درزیوں نے سلائی کی اجرت بڑھادی ’’نو بکنگ‘‘ کا نوٹس آویزاں

مردانہ شلوار قمیص کی سلائی 450سے 550روپے اورشلوار میں جیب لگوانے کے...


Kashif Hussain July 26, 2012
مردانہ شلوار قمیص کی سلائی 450سے 550روپے اورشلوار میں جیب لگوانے کے اضافی چارجز وصول کیے جارہے ہیں

سال بھر ہونے والی مہنگائی کو جواز بناتے ہوئے درزیوں نے بھی سلائی کی اجرت بڑھادی ہے، دکانوں پر''نو بکنگ '' کا نوٹس بھی آویزاں کردیا گیا،مہنگائی کے باعث ملبوسات کی سلائی کی اجرت میں بھی اضافہ ہورہا ہے،ٹیلرنگ کے میٹریل،بجلی کے نرخ،دکان کے کرایوں اور کاریگروں کی اجرت بڑھنے سے درزی بھی سلائی کی اجرت بڑھانے پر مجبور ہیں۔

مختلف علاقوں میں ٹیلرنگ شاپس پر مردانہ شلوار قمیص کی سلائی کی اجرت میں گذشتہ سال کے مقابلے میں 100سے 150 روپے اضافہ کردیا گیا اور شلوار قمیص کی سلائی 450سے 550 روپے تک وصول کی جارہی ہے، کلی والے کرتے کی سلائی 350سے 400روپے وصول کی جارہی ہے، ڈبل سلائی والے کاٹن کے سوٹ، ڈبل پاکٹس، شلوار میں جیب لگوانے کے اضافی چارجز وصول کیے جارہے ہیں جبکہ ہلکی سی کڑھائی کے لیے 200سے 300روپے اضافی طلب کیے جارہے ہیں۔

شہر کے متوسط علاقوں میں قائم ٹیلرنگ شاپس پر اب بھی 350سے 400روپے سلائی وصول کی جارہی ہے جبکہ شہر میں برانڈڈ شلوار قمیص تیار کرنے والے ٹیلرز جن کی دکانیں صدر، پاکستان چوک، طارق روڈ ، حیدری ، ناظم آباد اور ڈیفنس میں قائم ہیں،600روپے سے 1000روپے تک سلائی وصول کررہے ہیں ، ٹیلرنگ کے اجرت بڑھنے کے باعث شہریوں میں تیار ملبوسات کی تیاری کا رجحان زور پکڑ رہا ہے اور ہر سال ریڈی میڈ ملبوسات کی فروخت بڑھ رہی ہے ،ٹیلرنگ کی شاپس پر ان دنوں سلائی کیلیے کپڑا اور ناپ دینے والوں کا رش لگا ہوا ہے۔

بیشتر درزی صرف لگے بندھے پکے گاہکوں کے آرڈرز لے رہے ہیں جبکہ زیادہ تر درزیوں نے رمضان کا پہلا ہفتہ ختم ہونے کے بعد سلائی نہ لینے کا اعلان کردیا ہے،درزیوں کے مطابق لوڈ شیڈنگ کے باعث گاہکوں سے وعدہ کرکے اپنی اور گاہکوں کی عید خراب نہیں کرسکتے،شہر میں جاری ا علانیہ اور غیرا علانیہ طویل لوڈ شیڈنگ کے باعث عید کیلیے ملبوسات کی سلائی کا کاروبار بری طرح متاثر ہورہا ہے۔

مقبول خبریں