پاکستانی سائنسدانوں نے شمسی توانائی سے چلنے والی گھریلو اشیا تیار کرلیں

سولر تھرمل پاور پلانٹ پر بھی کام جاری، توانائی کےمہنگے ذرائع پر انحصارکم ہوگا،مہنگائی کامقابلہ کیا جاسکےگا،ڈاکٹرذکی۔


Kashif Hussain December 24, 2012
شمسی توانائی سے چلنے والے چولہے پر کھانا پک رہا ہے ،دوسری تصویر میں پھل، سبزیاں، گوشت کو خشک کرنے والا آلہ نظر آرہا ہے۔ فوٹو: ایکسپریس

پاکستان کے باصلاحیت نوجوان سائنسدان نے شمسی توانائی سے چلنے والا فریج،کھانا پکانے کا کوکر، خوردنی اشیا کو طویل عرصے کیلیے محفوظ کرنے کیلیے ڈرائر اور پانی کو بیکٹریاسے 100فیصد پاک کرنے والا سولر پیوریفائر تیار کرلیا ہے۔

پاکستان کے پہلے سولر تھرمل پاور پلانٹ پر بھی کام جاری ہے جو آئندہ 6 ماہ میں تیار کرلیا جائے گا، شمسی توانائی سے چلنے والی گھریلو استعمال کی اشیا فریج، کوکر، ڈرائر اور واٹرپیوریفائرز کے استعمال سے نہ صرف توانائی کے مہنگے ذرائع پر انحصار کم ہوگا بلکہ مہنگائی کا بھی مقابلہ کیا جاسکے گا، شمسی توانائی سے چلنے والی یہ اشیا تیار کرنے والے ملک کے باصلاحیت نوجوان سائنسدان ڈاکٹر سہیل ذکی12سال سے پاکستان نیوی انجینئرنگ کالج میں فیکلٹی ممبر کے طور پر ونڈ اور سولر سے کم قیمت انرجی پیدا کرنے کے لیے تحقیقات میں مصروف ہیں اور اب تک متعدد ہوم اپلائنسز تیار کرچکے ہیں۔

ڈاکٹر سہیل ذکی نے بتایا کہ شمسی توانائی سے چلنے والا فریج، کوکر، ڈرائر اور واٹرپیوریفائرز سمیت ونڈ ٹربائن، جنریٹرز اور چارج کنٹرولرز سمیت ونڈ انرجی کیلیے خصوصی پنکھے کامیابی کے ساتھ تیار کیے جاچکے ہیں اور ان ایجادات کو پیٹنٹ کرایا جارہا ہے تاکہ یہ ایجادات ملک و قوم کے لیے استعمال کی جاسکیں، انھوں نے بتایا کہ شمسی توانائی سے چلنے والی ہوم اپلائنسز قیمت میں بہت کم ہیں سولر کوکر کی قیمت پانچ سے سات ہزار روپے ہے جس کے ذریعے بجلی یا گیس کے بغیر کھانا پکایا جاسکتا ہے، اسی طرح واٹر پیوریفائر کی تیاری پر 7ہزار روپے کی لاگت آئی ہے جس سے یومیہ 6لیٹر پانی کو ہر قسم کے بیکٹریا سے 100فیصد پاک (Distilled) کیا جاسکتا ہے۔

06

سولر ڈرائر کے ذریعے موسم کے تمام پھل سبزیاں مچھلی مرغی گوشت وغیرہ کو خشک کرکے طویل عرصے کے لیے محفوظ بنایا جاسکتا ہے، یہ ایجادات گھریلو سطح پر استعمال کرنے کے علاوہ تجارتی مقاصد کے لیے بھی استعمال کی جاسکتی ہیں، انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں ونڈ اور سولر انرجی سے فائدہ اٹھانے کے بے پناہ مواقع موجود ہیں تاہم ٹیکنالوجی مہنگی ہونے کی وجہ سے عام طبقے سے دور ہے اس لیے سولر اور ونڈ انرجی کو عام طبقے کی دسترس میں لانے کے لیے تحقیقی سرگرمیاں جاری ہیں.

ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے لیے 500واٹ سے 2کلو واٹ تک کی ونڈ ٹربائن مقامی سطح پر تیار کرلی گئی ہیں جن کی قیمت درآمدی ٹربائنز کے مقابلے میں 50فیصد تک کم ہے، اسی طرح ونڈ انرجی کے لیے پنکھوںکے مختلف ڈیزائن کے خصوصی بلیڈز بھی تیار کیے گئے ہیں اس کے ساتھ ایک تہائی کم قیمت پر جنریٹر تیار کیا گیا ہے، چارج کنٹرولر بھی مقامی سطح پر تیار کرلیا گیا ہے جس سے ونڈ انرجی کی لاگت کو کم کرنے میں نمایاں مدد ملی ہے۔

مقبول خبریں