا رہا ہے پسماندہ ملکوں میں یہ استحصال اپنی آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔ سرمایہ دارانہ جمہوریت کے سرپرستوں نے نیابتی جمہوریت کے نام پر اشرافیہ کی جو حکومتیں قائم کر رکھی ہیں، اس سے نجات حاصل کرنا عوام کی اولین ذمے داری ہے، لیکن عوام کو مختلف حوالوں سے تقسیم کر کے انھیں ایک دوسرے سے برسر پیکار کر کے ان کی اجتماعی طاقت کو پارہ پارہ کر دیا گیا ہے۔ اور ان کا رخ موڑ کر اصل اہداف کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ پاکستان میں 69 سال سے جو اشرافیائی حکومتیں عوام پر مسلط ہیں۔

عوام کی پہلی ترجیح ان اشرافیائی حکومتوں سے نجات حاصل کرنا ہونا چاہیے اور عوام اس حوالے سے اس وقت تک متحرک نہیں ہو سکتے جب تک عوام دوست سیاسی جماعتیں ان کی رہنمائی یا قیادت نہیں کرتیں۔ عموماً یہ ذمے داری درمیانے طبقات پر مشتمل سیاسی جماعتیں ادا کرتی ہیں لیکن ان جماعتوں کی اکثریت ڈھکے چھپے یا اعلانیہ حکومتوں کی کاسہ لیسی کا کام انجام دے رہی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ حکمرانوں پر تنقید بھی کر رہی ہیں کہ رند کے رند رہیں اور ہاتھ سے جنت بھی نہ جائے۔ ہمارے ملک میں اشرافیائی جمہوریت کے استحکام کی بڑی وجہ مڈل کلاس کی بددیانتی اور حکومتوں کی کاسہ لیسی ہے۔

ہمارا حکمران طبقہ اس قدر عیار اور ہوشیار ہے کہ وہ کسی نہ کسی بہانے اصل مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے نان ایشوز کو سامنے لاتا ہے۔ پانامہ لیکس حکمران طبقے کی بھاری کرپشن کو طشت از بام کرنے کا موثر ذریعہ بنا ہوا ہے، بعض جماعتیں اس مسئلے کے حوالے سے عوام کو متحرک کرنے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن حکمران طبقہ ایک طرف اپنی جادونگری سے ان جماعتوں میں پھوٹ ڈالنے کی کامیاب کوششیں کر رہا ہے تو اپنے مصاحبین پر مشتمل سیاسی جماعتوں کے ذریعے یہ پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ بعض جماعتیں پانامہ لیکس کے نام پر ملک میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور ان چمچہ جماعتوں کی لغت میں لا اینڈ آرڈر کا مطلب ''اسٹیٹس کو'' کو برقرار رکھنے کے علاوہ کچھ نہیں۔

ہمارا اصل مسئلہ 69 سال سے عوام پر مسلط اشرافیائی حکومتوں سے نجات ہے لیکن تماشا یہ ہے کہ ہماری طاقتور اشرافیہ عوام ملک اور معاشرے کو اور پیچھے دھکیلنے کے لیے براہ راست بادشاہی نظام عوام پر مسلط کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے اور ہر اشرافیائی خاندان عوام کی دولت کے استعمال سے شہزادوں اور شہزادیوں کی اس طرح پبلسٹی کر رہا ہے کہ جیسے اشرافیائی جمہوریت کی جگہ مغل امپائر ملک میں اپنی جڑیں مضبوط کر رہی ہے۔ اس حوالے سے ایک تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ماضی کے ترقی پسند سیاسی کارکن آج ان شہزادوں اور شہزادیوں کی چھتریاں بنے ہوئے ہیں اور ٹی وی کیمروں کے سامنے ان شہزادوں کے پیچھے سے سر نکال کر کھڑے نظر آتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ عوامی جمہوریت کی طرف پیش قدمی کے لیے اشرافیائی جمہوریت کا خاتمہ کس طرح ہو؟ اگر ہمارے ملک میں محب عوام سیاسی جماعتیں ہوتیں تو ان کی پہلی ترجیح اشرافیائی جمہوریت کا خاتمہ ہوتی لیکن ہماری اجتماعی بدقسمتی یا بے حسی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ایسی مڈل کلاس جماعتیں موجود نہیں ہیں جو اپنی ساری طاقت اشرافیائی جمہوریت کو ختم کرنے میں لگا دیں اس کے برخلاف ہو یہ رہا ہے کہ جمہوریت کو بچانے کے نام پر اپنے مفادات اور حکمرانوں کی لوٹ مار میں اپنا حصہ وصول کرنے کی تگ و دو میں لگی ہوئی ہیں۔

ایسی بدترین صورتحال میں ملک کے اہل علم اہل قلم اہل دانش اور خاص طور پر میڈیا کی یہ ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ اس کرپٹ اشرافیائی جمہوریت کے خلاف رائے عامہ کو بیدار کرے لیکن رونا یہ ہے کہ یہ طبقات یا تو خواب غفلت میں غلطاں ہیں یا پھر اس طبقے کی چلم برداری میں لگے ہوئے ہیں۔ غالباً اسی مایوس کن صورتحال نے ہمارے چیف جسٹس صاحب کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہمارے ملک میں جمہوریت کے نام پر بادشاہت قائم ہے۔ یہ پیغام اتنا واضح ہے کہ عوام اس پر بھی چپ کا روزہ رکھے رہیں تو اس ملک کا مستقبل انتہائی عوام دشمن اور تباہ کن ہی ثابت ہو گا۔

مقبول خبریں